مذاکرات میں پاکستان اور حریت کی قیادت کی شمولیت ناگزیر،عمر عبداللہ

مذاکرات میں پاکستان اور حریت کی قیادت کی شمولیت ناگزیر،عمر عبداللہ

سرینگر(اے این این)نیشنل کانفرنس کار گزار صدر اور سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے نئی دلی سے کہا ہے کہ وہ اپنی روایتی ہٹ دھرمی کے موقف کو ترک کرکے کشمیر مسلہ کے لئے اسکے متعلقین سے بات چیت شروع کرے۔عمر نے نئی دلی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اسے مفاہمتی اور انسانیت دوست کی وہی پالیسی اختیار کرنی چاہیے جو اٹل بہاری واجپائی نے اختیار کی تھی۔انکا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت کشمیر کے سیاسی مسلے کو امن و قانون اور دیگر میکانزم سے نہیں دیکھ سکتی۔انہوں نے کہا کہ حریت کا نفرنس کی بھی ایک پہچان ہے اور ان سے بات چیت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہو نا چاہیے ۔عمر عبداللہ نے کپوارہ میں پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پارٹی کا موقف یہ ہے مسئلہ کا حل بات چیت میں مضمر ہے اور اس میںآزادی پسندوں کو بھی شامل کیا جائے ۔عمر عبد اللہ نے کہا کہ رشتہ بدل سکتے ہیں لیکن پڑوسی نہیں بدل سکتے ۔انہو ں نے کہا کہ پاکستان ہمار ا پڑوسی تھا ، ہے اور رہے گا۔انہو ں نے کہ ہندوستان مسئلہ کشمیر کا حل نکالنے کے لئے پاکستان سے بات چیت کا عمل فوری طور شروع کرے کیونکہ پاکستان کے ساتھ تناؤ کی صورت میں ہندوستان کو زیادہ فائدہ ہے۔

لیکن اس کا خمیازہ کشمیریو ں کو بھگتنا پڑتا ہے۔عمر عبداللہ نے کہا اس ریاست نے گزشتہ 25سالو ں سے بندوق کااثر دیکھا اور جو بچے یہا ں کے میدانو ں میں کرکٹ کھیلتے، وہا ں قبرستان آ باد ہوگئے ہیں اور یہ خون خرابہ بند ہو نا چایئے

مزید : عالمی منظر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...