’’امریکی جاہل بدمعاشوں کا ٹولہ ہیں‘‘صدام حسین کے تفتیش کے وقت الفاظ

’’امریکی جاہل بدمعاشوں کا ٹولہ ہیں‘‘صدام حسین کے تفتیش کے وقت الفاظ

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے جب عراق کے صدر صدام حسین کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کی تو انہوں نے تفتیش کاروں سے ایسی باتیں کہہ دی کہ وہاں موجود امریکی شرم سے پانی پانی ہو گئے۔ صدام حسین کی شناخت اور ان سے تفتیش کرنے والے سی آئی اے کے ایجنٹ جان نکسن نے ایک کتاب لکھی ہے جس میں انہوں نے اس تفتیش کی تفصیلات بیان کر دی ہیں۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق جان نکسن نے اپنی کتاب ’’ڈی بریفنگ دی پریزیڈنٹ: دی انٹیروگیشن آف صدام حسین‘‘ میں لکھا ہے کہ تو سب سے پہلے ان کی شناخت مقصود تھی، جو ان کی کلائی پر موجود دو خاندانی علامتوں، نچلے ہونٹ کے مخصوص زاوئیے اور ٹانگ پر گولی کے نشان سے ہوگئی۔ اس کے بعد میں نے ان سے مترجم کے ذریعے بات شروع کی۔ میں نے ان سے کہا کہ ’’میں تم سے کچھ سوال پوچھنا چاہتا ہوں اور تم سچ سچ ان کے جوابات دو گے، کیا تم سمجھ رہے ہو؟جواب میں صدام حسین نے سر ہلادیا۔ میں نے پہلا سوال پوچھا کہ ’’تم نے اپنے بیٹوں کو آخری بار زندہ کب دیکھا تھا؟‘‘ہم توقع کر رہے تھے کہ وہ ہٹ دھرمی دکھائیں گے لیکن انہوں نے جواب میں جو کہا اس سے ہمیں شدید دھچکا لگا۔ انہوں نے جواب دینے کی بجائے الٹے سوال داغے کہ ’’تم کون ہو؟ تم فوجی خفیہ ایجنسی سے ہو یا سول انٹیلی جنس سے؟ جواب دو، اپنی شناخت کراؤ۔‘‘ اس کے بعد صدام حسین نے گونج دار آواز میں کہا کہ ’’تم مجھ سے سیاست کے متعلق سوال کیوں نہیں پوچھتے ہو؟ میں تمہیں بہت اچھی طرح سیاست سکھا سکتا ہوں۔‘‘جب ان سے عراق کے تباہ کن ہتھیاروں کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ’’تم نے ایک ’غدار‘تلاش کیا جس نے تمہیں مجھ تک پہنچا دیا۔ کیا اور ایسا کوئی غدار نہیں ہے جو تمہیں ہمارے تباہ کن ہتھیاروں تک پہنچا دے؟‘‘ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ’’امریکی جاہل بدمعاشوں کا ایک ٹولہ ہیں، جو عراق کو نہیں سمجھتے اور اسے تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ عراق دہشت گرد قوم نہیں ہے، ہمارے اسامہ بن لادن کے ساتھ کوئی تعلقات نہیں ہیں، ہمارے پاس تباہ کن ہتھیار بھی نہیں ہیں اور ہم اپنے ہمسایوں کے لیے خطرہ بھی نہیں تھے، لیکن امریکی صدر(جارج ڈبلیو بش)کہتا ہے کہ عراق اپنے باپ پر حملہ کرنا چاہتا ہے اور اس کے پاس تباہ کن ہتھیار ہیں۔ امریکیوں میں سننے اور سمجھنے کے لیے درکار جرات اور جذبہ نہیں ہے۔‘‘پوری تفتیش کے دوران صدام حسین ہر سوال کا جواب پوری گھن گرج کے ساتھ دیتے رہے، تاہم ایک ایسا سوال آیا جس پر ان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔میل آن لائن کے مطابق یہ سوال صدام حسین کی بیٹیوں رغد(Raghid)اور رعناء (Rana)کے متعلق تھا۔ جان نکسن نے لکھا ہے کہ جب صدام حسین سے ان کی بیٹیوں کے متعلق پوچھا گیا تو ان کی آواز بھرگئی اور آنکھیں نم ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’میری بیٹیاں مجھے بہت یاد آتی ہیں۔ ان کے ساتھ میرا تعلق بہت خوبصورت تھا جس سے میں بہت لطف اندوز ہوتا تھا۔ میں انہیں بہت زیادہ محبت کرتا تھا اور وہ مجھ سے بہت محبت کرتی تھیں۔‘‘صدام حسین کا اپنے بیٹوں عدی اور قصی کے متعلق کہنا تھا کہ ’’مجھے ان پر فخر ہے تاہم میں ان کی خامیوں سے بخوبی آگاہ تھا اور بعض اوقات سوچتا تھا کہ انہیں ان کی بری عادتوں کی سزا دینا لازمی ہے۔‘‘جان نکسن کے مطابق عدی اپنے باپ کے لیے مستقل مسئلہ تھا۔صدام حسین نے بتایا کہ ’’جب مجھے معلوم ہوا کہ عدی نے بینٹلے، مرسیڈیز و دیگرلگثرری گاڑیوں کی بڑی کھیپ رکھی ہوئی ہے تو میں اس پر بہت رنجیدہ ہوا تھا۔ ان کی ایسی حرکتوں پر میں سوچتا تھا کہ ہم عراقی عوام کو کیا پیغام دے رہے ہیں جو عالمی پابندیوں سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔‘‘جان نکسن کے مطابق جب عدی نے شراب کے نشے میں دھت ہو کر صدام حسین کے سوتیلے بھائی وتبین کو ایک فیملی پارٹی میں گولی مار کر زخمی کر دیا تھا اس کے بعد صدام حسین نے اس کی لگڑری گاڑیاں جلا ڈالی تھیں

الفاظ

مزید : صفحہ اول