تھانہ غازی آباد ، سٹریٹ کرائم اور ڈکیتی کی وارداتوں میں ٹاپ کرگیا ، شہریوں کا پولیس اہلکاروں پر لوٹ مار کا الزام

تھانہ غازی آباد ، سٹریٹ کرائم اور ڈکیتی کی وارداتوں میں ٹاپ کرگیا ، شہریوں ...

لاہور(بلال چوہدری)تھانہ غازی آباد کا علاقہ جرائم کا گڑھ ،سٹریٹ کرائم ،راہزنی اور ڈکیتی کی وارداتوں میں شہر کے دیگر تھانوں میں ٹاپ کر گیا ۔دو سال سے زائد عرصہ سے تعینات ایس ایچ او ،تھانیداروں اور ایک درجن کے قریب کار خاص اہلکاروں کی فوج متعدد بار تھانہ میں تعیناتی کے باوجود کرائم کی شرح میں کمی اور جرائم پیشہ افراد کے سامنے بے بس ہو کر رہ گئی۔علاقہ کے مکین اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنے لگے ۔"پاکستان "کی جانب سے سروے کے موقع پر پولیس کی جانب سے جرائم پیشہ افراد کے ساتھ گٹھ جوڑ اور مبینہ سر پرستی پر شریف شہریوں نے شکایات کے انبار لگا دئے۔ اس موقع پر محمد جنید نے کہا کہ اس تھانہ کاایس ایچ او عتیق ڈوگر دو سال 3ماہ سے اس تھانہ میں تعینات ہے ۔چار تھانیداروں سمیت 12کے قریب کار خاص اہلکاروں نے پورے علاقے میں لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے اور کار خاص اہلکاروں کے چند روز قبل تبدیل ہو جانے کے باوجود وہ تھانہ میں براجمان اور جرائم پیشہ افراد کی سر پرستی کر رہے ہیں جبکہ ایس ایچ او تھانے جانے والے شریف شہریوں سے سختی کے اس انداز میں بات کرتا ہے کہ وہ فریاد لیکر دوبارہ تھانے کا رخ نہیں کرتا ہے ۔با اثر جرائم پیشہ افراد کی سر پرستی اور مبینہ گٹھ جوڑ سے تھانے میں ایک عام آدمی کی شنوائی نہ ہونے کے برابر ہے ۔جس کے باعث جہاں علاقہ کے مکین اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں وہاں اس تھانہ نے ڈکیتی ،راہزنی اور سٹریٹ کرائم کے واقعات میں دیگر تھانوں سے ٹاپ کر رکھا ہے ۔تھانہ کے سروے کے موقع پر اس بات کا بھی انکشاف ہواکہ تھانہ غازی آبادجرائم کا گڑھ بن گیا ہے اور فحاشی کے 12اڈے موجود ہیں ۔جواء مافیا کی بھی بھر مار ہے اور منشیات کے25 اڈے قائم ہیں جس کی وجہ سے کرائم کا گراف ریڈ لائن کراس کر گیا ہے۔ علاقے میں افسران کے نوٹس کے باوجود رواں سال ڈکیتی کی 66 ورداتیں رپورٹ ہو چکی ہیں جن میں سے صرف 29 شہری ہی مقدمہ درج کروانے کی جسارت کر پائے ہیں ۔ذرائع کے مطابق رواں سال دوران ڈکیتی 66 افراد سے کروڑوں روپے مالیت کے زیورات ،6 کاریں ،1 مزدا ٹرک،2 پک اپ وین ،1رکشہ ،21 موٹر سائیکل سمیت نقدی لوٹ لی گئی ہیں جن سے ریکوری کی صورت میں 2 موٹرسائیکل اور 24 ہزارروپے برآمد کروائے جا سکے ہیں،جوغازی آباد پولیس کا طر ہ امتیاز ہے۔رواں سال 1ہزار کے قریب ایف آئی آرز کے اندراج کے باوجود 217کیس اب تک زیرتفتیش ہیں اورانوسٹی گیشن پولیس نے 209 مقدمات کو جعلی قرار دیکر خا رج کروایا ہے۔اہل علاقہ کے مطابق منشیات کے عادی افراد رات کو گاڑیوں کے شیشے اُتارتے ہیں ۔ غازی آباد پولیس کے علاقہ میں آنے والے اہم مقامات جیسے غازی آباد بازار ،60فٹ روڈ،بٹ چوک ،نیا پل ،امیر الدین پارک اوربھائی بھائی سٹریٹ وغیرہ میں منشیات کے عادی افراد کی بڑی تعدادموجود ہے۔ رات ہوتے ہی یہ افراد دکانوں کے باہر پڑی اشیاء بورڈ وغیرہ اُٹھا کررفو چکر ہو جاتے ہیں جبکہ ان سے مساجد کے باہر لگے امدادی بکس تک غیرمحفوظ ہیں۔ شہریوں کے مطابق غازی آباد کی حدود میں پولیس کے گشت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ علاقہ میں موجود اہلکار سرشام ناکے لگا کر شہریوں کو لوٹنے میں مصروف رہتے ہیں جبکہ علاقہ مکینوں کو ڈکیتوں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اہلکار پیدل چلنے والوں اور موٹر سائیکلوں پر کام سے گھروں کو واپس آنے والے افرادا کے لئے درد سر بن چکے ہیں ۔علاقہ مکینوں کے مطابق اعلی افسران کو بار باردرخواستیں دینے کے باوجود ان کی جان بخشی نہیں ہو سکی ہے۔ دوسری طرف تاجروں نے شکایات کے انبار لگا دئیے تاجروں محمد دین ہوٹل والا ،سردار تکہ کباب والا ،اسلم سرئیے والا ، رفیق ،کامران ،رضوان سمیت علاقہ دیگر کا کہنا تھا کہ پولیس ملازمین علاقے میں صرف اس وقت آتے ہیں جب انہوں نے ہوٹلوں سے فری روٹی کھانی ہوتی ہے۔ ایس ایچ او غازی آباد عتیق ڈوگر ایک اعلی پولیس افسر کی سر پر ستی کی وجہ سے دو سال تین ماہ سے ایک ہی تھانہ میں تعینات ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ تھانہ میں تعینات ہونے والے پولیس کے کانسٹیبل تک اس کی امبینہ ایماء پرجرائم پیشہ افراد کی سر پرستی کرتے ہے جبکہ ایس ایچ او غازی آباد نے چار کانسٹیبل اور ایک پرائیوٹ کار خاص رکھا ہوا ہے جو کہ اس کی منتھلی کے ساتھ ساتھ تھا نہ میں روز انہ کی بنیاد پرآنے والے مقد مات میں مبینہ دیہاڑی لگاتے ہے ۔اس بارے ایس ایچ او غازی آباد کا موقف لینے کے لئے اس کے ذاتی نمبر پر فون کیا گیا لیکن اس نے فون نہیں اٹھایا البتہ ایس پی کینٹ محمد طاہر کے مطابق تھانے کے ایک تھانیدار امجد خان سمیت 7اہلکاروں کو تبدیل کر دیا گیا ہے ۔علاقہ میں کرائم کا گراف پچھلے دو سال کی نسبت 40 فیصد کم ہے لیکن پھر بھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے جرائم پیشہ افراد کو قانون کے شکنجے میں لیا جائے گا ۔ تمام ڈویثرن ایس ایچ او زکو جرائم پیشہ اور ریکارڈ یافتہ افراد کو گرفتار کرنے کی ہدایت دی ہے جبکہ کسی بھی شہری کا کوئی جائز کام اگر کسی بھی تھانہ میں نہیں ہو رہا وہ مجھے میر ے آٖفس میں ملے اس کا کام فوری طور پر کروائے جائے گا ۔

مزید : علاقائی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...