چوہدری نثار ایکشن پلان پرعملدرآمدکروانے میں ناکام رہے، شیری رحمان

چوہدری نثار ایکشن پلان پرعملدرآمدکروانے میں ناکام رہے، شیری رحمان

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پی پی پی پی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے پشاور میں آرمی پبلک اسکول حملے کے بعد نیشنل ایکشن پلان پر ناکامی اور حکومت کی لا علمی پر مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ سول ہسپتال تحقیقاتی کمیشن رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات نیشنل ایکشن پلان کی ناکامی اور حکومت کی غیرسنجیدگی کا ثبوت ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان 2014 میں آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد حکومت کی طرف سے قائم کیا گیا جس میں دہشت گردوں نے بچوں اور اسکول کے عملے پر فائرنگ کرکے 132 بچوں سمیت 141 افرادکو شہید کیاتھا۔ شیری رحمان نے کہا کہ آج اس بھیانک حملے کو، جوکبھی نہیں ہونا چاہیے تھا ، دوسال گزر گئے ہیں، دعائیں اور مذمت کے پیغامات جاری کرنااب نا کافی ہوگیا ہے اب دہشت گردی کا مقابلہ ایک مسلسل اور سنگین مسئلہ ہے جس کہ لیے مضبوط اسٹریٹجک منصوبہ چاہیے۔ کمیشن کی رپورٹ اور وزارت داخلہ کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ کوئٹہ انکوائری کمیشن کی رپورٹ نے قومی ایکشن پلان پرحکومت کی منصوبہ بندی اور نگرانی کے عمل کوبے نقاب کر دیا ہے۔ رپورٹ میں وزارت داخلہ کے ناقابل بھروسہ رویے اور دہشت گردی کے حقیقی خطرات کو سنجیدہ نہ لینے کا انکشاف کیاگیاہے۔ کمیشن نے انسداد دہشت گردی سے متعلق تقریبا ہر پہلو میں وزارت کی منظم ناکامی کو ظاہر کیا ہے۔ وزیر داخلہ نے صرف ایک بار ایک قومی انسداد دہشتگردی اتھارٹی کا اجلاسب بلایا ہے۔ وزارت داخلہ دہشت گردوں کے خلاف پابندی عائد کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔ اس رپورٹ کے نتائج کو پڑھنے کے بعد، ہمیں حکومت کی نااہلی کیے کیا مزید ثبوت کی ضرورت ہے؟سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ قومی سلامتی کے مشیر اور کنوینرآف نیشنل ایکشن پلان نفاذ کمیٹی کے پاس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی ذمہ داری کے حوالے سے کمیشن کے ساتھ شیئر کرنے کہ لئے کچھ بھی نہی تھا۔ پی پی پی نے بار بار کہا ہے کہ ہم پاکستان کا دفاع کرنے میں حکومت کے ساتھ متحد ہے پراس لعنت کا مقابلہ کرنے کے لئے حکومت کو پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی تشکیل دینے کا تعمیر ی قدم اٹھاناہو گا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر