رواں سال محکمہ تعلیم فنڈزسے محروم رہا، اساتذہ کے احتجاج سے نظام تعلیم متاثر ہوا

رواں سال محکمہ تعلیم فنڈزسے محروم رہا، اساتذہ کے احتجاج سے نظام تعلیم متاثر ...

لاہور( لیاقت کھرل) سال 2016ء میں محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام کی مبینہ چشم پوشی کے باعث صوبے بھر کے سرکاری سکول اربوں روپے کے این ایس بی اور دیگر سالانہ فنڈز سے محروم، سرکاری سکولز پیف اور دانش اتھارٹی کے حوالے کرنے سے انرولمنٹ مہم بری طرح متاثر، ڈراپ آؤٹ کی شرح تیز رہی، ایف ٹی ایف اور دیگر فنڈز کے استعمال میں بے ضابطگیوں اور بے قائدگیوں کی شکایات نے زور پکڑے رکھاہے، پیک اور سیکنڈری کے امتحانات میں نااہلی پر سکولوں کے ہیڈ ماسٹروں، ہیڈ مسٹریس اور کلاس ٹیچرو کو محکمانہ سزاؤں کا سامنا رہا، سینکڑوں سکولز چار دیواریوں سے محروم اور عمارتوں کی مرمت کے منصوبے کھٹائی کاشکار رہے۔ ’’ پڑھوپنجاب بڑھو پنجاب‘‘ کا نعرہ فلاپ رہا۔ ’’پاکستان‘‘ کو محکمہ سکولز ایجوکیشن کی جانب سے سال 2016ء میں صوبہ بھر کے 53 ہزار سے زائد سرکاری سکولوں میں تعلیمی معیار، انرولمنٹ اور ڈراپ آؤٹ سمیت سکولوں میں ترقیاتی فنڈز کے استعمال سمیت پیک اور سیکنڈری کے امتحانات کے حوالے سے ملنے والی معلومات اور اعدادوشمار کے مطابق محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام نے سال 2016ء میں سرکاری سکولوں میں تعلیم کے معیار کی بہتری کے لئے متعدد منصوبوں اور این ایس بی فنڈز سمیت مختلف گرانٹس کو دبائے رکھا جبکہ فروغ تعلیم فنڈز کے استعمال میں پائی جانے والی بے ضابطگیوں اور بے قائدگیوں پر قابو نہ پائے جانے کے باعث لوٹ مار کا بازار گرم رہا ہے۔ سال 2016ء میں 5500 سرکاری سکولوں کو پیف کے حوالے اور 30 بڑے سکولوں کو دانش اتھارٹی کے حوالے کرنے سے سکول کے ہیڈ ماسٹروں اور کلاس ٹیچروں میں بددلی پھیلی رہی جس سے انرولمنٹ مہم ناکام رہی اور سرکاری سکولوں میں ایک کروڑ 20 لاکھ کے قریب زیر تعلیم بچوں کو مناسب توجہ نہ ملنے سے ڈراپ آؤٹ کی شرح میں اضافہ رہا اور سرکاری سکولوں کو خیرباد کہنے کے باعث سکولوں میں بچوں کی تعداد 80 سے 90 لاکھ ریکارڈ کی گئی۔ سال 2016ء میں پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب کا نعرہ کامیاب نہ ہو سکا جبکہ سکولوں میں بچوں پر تشدد کے واقعات میں ضافہ رہا ہے اور اس میں ضلعی سربراہوں ای ڈی اوز اور ڈی ای اوز کے خلاف محکمانہ کارروائی سے بھی یہ کاروائیاں نہ رُک سکیں جس سے ’’ مار نہیں پیار‘‘ کے نعرہ میں بھی کمزوری پائی گئی۔ اسی طرح محکمہ سکولز ایجوکیشن اور اساتذہ کے درمیان پائی جانے والی سردجنگ نے طول پکڑے رکھا جس سے پانچویں اور آٹھویں پیک اور نویں و دسویں سیکنڈری کے امتحانات میں بچے کوئی نمایاں پوزیشن حاصل نہ کر سکے جس کی بنا پر سکولوں کے ہیڈ ماسٹرز، ہیڈ مسٹریس اور کلاس ٹیچروں کے دور دراز اضلاع میں تبادلے کیے گئے جبکہ پیڈا ایکٹ کے تحت اساتذہ کو نوکریوں سے معطلی اور برخاستگی سے محکمہ تعلیم کے حکام تعلیمی معیار میں بہتری نہ لا سکے ہیں اور اساتذہ کے خلاف تبادلوں اور ترقیوں پر پابندی سے 50 ہزار سے زائد اساتذہ متاثر ہوئے، جبکہ 25 ہزار سے زائد اساتذہ نے محکمہ تعلیم کو مجبوراً خبرآباد کہہ دیا جس سے سکولوں میں اساتذہ کی شدید کمی رہی ہے۔ اس کے ساتھ سال 2016ء میں پے سکیلوں کی اپ گریڈیشن اور ترقیاں نہ ہونے سمیت بلاوجہ محکمانہ سزاؤں کے خلاف سال بھر سڑکوں پر رہے۔ اس حوالے سے سیکرٹری تعلیم عبدالجبار شاہین سے بات کرنے پر انہوں نے بتایا کہ این ایس بی فنڈز بعض محکمانہ پیچیدگیوں کے باعث جاری نہیں کیا ۔ انرولمنٹ بہتر رہی، ڈراپ آؤٹ میں پانچویں اور آٹھویں تک مسائل کا سامنا رہا۔ تاہم پیک اور سیکنڈری کے امتحانات گزشتہ سال کی نسبت مثالی رہے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر