ملتان میں ایک بڑے ہسپتال کیلئے سروے مکمل، تعمیر جلد شروع ہو گی: گورنر پنجاب

ملتان میں ایک بڑے ہسپتال کیلئے سروے مکمل، تعمیر جلد شروع ہو گی: گورنر پنجاب

ملتان(جنرل رپورٹر)گورنر پنجاب ملک رفیق رجوانہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف دورہ ملتان کے دوران جنوبی پنجاب کے لئے بڑے پیکیج کا اعلان کریں گے ۔حکومت صحت ‘تعلیم‘ توانائی سمیت دیگر مسائل پر توجہ دے رہی ہے ‘ملتان میں ایک بڑے ہسپتال کی تعمیر کے لئے سروے مکمل ہوچکا جلد تعمیر شروع کردی جائے گی ۔ایوان تجارت وصنعت ملتان میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ نیب سے کہا ہے کہ وہ کرپشن خاتمہ کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرے۔کاروباری و صنعتی افراد کو ہراساں کرنے سے معیشت کوفائدہ نہیں پہنچے گا۔لوگ ملنے آتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ عوام کوکیسے کیسے مسائل کاسامنا ہے۔جیسے زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے ایسے ہی صنعت بھی ہے۔آپ کے مسائل اور باتیں حکومت تک پہنچاتا ہوں۔انہوں نے کہاکہ 16دسمبر ہماری تاریخ کا المناک دن ہے اسی دن سانحہ پشاور اور سقوط ڈھاکہ وقوع پذیر ہوا۔شاید ہم نے اس سے کوئی سبق نہیں لیا۔لوگوں نے پاکستان بنتے بھی دیکھا اور ٹوٹتے بھی دیکھا ہے۔تاہم جواب پاکستان ہمارے پاس ہے ان شاء االلہ یہ ترقی بھی کررہاہے اوردنیا میں مضبوط ترین بھی ہوگا۔آپ لوگوں کو ملک کے حالات اور معیشت کے ساتھ ساتھ توانائی کے معاملات پر کچھ نہ کچھ فرق اوربہتری ضرورنظرآرہی ہوگی۔وزیراعظم نے گزشتہ روزبلوچستان میں ساڑھے چارسو کلومیٹر کے موٹروے کاافتتاح کیا ہے یہ بھی ترقی کی طرف اٹھایاگیا قدم ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ سڑکوں سے ترقی نہیں ہوتی لیکن یہ صرف سڑک نہیں ہے اس سے تیزروابط اور انڈسٹری لگنے ،کاروباربڑھنے سے روزگاربھی ملے گا۔گورنرپنجاب نے کہاکہ لوگ اربوں روپے کے بجلی گھرلگا کر نیپرا کی طرف دیکھتے تھے اسی لیے اس کے سلیکشن سیون میں ترمیم کرکے سرمایہ کاروں کوآسانی فراہم کرنے کی بات کی گئی ہے۔اگرصنعت کاروں یا کاروباری افراد کی میز پر صبح ہوتے ہی 10اداروں کے نوٹس پڑے ہوں توپھرکاروبارکیسے ہوسکتا ہے۔لوگ ٹیکس دینا چاہتے ہیں لیکن ان کوآسانیاں فراہم کرنا ہونگی۔میں نے اپنے طورپر پنجاب کی صنعتوں کے لیے مہنگے گیس ٹیرف کامعاملہ وزیراعظم کے سامنے اٹھایا ہے۔اس معاملے کوجلد حل کرائیں گے۔اس کے علاوہ ایوان تجارت وصنعت ملتان اس خطے خصوصاً ملتان کے لیے تین چار بڑے پراجیکٹس کی فزیبلٹی بنا کرمجھے بھجوائے تاکہ وزیراعظم جب میٹرو ملتان کاافتتاح کرنے آئیں تو ان سے ان منصوبوں کے اعلانات کرائے جائیں۔رفیق رجوانہ نے کہاکہ ملتان میں ایک نئے بڑے ہسپتال کی تعمیر کی تجویز ہے۔وزیراعظم صحت کے منصوبوں کے بارے میں بہت دلچسپی اورتوجہ دے رہے ہیں تاہم اس میں مشکلات بھی آرہی ہیں۔ڈاکٹرز کااحتجاح ان کاحق ہے ان کے مطالبات جائز بھی ہوسکتے ہیں لیکن عوام کا علاج اولین ترجیح ہونی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ وومن یونیورسٹی ملتان کاترقیاتی کام متی تل روڈ پرہورہاہے مزید فنڈز کیلئے بھی بھرپور کوششیں کریں گے۔اسی طرح نوازشریف یونیورسٹی کے معاملات بھی بہتر ہورہے ہیں۔ان کے لیے مختص زمین کامعاملہ حل ہورہاہے۔واسا ملتان کے بہت سے مسائل ہیں ان کے حل کیلئے وزیراعلی پنجاب نے بہت دلچسپی لی ہے۔وزیراعلی پنجاب نے واسا کیلئے خطیررقم کی منظوری دی ہے۔اس سے جاری منصوبوں کی تکمیل پر35فیصد سے زائد مسائل ختم ہوجائیں گے۔تاہم نیسپاک واسا کے حو الے سے ایک ماسٹر پلان بنارہاہے اب ہرپائپ لائن کانقشہ ہوگا اوردوردراز کی آبادیوں تک پائپ لائن پہنچائی جائے گی اس کے لیے تقریباً 100ارب روپے کاتخمینہ ہے لیکن ہمآہستہ آہستہ یہ کام کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہاکہ سی پیک سے جنوبی پنجاب کوبڑے فوائد حاصل ہونگے ہم نے وزیراعظم سے بات کی ہے کہ ملک بھر میں انڈسٹریل زون بنائے جائیں اسی طرح احسن اقبال سے بھی تفصیلی بات چیت کی ہے کہ سی پیک کی افادیت اپنی جگہ لیکن ہمیں اپنی انڈسٹری کوبھی تحفظ دینا ہوگا۔گورنرپنجاب نے کہاکہ ملتان میں متی تل روڈ پر جم خانہ بنانے کی تجویز ہے اس کے علاوہ ایکسپورٹ ڈسپلے سنٹر اور سنٹرآف ایکسی لینس بھی بننے چاہیں۔اس کیلئے ڈی سی او ملتان کو موزوں جگہ تلاش کرنے کاکہیں گے۔قبل ازیں ایوان تجارت وصنعت ملتان کے صدر خواجہ جلال الدین رومی نے سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ اس دھرتی کے فرزند ہونے کے ناطے آپ ہمارے وسیب کے لیے خصوصی ڈویلپمنٹ پیکج بنوائیں یہاں کی کسان کمیونٹی کی خوشحالی کیلئے بھرپور کوشش کریں اس خطے میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی ،بہترسیوریج سسٹم کی فراہمی،ہسپتالوں میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی،سڑکوں کی کشادگی،نئے پارکوں کی تعمیر ،پرانے پارکوں کی بہتری،سرکاری سکولز کی اپ گریڈیشن،سفاری پارک اور چڑیاگھر کی تعمیر جیسے پراجیکٹس مکمل کیے جائیں۔ملتان میں ایکسپورٹ ڈسپلے سنٹر اور سنٹرآف ایکسی لینس کاقیام عمل میں لایا جائے۔وومن یونیورسٹی کی تعمیر جلد مکمل کی جائے۔ملتان میں انجینئرنگ اورسائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی قائم کی جائیں۔ملتان ڈرائی پورٹ پر ایم ڈی اے کی جانب سے نافذ کردہ کمرشلائزیشن فیس اورپنجاب انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ فیسکاخاتمہ اورشیر شاہ ریلوے اسٹیشن پرامپورٹ ایکسپورٹ کے لئے گڈز ٹرین آپریشن کی منظوری دی جائے۔کاٹن کے لئے شوگر انڈسٹری کی طرح سبسڈی دی جائے۔کاٹن ریسرچ سنٹر کو اپٹما کے سپردکیا جائے۔زرعی ٹیوب ویل کو فکسڈ الیکٹرک ٹیرف پرلایاجائے۔کھاد اور ززعی ادویات کی قیمتوں اور کوالٹی کو ریگولیٹ کیا جائے۔ اس موقع پر گورنر پنجاب کے بھانجے الیاس رجوانہ کی وفات پر فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

مزید : ملتان صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...