جیفری بائیکاٹ نے عمران خان کو اپنی عالمی ٹیم کا کپتان چن لیا

جیفری بائیکاٹ نے عمران خان کو اپنی عالمی ٹیم کا کپتان چن لیا

لندن (اے این این)انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق عظیم کھلاڑی جیفری بائیکاٹ نے اپنی بہترین عالمی ٹیم میں عمران خان کو کپتان منتخب کرلیا ہے جبکہ ہندوستان کے کسی کھلاڑی کو اس فہرست میں جگہ نہیں دی ہے۔ہندوستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہندوستان میں موجود جیفری بائیکاٹ کو ممبئی میں ایک نجی محفل میں اپنی پسندیدہ عالمی الیون منتخب کرنے کو کہا گیا۔بائیکاٹ نے اپنے پسندیدگی پربات کرتے ہوئے کہا کہ 'میں آپ کو خوش کرنے کیلئیکسی ہندوستانی کھلاڑی کو منتخب نہیں کرسکتا'۔انگلینڈ کے سابق کرکٹر نے سچن ٹنڈولکر اور سنیل گواسکر کا نام لے کر نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ جس دور میں وہ کھیل رہے تھے اس وقت وکٹیں بیٹنگ کے لیے بہت بہتر ہوتی تھیں لیکن انھوں نے دونوں کھلاڑیوں کو اپنی ٹیم میں شامل کرنے سے انکار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ 'میں اس ٹیم میں اپنے آپ کو شامل نہیں کرسکتا، گواسکر شاندار کھلاڑی اور دوست تھا تو کیا میں انھیں گریس اور ہوبز پر ترجیح دے کر شامل کرسکتا ہوں۔جیفری بائیکاٹ کی ٹیم میں انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے ولیم گلبرٹ گریس اور جیک ہوبز اوپنر کی حیثیت سے شامل ہیں، تیسرے نمبر پر سرڈونلڈ بریڈ مین اور چوتھے نمبر پر ویسٹ انڈیز کے جارج ہیڈلی کا نام ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 'جارج ہیڈلی صرف 20 کے قریب میچز کھیل سکے تھے لیکن انھیں 'دی بلیک بریڈمین' کہا جاتا تھا اور انھوں نے اس وقت کھیلا جب ویسٹ انڈیز اچھی کارکردگی نہیں دکھا رہی تھی۔ویسٹ انڈیز کے سر وی وی رچرڈز اور سر گیری سوبرز بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

بائیکاٹ نے موجودہ کھلاڑیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 'لوگ اس دور کے کھلاڑیوں کو منتخب کرتے ہیں، جو ہمیں نظر آتا ہے اس کوہم اچھا نہیں کہہ سکتے، یہ کہنا بہت آسان ہے کہ کنگ سدا زندہ رہے، کنگ مرگیا ہے، ہوسکتا ہے آج کے نوجوان سچن ٹنڈولکر کو کھیلتا نہیں دیکھ پائیں لیکن ہوسکتا ہے وہ یہ سوچیں کہ کیا وہ کوہلی سے واقعی بہتر تھا'۔پاکستان کو 1992 ورلڈ کپ میں فتح دلانے والے سابق چمپیئن کپتان عمران خان کو بائیکاٹ نے اپنی ٹیم کا کپتان چن لیا ہے جس پر ان کا کہنا ہے کہ 'کیونکہ وہ مضبوط تھا اور کھلاڑیوں پر گرفت رکھ سکتا تھا'۔بائیکاٹ نے کہا کہ 'کپیل دیو ایک شاندار بالر تھا اسی طرح بوتھم بھی تھا لیکن میں انھیں سوبرز پر ترجیح نہیں دے سکتا اور اگر آپ مجھ سے اچھے کی توقع کرتے ہیں کیونکہ میں ہندوستان میں ہوں تو پانچ انڈین کھلاڑیوں کو شامل کروں لیکن میں ایسا نہیں ہوں۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی