برسبین ٹیسٹ: آسٹریلیا سنسنی خیز مقابلے کے بعد اپنے ہی گھر میں ”تاریخی شرمندگی“ سے بچ گیا، پاکستان کو 39 رنز سے شکست، اسد شفیق کی سنچری اور ٹیل اینڈرز کی بہادری نے میچ یادگار بنا دیا

برسبین ٹیسٹ: آسٹریلیا سنسنی خیز مقابلے کے بعد اپنے ہی گھر میں ”تاریخی ...
برسبین ٹیسٹ: آسٹریلیا سنسنی خیز مقابلے کے بعد اپنے ہی گھر میں ”تاریخی شرمندگی“ سے بچ گیا، پاکستان کو 39 رنز سے شکست، اسد شفیق کی سنچری اور ٹیل اینڈرز کی بہادری نے میچ یادگار بنا دیا

برسبین (ڈیلی پاکستان آن لائن) آسٹریلیا نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد برسبین ٹیسٹ میں پاکستان کو 39 رنز سے شکست دے کر 3 میچوں کی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی ہے۔ 490 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے انتہائی شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے 450 رنز بنائے اور 39 رنز کی کمی سے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا ریکارڈ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

پاکستان اگرچہ یہ میچ ہار گیا ہے لیکن 490 رنز کے پہاڑ جیسے ہدف کے تعاقب میں اسد شفیق، محمد عامر، وہاب ریاض اور یاسر شاہ نے ذمہ دارانہ بلے بازی کر کے آسٹریلیا کو ناکوں چنے چبوا کر میچ کو یادگار بنا دیا اور پاکستان کوناصرف شرمناک شکست سے بچا لیا بلکہ قوم کے دل بھی جیت لئے ہیں اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستانی ٹیم کہیں بھی، کبھی بھی، کچھ بھی کر سکتی ہے جس کا اعتراف میچ ختم ہونے کے بعد ناصرف کپتان مصباح الحق نے کیا بلکہ آسٹریلوی کپتان بھی مانے بغیر نہ رہ سکے۔

ٹیم کی پرفارمنس سے بہت خوش ہوں ،پاکستانی ٹیم کبھی بھی کسی کو حیران کر سکتی ہے :کپتان مصبا ح الحق

اسد شفیق، محمد عامر، یاسر شاہ اور وہاب ریاض کی ذمہ دارانہ بلے بازی نے آسٹریلین ٹیم کی ہوائیاں اڑا دیں۔ کیرئیر بیسٹ 139 رنز کی ذمہ دارانہ اور انتہائی جاندار اننگز کھیلنے پر اسد شفیق کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔ محمد عامر نے بھی خوب جان لڑائی اور کیرئیر بیسٹ 48 رنز بنائے تاہم صرف 2 رنز کی کمی سے نصف سنچری مکمل کرنے میں ناکام رہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان نے پانچویں روز 382 رنز 8 کھلاڑی آﺅٹ سے کھیل کا آغاز کیا تو اسد شفیق 100 اور یاسر شاہ 4 کے انفرادی سکور پر تھے۔ دونوں نے آسٹریلوی باﺅلرز کی ایک بھی تدبیر کارگر نہ ہونے دی اور ویں وکٹ کی شراکت میں 71 رنز جوڑ کر میچ کو یادگار بنا دیا اور 490 رنز کا پہاڑ کھڑا کر کے بڑے مارجن سے میچ فتح کرنے کا خواب دیکھنے والی آسٹریلوی ٹیم کو میچ بچانے کی فکر لاحق ہو گئی۔

کپتان سٹیو سمتھ سمیت تمام کھلاڑیوں کے چہروں سے ہوائیاں اڑ گئیں اور اپنی ہے گھر میں ’یادگار شرمندگی‘ سے بچنے کیلئے ہر پینترا آزما ڈالا۔ آخری روز میچ میں فتح کیلئے آسٹریلیا کو اگرچہ 2 وکٹوں کی ضرورت تھی تاہم اس کیلئے انہیں سخت جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا اور اسد شفیق کے بلے سے تیزی سے نکلتے رنز نے انہیں شدید اضطراب کا شکار کئے رکھا جو اس وقت دور ہوا جب 449 کے مجموعی سکور پر اسد شفیق 137 رنز بنا کر مچل سٹارک کی گیند پر ڈیوڈ وارنر کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔

اسد شفیق نے مشکل وقت میں انتہائی شاندار بلے بازی کرتے ہوئے صرف 207 گیندوں پر 1 چھکے اور 13 چوکوں کی مدد سے کیرئیر بیسٹ اور یادگار 137 رنز بنائے۔ پاکستان کی آخری وکٹ 450 کے مجموعی سکور پر گری جب اسد شفیق کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے 39 رنز بنانے والے یاسر شاہ سٹیو سمتھ کی تھرو پر رن آﺅٹ ہو گئے اور یوں آسٹریلیا نے میچ 39 رنز سے جیت لیا۔

اگر پاکستان آسٹریلیا کو شکست دے دیتا ہے تو وہ ایسا ریکارڈ اپنے نام کرلے گا کہ سن کر آپ خوشی سے نہال ہوجائیں گے

قبل ازیں برسبین کرکٹ گراﺅنڈ وولن گابا میں کھیلے جا رہے ٹیسٹ میچ کا چوتھا روز انتہائی ڈرامائی رہا۔ آسٹریلیا کے 490 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کے 6 کھلاڑی صرف 220 کے مجموعی سکور پر پویلین لوٹ چکے تھے اور یوں محسوس ہو رہا تھا کہ میچ کا فیصلہ آج ہی ہو جائے گا اور پاکستان کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن اسد شفیق، محمد عامر اور وہاب ریاض نے انتہائی ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے میچ کا پانسہ ہی پلٹ دیا۔

یونس خان اور اظہر علی نے دوسری نامکمل اننگز کا آغاز 70 رنز 2 کھلاڑی آﺅٹ سے کیا اور محتاط بلے بازی کرتے ہوئے مجموعی سکور 131 رنز پر پہنچا دیا تاہم اس موقع پر بارش کے باعث میچ روک دیا گیا۔ آدھے گھنٹے کے وقفے کے بعد کھیل تو دوبارہ شروع ہو گیا تاہم اظہر علی کی اننگز تھم گئی اور وہ 71 رنز بنا کر مچل سٹارک کی گیند پر میتھیو ویڈ کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔

ابھی 5 اوورز ہی کرائے گئے تھے کہ بارش دوبارہ شروع ہو گئی اور کھیل روک دیا گیا تاہم کچھ دیر بعد بارش رکنے پر میچ دوبارہ شروع کر دیا گیا۔ کپتان مصباح الحق پہلی اننگز کی طرح اس اننگز میں بھی ناکام ہوئے اور 165 کے مجموعی سکور پر صرف 5 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ یونس خان نے محتاط بلے بازی کرتے ہوئے نصف سنچری مکمل کی تاہم وہ بھی 64 رنز بنا کر ’تھک‘ گئے اور 173 کے مجموعی سکور پر لیون کی گیند پر سمتھ کے ہاتھوں کیچ ہو کر پویلین کی راہ لے لی۔

یونس خان کا اس انداز میں آﺅٹ ہونا مضحکہ خیز ہے :وقار یونس

پہلی اننگز میں سب سے نمایاں کارکردگی دکھانے والے سرفراز احمد بھی زیادہ دیر آسٹریلوی باﺅلرز کا سامنا نہ کر سکے اور 220 کے مجموعی سکور پر 24رنز بنا کر مچل سٹارک کی گیند پر آﺅٹ ہو گئے۔ اس مشکل وقت میں محمد عامر نے خوب ذمہ داری دکھائی اور اسد شفیق کے ساتھ مل کر 7 ویں وکٹ کی شراکت میں 92 رنز جوڑ کر آسٹریلیا کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔

محمد عامر نے کیرئیر بیسٹ 48 رنز بنا کر قومی ٹیم کے بلے بازوں کو آئینہ دکھانے کی اپنی سی کوشش کی اور برڈ کی گیند پر میتھیو ویڈ کے ہاتھوں کیچ ہو گئے اور صرف 2 رنز کی کمی سے نصف سنچری مکمل کرنے میں ناکام رہے۔ عامر کے آﺅٹ ہونے کے بعد وہاب ریاض بھی اسد شفیق کے ساتھ کریز پر ڈٹ گئے اور دونوں نے آٹھویں وکٹ کی شراکت میں 66 قیمتی رنز جوڑے اور آسٹریلیا کو مزید پریشان کر دیا تاہم وہ چوتھے روز کا کھیل ختم ہونے سے کچھ لمحات قبل ہی 30 رنز بنا کر آﺅٹ ہو گئے۔

برسبین ٹیسٹ کے تیسرے روز کھیل کے اختتام پر پاکستان نے 490 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 2 وکٹوں کے نقصان پر 70 رنز بنا ئے۔ پاکستان کو جس مضبوط آغاز کی ضرورت تھی، بدقسمتی سے وہ اسے نہ مل سکا اور سمیع اسلم 15 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ 54 کے مجموعی سکور پر بابر اعظم بھی ہمت ہار بیٹھے اور 14 رنز بنا کر آﺅٹ ہو گئے۔

قبل ازیں تیسرے روز آسٹریلیا نے دوسری اننگز 5 وکٹوں کے نقصان پر 202 رنز بنا کر ڈکلیئر کر کے پاکستان کو جیت کیلئے 490 رنز کا ہدف دیا۔ پہلی اننگز میں سنچری سکور کرنے والے کپتان سٹیو سمتھ نے 63 رنز بنائے جبکہ عثمان خواجہ نے بھی باﺅلرز پر خوب ہاتھ سیدھا کیا اور 74 رنز کی اننگز کھیلی۔ آسٹریلیا کی جانب سے ڈیوڈ وارنر نے 12، میٹ رنشاءنے 6، نیس میڈینسن نے 4، پیٹر ہینڈزکومب نے 35 اور میتھیو ویڈ نے ایک سکور بنایا۔

پاکستان کی جانب سے پہلی اننگز کی طرح دوسری اننگز میں بھی فاسٹ باولرز نے ہی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اب تک راحت علی نے 2 وکٹیں حاصل کی ہیں جبکہ محمد عامر، یاسر شاہ اور وہاب ریاض نے ایک، ایک کھلاڑی کو پویلین کی راہ دکھائی ہے۔

میں جانتا تھا آوٹ ہوگیا ہوں،پاکستانی ٹیم نے اپیل ہی نہیں کی:سٹیو سمیتھ

واضح رہے کہ آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کرتے ہوئے پہلی اننگز میں 429 رنز کا پہاڑ کھڑا کیا جسے دیکھ کر پاکستانی بلے بازوں کی ”ٹانگیں کانپنا“ شروع ہو گئی تھیں اور صرف 67 کے مجموعی سکور پر 8 کھلاڑی پویلین لوٹ گئے تھے، 6 پاکستانی بلے باز تو دوہرا ہندسہ عبور کرنے میں بھی ناکام رہے تھے۔ پاکستانی بلے باز کریز پر آئے تو یوں واپس جانے لگے جیسے بیٹنگ کرنے نہیں بلکہ صرف پچ کا معائنہ کرنے کیلئے تھے آئے۔

پاکستانی بیٹنگ لائن کی کسمپرسی کا یہ عالم یہ رہا کہ تیسری وکٹ سے آٹھویں وکٹ تک یعنی 5 کھلاڑیوں نے مجموعی سکور میں صرف 24 رنز کا اضافہ کیا جو پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں تیسری سے آٹھویں وکٹ کے درمیان بنایا گیا سب سے کم سکور ہے تاہم آخری 2 وکٹوں میں سرفراز احمد، محمد عامر اور راحت علی نے مجوعی طور پر 75 رنز کا اضافہ کر کے ایک دلچسپ ریکارڈ بھی اپنے نام کیا اور پوری ٹیم 142 رنز پر آﺅٹ ہو گئی تھی۔

مزید : کھیل

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...