بورڈ آف ریونیو کی غفلت، ضلع کچہری میں 18سال قبل جلنے والا ریکارڈ دوبارہ مرتب نہ ہو سکا

بورڈ آف ریونیو کی غفلت، ضلع کچہری میں 18سال قبل جلنے والا ریکارڈ دوبارہ مرتب ...

لاہور(اپنے نمائندہ سے)بورڈ آف ریونیو حکام کی لاپرواہی اور مجرمانہ غفلت کے باعث ضلع کچہری لاہور میں 18سال قبل لگنے والی آگ سے جلنے والے ریکارڈ کو دوبارہ مرتب کرنے کے لئے کوئی حکمت عملی وضع نہ کی جاسکی۔جعلسازوں کی جانب سے پی ٹی ون جعلی رجسٹریوں کی بھر ما ر، محکمہ ایکسائز عملہ اور متعلقہ موضع جات کے پٹواریوں کی ملی بھگ سے پی ٹی ون رجسٹریاں تیار کرکے کرایہ داروں کو مالک بنوا دیا، ساندہ کلاں ،ساندہ خورد ،گلشن راوی،شیرا کوٹ ،نواں کوٹ،سمن آباد،بھاٹی گیٹ ،روای روڈ ،شاہدرہ،لوہاری گیٹ،موچی گیٹ کے رہائشی آج بھی جعلی رجسٹریوں کے باعث قبضہ مافیا کے ہاتھوں لٹی جائیداد کے حصول کے لئے دربدر،ضلع کچہری میں آگ لگی نہیں لگوائی گئی تھی جس کا سب سے زیادہ فائدہ قبضہ مافیا اور جعلسازوں نے اٹھایا ۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ مال حکام کی مجرمانہ غفلت کے باعث 1998 میں ضلع کچہر ی ریکارڈ روم کو حادثاتی یا مبینہ طور آگ سے ضائع ہونے والے اراضی ریکارڈ کو ترتیب دینے کی نہ تو کوشش کی گئی ہے اور نہ ہی اس حوالے متعلقہ موضع جات کے پٹواریوں سے نشاندہیوں کے ذریعے حقیقی مالکان اور دیگر وراثتی رقبہ جات کا ریکارڈ مرتب کیا گیا ہے جس کے باعث ان علاقوں میں دکانوں مکانوں اور دیگر تعمیرات میں بیٹھے ہوئے زیادہ تر کرائے داروں نے محکمہ ایکسائز سے پی ٹی ون بنوا کر اس کی جعلی رجسٹریاں بنوا دیں۔اس صورتحال کا سب سے زیادہ شکار ساندہ کلاں ،ساندہ خورد ،گلشن راوی،شیراکوٹ ،نواں کوٹ ،سمن آباد،بھاٹی گیٹ،راوی روڈ،شاہدرہ،لوہاری گیٹ،موچی گیٹ کے علاقے ہوئے،وثیقہ نویسوں اور محکمہ مال کے اہلکاروں نے مالی مفادات کے لئے نہ صرف اس وقت پی ٹی ون کو قبول کرکے رجسٹریاں پاس کروائیں بلکہ بعض موقع پرست پٹواری حضرات نے ریکارڈ کے ضائع ہونے کے معاملے کو بنیاد بنا کر اپنے پاس موجود اصل ریکارڈ میں بھی ٹمپرنگ کرکے انتقال درج کرتے ہوئے کرائے داران کو ہی مالکان ظاہر کر دیا ،آج اتنے سال گزر جانے کے باوجود جبکہ ریکارڈ ضلع کچہری سے کینٹ بھی منتقل ہو چکا ہے ابھی تک مکمل طور پر مرتب نہیں کیا جاسکا اور ابھی بھی لوگ مختلف کچہریوں میں اپنے حقوق کے لئے سالہا سال سے دھکے کھا رہے ہیں ۔محکمانہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت آگ لگی نہیں تھی بلکہ مبینہ طور پر احتجاج کو بنیاد کر لگوائی گئی تھی تاکہ گردونواح کے مختلف علاقوں میں واقع قیمتی اراضیوں پر قبضے کروائے جاسکیں ،جس کے لئے مکمل ریکارڈ روم کو جلوایا گیا جس کا خمیازہ آج بھی عوام بھگت رہی ہے اور جب تک یہ ریکارڈ درست نہ کیا گیا تب پی ٹی ون کی بنیاد پر کروائی جانے والی جعلی رجسٹریوں پر مبنی رقبہ جات کے کیسز عدالتوں میں یونہی چلتے رہیں گے اور ان عدالتوں میں بھی سالہا سال چلنے والے ان کیسز کے فیصلے نہ ہونے کی وجہ سے اصل مالکان مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں ۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...