پڑھے لکھے کشمیری نوجوانوں کی جہاد میں شمولیت کے رجحان سے حریت قیادت اور والدین پریشان: بی بی سی

پڑھے لکھے کشمیری نوجوانوں کی جہاد میں شمولیت کے رجحان سے حریت قیادت اور ...

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک ) مقبوضہ کشمیر میں پڑھے لکھے نوجوانوں کی جہاد میں شمولیت کا رحجان زور پکڑ گیا،حریت قیادت اور والدین پریشان، بیشتر بچے وہ ہیں جو 2008 اور 2010 کی تحریک کے دوران اور اس کے بعد مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز کی زیادتیوں کا نشانہ بنے تھے۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مظاہروں اور احتجاجوں پر پابندی عائد ہے۔ حریت رہنما اپنے گھروں میں نظر بند ہیں۔ حالیہ مہینوں کی شورش کے بعد ایک بار پھر وادی کے طول و عرض میں نوے اور دو ہزار کے عشروں کی طرح جگہ جگہ سکیورٹی فورسز نظر آتی ہیں۔کشمیر میں موسم سرما شروع ہو چکا ہے۔ حکومت کے دفاتر جموں منتقل ہو چکے ہیں۔ شدید سردی کے اس موسم میں وادی میں عموما یہ وقت پرسکون ہوتا ہے۔ لیکن اس بار گزرے ہوئے دنوں کے پرتشدد واقعات کی یادیں لوگوں کے ذہنوں میں ابھی تازہ ہیں۔ فضا میں افسردگی کا احساس بسا ہوا ہے۔اضطراب اور بے چینی کے اس ماحول میں مقامی مجاہدین کی ایک نئی لہر شروع ہوئی ہے۔پچھلے دنوں بیج بہاڑہ قصبے میں ایک مبینہ مجاہد باسط رسول ڈار سکیورٹی فورسز سے تصادم میں مارا گیا۔ باسط انجینیرنگ کا طالب علم تھا اور اس نے برہان وانی کی ہلاکت کے کچھ مہینے بعد ہی جہاد کا راستہ اختیار کیا تھا۔ باسط کی طرح انجینیرنگ اور دوسرے شعبوں کے کئی اور طالب علم عسکریت کے راستے پر چلے اور مارے گئے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس برس 150 مجاہدین سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے۔ وادی میںآزادی پسندی کی یہ ایک نئی لہر ہے۔اس نئی لہر میں ایک بڑی تعداد ایسے نوجوانوں کی ہے جو تعلیم یافتہ ہیں اور جو یہیں کے مقامی رہائشی ہیں۔1980 اور 1990 کے عشرے کے بر عکس شدت پسندی کی یہ نوعیت خالصتا مقامی ہے۔ نوجوانوں کی نئی نسل اس وقت شدید بے چینی اور اضطراب سے گزر رہی ہے۔ وادی کے مختلف مقامات سے بچوں کے اچانک غائب ہوجانے کی خبریں اکثر آتی رہتی ہیں۔ والدین بے بس ہیں۔آزادی پسند رہنماؤں کو بھی اس صورتحال پر کافی تشویش ہے۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...