محکمہ انہار سنٹرل سٹور ڈویثرن ملازمین کا ملحقہ جگہ پر گھر بنانے کا مطالبہ

محکمہ انہار سنٹرل سٹور ڈویثرن ملازمین کا ملحقہ جگہ پر گھر بنانے کا مطالبہ

 لاہور(بلال چوہدری)محکمہ انہار مغلپورہ سنٹرل سٹورز ڈویثرن میں کام کرنے والے 150ملازمین کو افسران نے مبینہ طور پر بے گھر کرنے کی ٹھان لی ،چوبچہ انڈر پاس کینال بینک روڈ کی تعمیر کی زد میں آنے والی سنٹرل سٹورز کی بلڈنگز کو ملحقہ خالی اراضی پر تعمیر نو کرنے کی بجائے شیخوپورہ میں شفٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ۔پاسبان یونین محکمہ انہار کے ملازمین نے افسران بالا کی ہٹ دھرمی اور نا مناسب حکمت عملی کے خلاف پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاج کرنے کی کال دے دی۔ ۔تفصیلات کے مطابق کینال بینک روڈ پر چوبچہ پھاٹک کے ساتھ محکمہ انہار کے سنٹرل سٹورز موجود ہیں جہاں سے پورے پنجاب میں میٹریل سپلائی کیا جاتا ہے ۔سٹورز میں 7کروڑ سے زائد مالیت کا سامان ہر وقت موجود رہتا ہے ۔بلڈنگ کو 1947میں قائم کیا گیا تھا جس کے ساتھ 22سرونٹ کوارٹرز اور 5دفتری کمرے بھی شامل ہیں ۔نمائندہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے سٹور میں کام کرنے والے ملازمین امجد رحمان ،محمد اکرم ،سردار جاوید اختر ،محمد اشفاق حسین ،راحیل انجم ،امیر حمزہ ،خالد بھٹی اور ایپکا کے عہدیدار طاہر احمد ،محمد پرویز ،بشیر احمد اور حاجی خالد محمود بھٹی وغیرہ نے بتایا کہ سنٹرل سٹورز ڈویثرن پنجاب میں محکمہ انہار کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس کی بلڈنگ کی مالیت 5کروڑ جبکہ کوارٹرز کی مالیت ایک کروڑ ہے ۔ایل ڈی اے کی جانب سے چوبچہ پھاٹک پر انڈر پا س کی تعمیر کے منصوبہ کے بعد سٹورز کی عمارت کا ایک بڑا حصہ اور 11کوارٹرز اس کی زد میں آ رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عمارت کے پیچھے ایک وسیع جگہ ان کی تعمیر نو کرنے کے لئے موجود ہے اسی طرح سے کوارٹرز کے ساتھ بھی محکمہ ریلوے کی ایک وسیع جگہ موجود ہے جہاں پر معمولی خرچہ کر کے تعمیر نو کی جا سکتی ہے لیکن افسران نے مبینہ کرپشن اور شفٹنگ کے دوران سامان کو خرد برد کرنے کی نیت سے سٹورز کو ٹیوب ویل ڈویثرن شیخوپورہ میں شفٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں پر شفٹنگ کے لئے ہی 23لاکھ 69ہزار 956روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے اس کے علاوہ سرونٹ کوارٹرز میں رہائش پذیر 150ملازمین کو بے گھر کر دیا جائے گا اور انہیں یا تو شیخوپورہ اپنی فیملیز کے ساتھ ہجرت کرنا پڑے گی یا پھر ہر روز شیخوپورہ نوکری کے لئے جانا پڑے گا ۔ذرائع کے مطابق اس حوالے سے منتقلی کے اخراجات کی رپورٹ سپریٹنڈنٹ انجینئر محمد اشرف سندھو اورسی ای طاہر انجم نے ایکسین چوہدری شفیق احمد کو دے دی ہے ۔پاسبان یونین کے رہنماؤں اور سٹورز میں کام کرنے والے ملازمین نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سنٹرل سٹورز مغلپورہ میں کام کرنے والے 150ملازمین زیادہ تر درجہ چہارم سے تعلق رکھتے ہیں اور افسران بالا محض سامان کی خرد برد کے لئے سٹور کے سامان کو شیخوپورہ میں منتقل کرنا چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سٹورز کو گرانے کے لئے ایل ڈی اے کو NOCدینے سے پہلے سٹورز سے ملحقہ خالی جگہ پر تعمیر نو کے لئے درخواست چند ماہ قبل دی گئی تھی لیکن اس حوالے سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے ۔اسٹاک ہولڈرز کی جانب سے اس حوالے سے متعدد بار نشاندہی کے باوجود افسران کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی اور وہ ملازمین کو بے گھر کر کے انہیں شیخوپورہ میں منتقل کرنے کے لئے بضد ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف انہیں مشکلات کا سامان کرنا پڑے کا بلکہ ان کے اہل خانہ اور بچوں کو بھی در بدر کی ٹھوکریں کھانی پڑیں گیں ۔پاسبان یونین اور ایپکا کے رہنماؤں نے کہا کہ اگر یہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو ہم پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاج کریں گے اور دھرنا دیں گے ۔وزیر اعلیٰ پنجاب اور سیکریٹری ایری گیشن سے درخواست ہے کہ اس معاملہ کا نوٹس لیں ۔اس حوالے سے ایکسین چوہدری شفیق احمد کا کہنا ہے کہ انہیں سٹورز کے سامان کی منتقلی کے حوالے سے رپورٹ موصول ہوئی ہے ۔سرونٹ کوارٹرز اور سٹورز کی تعمیر نوکے لئے محکمہ ریلوے سے اراضی لینے کے لئے بات کی جا رہی ہے اگر سٹورز کو منتقل کیا گیا تو وہ عارضی ہو گا ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1