آصف علی زرداری کی آمد سے پارٹی اور سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے ؟

آصف علی زرداری کی آمد سے پارٹی اور سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے ؟

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

 پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے سربراہ آصف علی زرداری 23 دسمبر کو کراچی پہنچ رہے ہیں۔ ان کے صاحبزادے اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ڈاکٹروں نے انہیں سفر کی اجازت دیدی ہے۔ ان کے اس اعلان سے آپ سے آپ یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اب تک اگر وہ واپس نہیں آ رہے تھے تو اس کی وجہ اور کچھ نہیں تھی ماسوا اس کے کہ ڈاکٹر انہیں سفر کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ تو واپس آنا چاہتے ہوں گے لیکن یہ ڈاکٹر حضرات ان کے اس ارادے کی راہ میں حائل ہو جاتے رہے۔ بہرحال اب خوشی کی بات ہے کہ ان کی آمد آمد ہے۔ کراچی میں ان کا شایانِ شان استقبال ہوگا جس کیلئے تیاریاں ابھی سے شروع کردی گئی ہیں لیکن سچی بات ہے ہمیں ان ڈاکٹروں کا یہ انداز پسند نہیں آیا کہ وہ آصف علی زرداری کو لندن اور واشنگٹن کے سفر سے تو نہیں روک سکے اور کراچی کے سفر سے روک دیا حالانکہ دبئی سے کراچی محض دو گھنٹے کی مسافت پر ہے اور اگر جہاز ذاتی ہو تو اس سے بھی کم وقت لگتا ہے۔ ڈاکٹروں نے انہیں دبئی سے پندرہ گھنٹے کی پرواز (واشنگٹن) سے کیوں نہیں روکا۔ یہ بات ہماری سمجھ میں تو نہیں آئی لیکن ڈاکٹرکا حق ہے کہ وہ اپنے مریض کو جب چاہے جو چاہے مشورہ دے، کوئی دوسرا کچھ نہیں کرسکتا تاہم جب تک آصف علی زرداری دبئی میں مقیم رہے، اپنی پارٹی اور عوام سے لاتعلق نہیں رہے۔ وہ پارٹی رہنماؤں سے مسلسل رابطے میں رہے اور جب ٹیلیفونک رابطہ ناکافی سمجھا تو وزیراعلیٰ سندھ سمیت جس کسی کو چاہا دبئی بلالیا۔ پارٹی کے اجلاس بھی دبئی میں ہوتے رہے اور سینئر سیاستدان طلبی کے مختصر نوٹس پر وہاں جاتے رہے۔ باقاعدہ اجلاسوں کے علاوہ پارٹی کے جو بھی رہنما بیرون ملک گئے انہوں نے آتے جاتے راستے میں دبئی میں سٹاپ اوور کرلیا چنانچہ وہاں مستقل طور پر سیاسی رونقیں لگی رہیں، یہاں تک کہ سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد گورنری سے فارغ ہوکر دبئی گئے ہیں تو انہوں نے بھی آصف علی زرداری سے اس دوران ایک سے زیادہ ملاقاتیں کرلی ہیں ویسے بھی دونوں کا قیام ایک ہی شہر میں ہے تو ملاقاتیں کیا مشکل ہیں بس ارادہ ہونا چاہئے۔ سابق گورنر کے بارے میں یہ اطلاع سامنے آچکی ہے کہ پیپلز پارٹی انہیں اپنی صفوں میں قبول کرنے کیلئے تیار ہے اور وہ خود بھی راضی ہیں لیکن دبئی کی ملاقاتوں میں یہ سوال سامنے آیا تو آصف علی زرداری کا خیال تھا کہ بھلے سے وہ ابھی پیپلز پارٹی میں نہ آئیں کیونکہ یہ تو وہ کسی بھی وقت کرسکتے ہیں لیکن اگر وہ ایم کیو ایم کے دھڑوں میں صلح کرا دیں تو یہ مستقبل میں پیپلز پارٹی کی سیاست کیلئے بہتر ہوگا کیونکہ متحدہ کے ایک ہی دھڑے سے بات چیت آسان ہوگی اور الگ الگ گروپوں کی صورت میں ہر گروپ سے معاملہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔ بات تو اپنی جگہ وزن دار ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ڈاکٹر عشرت العباد اب اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ ایم کیو ایم کے گروہوں کو دوبارہ متحد کرسکیں جو اس وقت کم از کم تین حصوں میں منقسم ہیں، ایک حصہ ایم کیو ایم پاکستان کہلاتا ہے جبکہ دوسرے گروہ نے اپنے لئے ایم کیو ایم لندن (مقیم کراچی) کی شناخت رکھی ہوئی ہے۔ تیسرے گروپ نے ایم کیو کا نام استعمال کرنا چھوڑ کر پاک سرزمین پارٹی کا نام پسند کیا لیکن اس گروپ میں سارے لوگ ایم کیو ایم ہی سے تعلق رکھتے ہیں اور شاید ہی کوئی ایسے لوگ ابھی تک پارٹی میں شامل ہوئے ہوں جن کا کبھی ایم کیو ایم سے تعلق نہیں رہا، جہاں تک ایم کیو ایم لندن کی کراچی برانچ کا تعلق ہے اس کیلئے سیاسی سرگرمیوں کا میدان ابھی زیادہ ہموار نہیں ہے کیونکہ جو لوگ اس کے کرتا دھرتا ہیں وہ تو لندن میں بیٹھے ہیں ان کی غیر حاضری میں ان کا ورکر کیسے متحرک ہوگا۔ جنہوں نے ہونے کی کوشش کی ان کا چراغ نہیں جلا یا نہیں جلنے دیا گیا۔ فاروق ستار کے ساتھ البتہ تمام ایم این اے، ایم پی اے اور بلدیاتی ارکان ہیں لیکن کیا یہ دونوں گروپ متحد ہوسکتے ہیں؟ ہمارے خیال میں اگر ان کے اندر اتحاد کی خواہش بھی ہو تو بھی اتحاد اس لئے آسان نہیں کہ جو لوگ بانی ایم کیو ایم سے ٹوٹ گئے ان کا دوبارہ جڑنا کم از کم اتنی جلدی آسان نہیں، جہاں تک مصطفی کمال کا تعلق ہے انہوں نے تو عشرت العباد پر تابڑ توڑ حملے کردیئے تھے ممکن ہے ان کی گورنری انہی حملوں کے نتیجے میں گئی ہو۔ الزامات بہت سنگین تھے جن کے ہوتے ہوئے عشرت العباد کیلئے اتحاد کا کردار ادا کرنا آسان نہیں ہوگا۔ تاہم اگر آصف علی زرداری نے ان کے ذمے یہ کام لگایا ہے تو وہ کوئی نہ کوئی سرگرمی تو کریں گے۔

اب سوال یہ ہے کہ آصف علی زرداری کی آمد سے خود پیپلز پارٹی اور ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر کیا اثر پڑے گا؟ اثرات تو مختلف نوعیت کے مرتب ہوں گے لیکن کیا آصف علی زرداری اور بلاول کی سیاسی جہت کا رخ ایک ہی جانب ہوگا؟ اگرچہ پارٹی کے اندر بعض حلقوں کی رائے ہے کہ بلاول کی سیاست کا انداز جارحانہ ہے جبکہ آصف علی زرداری مفاہمت کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں تاہم ہمارے خیال میں باپ اور بیٹے کے درمیان نہ تو سیاسی اختلافات ہیں اور نہ ہی بیٹا باپ سے مختلف سیاست کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ یہ جو کبھی کبھار انداز جدا جدا نظر آتا ہے یہ سب سیاسی رکھ رکھاؤ ہے، اس کا عملی اور حقیقی سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ باپ بیٹے کی سیاسی حکمت عملی الگ الگ ہے، وہ سیاسی حرکیات سے زیادہ واقف نہیں لگتے۔ محض پنجاب کی تنظیم کے چند نام بدل دینے سے یا بعض پرانے سیاستدانوں کے وقتی طور پر پارٹی کی سکرین سے آف ہو جانے سے یہ نتیجہ نکالنا کہ پارٹی کے اندر کوئی انقلابی تبدیلی آگئی ہے پرلے درجے کی سادگی ہے۔ ممکن ہے بعض لوگوں کی یہ خواہش ہو کہ بلاول اپنی انقلابی سیاست کا رنگ الگ سے جمائیں اور ایسی صورت میں وہ پارٹی کی کامیابی بھی دیکھتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے، نہ ہوگا۔انتخابی سیاست تو آصف علی زرداری کے بغیر چل ہی نہیں سکتی کہ پارلیمینٹرین کے سربراہ وہی ہیں۔ یہ عہدہ مخدوم امین فہیم کی موت سے خالی ہوا تھا۔

ایک اور پہلو سے بھی جائزہ لیں 2017ء شروع ہونے والا ہے اور خورشید شاہ کہہ چکے ہیں کہ اس سال میں الیکشن ہوسکتے ہیں تو کیا پارٹی کی ان سرگرمیوں کو انتخابی سیاست کے حوالے سے دیکھا جاسکتا ہے؟ اور یہ جو گرینڈ الائنس کی باتیں ہو رہی ہیں یہ بھی ہوا میں قلعے تعمیر کرنے کے مترادف ہیں۔ عمران خان تو خود کہہ چکے ہیں کہ اگلے الیکشن میں تمام جماعتیں بشمول جماعت اسلامی ان کے مدمقابل ہوں گی۔ اب اگر گرینڈ الائنس بننا ہے تو کیا وہ تحریک انصاف کے بغیر ہوگا؟ جس الائنس میں عمران خان نہیں ہوں گے اسے ’’گرینڈ‘‘ تو بہرحال نہیں کہا جاسکے گا، اس لیے جو کچھ بھی سیاسی منظر پر نظر آتا ہے وہ ابھی دھندلا دھندلا سا ہے، ابھی صرف صفیں سیدھی کی جا رہی ہیں کون صف میں کھڑا رہتا ہے اور کون اچانک نکل کر ایک طرف کھڑا ہو جاتا ہے یہ کہنا مشکل ہے البتہ یہ یقینی ہے کہ اگر الائنس بن بھی گیا تو زیادہ سے زیادہ الیکشن کے اعلان تک ہوگا اس کے بعد جماعتیں اپنی اپنی مصلحتوں کے پیش نظر نئے ساتھی تلاش کریں گی۔ الائنس والے بھی نئے ساتھیوں کی تلاش میں ہوں گے۔

اثرات

مزید : تجزیہ