سترہ دسمبر

سترہ دسمبر
سترہ دسمبر

  

بھولے نے پڑھے لکھے انداز میں تھڑے والا طنز کیا، کہا، ’کراچی اور لاہور میں دو تقاریب ہوئیں جن میں صدر مملکت اور وزیر اعظم نے الگ الگ شرکت کی ، واہ واہ! یہ تقریبات تعمیر و ترقی کے سفر میں بہت اہم تھیں ،ایک مانگے کا فانوس لٹکاکراور ایک پارک بناکر قوم نے واقعی بہت ترقی کی ہے‘ میں نے بھولے کو جواب دیا، بھولے، سترہ دسمبر، ناکامی اور ہزیمت سے بھرے سولہ دسمبر سے جڑا اگلا دن ہے اور مجھے سولہ دسمبر جتنا برا لگتا ہے سترہ دسمبر اتنا ہی اچھا لگا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ صدر مملکت بولتے نہیں، چُپ رہتے ہیں، ایسی باتیں کہنے والوں نے کیا بولتے ہوئے صدر نہیں دیکھے، جو زبان ہلاتے تھے اورعوام کی نمائندہ اسمبلی کو گھر بھیج دیتے تھے، صدر اورگورنروں کے عہدے بولنے کے لئے نہیں ہوتے، پاکستان کا متفقہ آئین انہیں ایک علامتی کردار دیتا ہے، وہ بات کرتے ہیں تو پوری ریاست کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم ان علامتی عہدوں کو سیاسی طور پر متحرک بنانے کی بات کریں گے ، ماضی کی طرح طاقت کے دو مراکز قائم کریں گے تو اہل علم اور اہل عقل اس کا ماتم کریں گے۔

بات سولہ دسمبر سے جڑے سترہ دسمبر کی ہے، سولہ دسمبر یوم سقوط ڈھاکہ ہے، سولہ دسمبر اے پی ایس کے معصوم طالب علموں کو بے دردی کے ساتھ جان سے ماردینے کاسیاہ دن بھی ہے مگر سترہ دسمبر کو ہمارے صدر مملکت کراچی میں بابائے قوم کے مزار پر حاضر تھے، وہاں ہمارے عظیم دوست چین کی طرف سے مزار قائد کے لئے نئے طلائی فانوس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کر رہے تھے، صدر مملکت کا عہدہ ریاستی عہدوں میں سب سے اونچا ہے، ان کی شرکت قائد کے مزار اور چین کی دوستی دونوں ہی کے شایان شاں تھی،ہمارے قائد کے مزار کے لئے چھیالیس برس پہلے چواین لائی نے ہی فانوس کا تحفہ بھیجا تھا اور اب چینی دوستوں کی طرف سے اسی تحفے کا اعادہ کیا گیا ہے،نئے فانوس کا عرض چھبیس میٹراور وزن ایک ٹن سے کچھ زیادہ ہے، اس میں آٹھ کلو سونا بھی استعمال کیا گیا ہے، یہ چین کی طرف سے پاکستانی قوم کے لئے محبت کا ایک شاندار مظہر ہے ۔میں نے کچھ عاقبت نااندیش بھولوں کو اس تقریب کا بھی مذاق اڑاتے دیکھا، طنز کرتے دیکھا، قائد کے مزار پر ہونے والی تقریب کے ساتھ لاہور میں گریٹر اقبال پارک کی افتتاحی تقریب کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا، بھولوں کوتنقید کی راہ دکھانے والے وہ ہیں جو ہوائی جہازوں میں اڑتے پھرتے ہیں ، بیرون ملک جاتے ہیں توفائیو سٹار ہوٹلوں میں ٹھہرتے ہیں ، وہاں کی بہت بڑی اور بہت ہی مہنگی سیرگاہوں ہی نہیں بلکہ جوئے خانوں میں ڈالر لٹاتے پھرتے ہیں ، انہیں وہ سیرگاہیں اور جوئے خانے ترقی کے مظاہر لگتے ہیں مگر جب پاکستان کی ڈویلپمنٹ کاسافٹ امیج ابھرنے لگتا ہے تو ان کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگتے ہیں۔ جب سڑکیں بنتی ہیں تو انہیں سڑکوں سے تکلیف ہوتی ہے مگر جب مزار قائد پر دوست ملک کی طرف سے دیا ہوا فانوس لٹکایا جائے یا لاہور جیسے تاریخی شہر میں پاکستان کے مصور اور امت کے عظیم شاعر اور دانشور کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ان کے نام سے منسوب گریٹر پارک کا افتتاح کیا جاتا ہے تو انہیں سڑکیں یاد آنے لگتی ہیں، ہسپتال یاد آنے لگتے ہیں، تعلیمی ادارے یادآنے لگتے ہیں جبکہ ان کی اپنی ترقی کے وژن کا مظہر ان کی وہ رہائش گاہیں ہیں جن میں جنگل تک شامل ہیں اور جن کے بیرونی دروازے سے اندرونی گھر تک پیدل پہنچنابھی اچھا خاصا تھکا دینے والا کام ہے۔ آئیڈیل ازم کے ماروں کے نزدیک سڑکیں اور پارک صرف اور صرف احتجاجی سرگرمیوں کے لئے ہوتے ہیں، ان کے جلسوں ، جلوسوں اور دھرنوں کے لئے ہوتے ہیں، پھر وہاں جو گند مچایا جاتا ہے اسے صاف کرنے کے لئے اداروں کو خصوصی مہمیں چلانا پڑتی ہیں۔

صدر مملکت ممنون حسین سترہ دسمبر کو قائد کے حضورحاضر تھے اور وزیراعظم محمد نواز شریف لاہور میں علامہ اقبال کے حضور، ریاستی عہدے داروں نے دونوں عظیم شخصیات کے سامنے حاضری کے لئے ایک ہی دن چنا جو سولہ دسمبر سے اگلا دن تھا، اسی دن کو بھکر میں قطر کے حکمرانوں کی طرف سے ایک سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال کی تعمیر کے سنگ بنیاد کے لئے چنا گیا، وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کے ساتھ ساتھ قطر کے شاہی خاندان کے لوگ بھی اس تقریب میں موجود تھے۔ پانامہ لیکس کے سیاسی پس منظر میں قطر بہت زیادہ ڈسکس ہو رہا ہے اور عرب ریاستوں کے شہزادوں کو تلور کے شکار کی اجازت بہت زیادہ زیر بحث لائی جا رہی ہے ۔ میں ذاتی طور پر غیر ضروری شکار کے حق میں نہیں مگر دوسری طرف تلور کے شکار کی اجازت ہماری خارجہ پالیسی میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ یہاں میں نے روایتی تنقید بازوں کی وہ تصویریں بھی دیکھی ہیں جن میں وہ ایک گھنٹے میں ساٹھ ، ساٹھ پرندے شکار کر کے ان کے ساتھ فخر سے کھڑے نظر آتے ہیں۔ میں نے ان اینکروں کو پاکستان کی عزت کویہ کہہ کر پاوں تلے روندتے ہوئے دیکھا ہے جو کہتے ہیں کہ انہیں عرب مہمانوں کے خیموں سے چیخیں سنائی دیتی ہیں، نجانے یہ ان خیموں کی طنابیں تھامے کیوں کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ اینکر خود کوعالم دین بھی ظاہر کرتے ہیں اور اپنے پروگراموں میں مدعو لڑکیوں کو اپنی بہنیں سمجھنے کی بجائے ان پر بے شرمی کے ساتھ رالیں ٹپکاتے اور واضح طورپر بہکاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔عرب حکمرانوں کی پاکستان کے صحراوں میں شکار کی اجازت نے رحیم یار خان اور بہاولپور سمیت بہت سارے علاقوں میں تعمیر و ترقی کی راہیں کھولی ہیں۔ میں نے پاکستان کے ایک دوسر ے عظیم دوست ترکی کی طرف سے مظفر گڑھ کے قریب بائی پاس پر وہ سٹیٹ آٖف دی آرٹ ہسپتال بھی دیکھا ہے جس میں ملتان تک سے لوگ علاج کروانے کے لئے آتے ہیں۔ یہ ہسپتال ترکی کے صدر طیب اردگان کی بہن کی طرف سے چلائی جانے والی این جی او نے تعمیر کیا ہے اور اب قطر کی جاسم چیریٹی فاؤنڈیشن کی طرف سے چھیاسی کروڑ روپوں سے پچاس بستروں کا ہسپتال تحفے کے طور پر دیا جا رہا ہے۔ تکلف برطرف! جو لوگ تلور وں کے محافظ بنے پھرتے ہیں کیا پاکستان اور پاکستانیوں کے مفادات کے بارے سوچنے کی زحمت کریں گے۔شکار یقینی طور پر نہ تو غیر اسلامی فعل ہے اور نہ ہی غیر روایتی، اسے مفادات سے بھری دنیا میں پاکستان اور پاکستانیوں کے مفادات کے لئے استعمال کرنا ہرگز قابل اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ اس وقت قطر میں ا یک لاکھ پاکستانی روزگار کے سلسلے میں موجود ہیں، پاکستان نے قطر میں ہونے والے فٹ بال کے ورلڈ کپ کے لئے بھی تعاون کی پیش کش کی ہے اور اگر یہ تعاون بڑھتا ہے تواس کے نتیجے میں مزید ہزاروں پاکستانیوں کو روزگار ملے گا۔ سترہ دسمبر کو ہی وزیراعلیٰ پنجاب نے بھکر کی تحصیل منکیرہ میں دانش سکول کی جلد تعمیر کے لئے بھی فنڈز فراہم کرنے کا حکم دیا۔

سولہ دسمبر مایوسی اور ناامیدی کے اندھیرے پھیلانے والا دن ہے اور میں نے سترہ دسمبر کو امید اور کامیابی کی ایک کرن کے طور پر دیکھا ہے،مجھے واثق امید ہے کہ یہ چھوٹی چھوٹی کرنیں ماضی کے ان اندھیروں کو مٹا سکتی ہیں جنہوں نے ایک خوشحال ،ترقی یافتہ، پرامن اور محبت کرنے والے پاکستان کے چہرے کو اپنے اندر چھپا رکھا ہے۔بڑے بڑے برج گراتے ، خاک اڑاتے اور خون کی ندیاں بہاتے ہوئے جس انقلاب کی نوید دی جاتی ہے وہ تو محض ایک دھوکا ہے۔ ہم نے جس انقلاب کی منزل کی طرف بڑھنا ہے وہ امن ، جمہوریت اور انتخابات کے راستے پرہی موجود ہے۔مجھے غیرت اور بے غیرتی بارے بڑی بڑی کتابی باتیں نہیں آتیں، میں اس غیرت مند کی مثال نہیں دے سکتا جس نے عزت اور غیرت کے نام پر مخالف کر قتل کر دیا اور پھر اس کی ماں، بیوی اور بیٹیاں سڑکوں پر بے عزت ہوتی پھریں،مجھے بس اتنا ہی پتا ہے کہ ہر و ہ قوم جو معاشی طور پرطاقت ور ہوتی ہے وہی غیرت کے تقاضے پوری کر سکتی ہے ۔میری نظر میں غربت اور کمزوری سے بڑی بے غیرتی اور بے شرمی کوئی نہیں ہے جہاں غریب کی جور و کو ہر کوئی بھابھی بنائے پھرتا ہے۔ آج سرسید احمد خان کے حقیقت پسندانہ فلسفے کو کتابوں میں پڑھایا جاتا ہے مگر ایک دور تھا کہ تلور بچانے والے بھولے انہیں بھی کچھ ایسے ہی الفاظ سے یاد کیا کرتے تھے۔

مزید : کالم