سقوط ڈھاکہ سے کیا سبق سیکھا

سقوط ڈھاکہ سے کیا سبق سیکھا
سقوط ڈھاکہ سے کیا سبق سیکھا

تحریر : محمد اکرام ذکی(سابق سفیرو سینیٹر)

ڈھاکہ یونیورسٹی میں پروفیسرز اور دانشوروں سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے احساس تفاخر میں انتہائی رعونت کے ساتھ اعلان کیا کہ بھارت نے سب سے پہلے اپنی کمانڈو فورس مکتی باہنی کی شکل میں پاکستانی فوجوں سے لڑنے کے لئے مشرقی پاکستان میں داخل کی تھی۔بھارت نے پاکستان کو دولخت کرکے بنگلہ دیش کو ایک آزاد ملک بنایا۔

قرون وسطیٰ کی ذہنیت سے تو یہ کامیابی کا دعویٰ تھا ،مگر عصر حاضر میں اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ مودی نے طاقت کے تکبر میں یہ دعویٰ کرکے دراصل اقبال جرم کیا ہے اورمستقبل سے متعلق اپنے مذموم عزائم کی بھی عکاسی کی ہے۔ بھارتی وزیراعظم کے اس اقرار جرم پہ دنیا کو حیرت نہیں ہوئی، کیونکہ قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی دنیا پر یہ آشکارا ہوچکا تھا کہ بھارت نے پاکستان کے آزاد اور خودمختار وجود کو دل سے قبول نہیں کیا اوراس کے خلاف سازشوں کی فصل بو دی ہے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے 14جون 1947 کے اجلاس پاکستان سے متعلق اپنے مستقبل کے عزائم کا اظہار ان الفاظ میں کیا تھا کہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ متحدہ ہندوستان کا تصور قائم رہے گا۔ ایک وقت آئے گا جب دو قومی نظریہ باطل اور غیر معتبر قرار پائے گا اور مسترد ہوگا۔یہ بیان کسی فرد واحد کا ذاتی خیال نہیں تھا، بلکہ اس جماعت کا پالیسی بیان تھا جس نے بھارت پہ آئندہ حکومت کرنی تھی۔

یہ سوال بہر حال اپنی جگہ اہم ہے کہ نریندر مودی کو بنگلہ دیش میں اس اعتراف جرم کی ضرورت کیوں کر پیش آئی۔ ظاہر اً اس کے دو مقاصد تھے، اوّل یہ کہ بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو یہ احساس دلانا کہ تمہاری وزارت عظمیٰ ہماری مرہون منت ہے، اور دوسرا ماضی کے زخموں کو کرید کرنہ صرف بنگلہ دیش میں اسلامی رہنماؤں کی سزاؤں کی حمایت کرنا ،بلکہ بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان ماضی کی تلخیوں کو ہوا دے کر فاصلے پیدا کرنا تھا۔

قیام پاکستان کے محض چالیس دن بعد ہی بھارت نے پاکستان کو جنگ کی پہلی دھمکی دی اوراس کے محض ایک ماہ بعد ہی بھارتی افواج ریاست جموں و کشمیر میں داخل ہوگئیں، اور ریاست جموں کشمیر کے 41342 مربع میل کے علاقے پر قبضہ کرلیا۔ کشمیر پر قبضے کے بعد بھارت نے مغربی پاکستان پر پہلا آبی حملہ یکم اپریل1948ء کو کرتے ہوئے پانی روک لیا جو کہ مسلسل 34دن تک بند رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ مشرقی پاکستان میں سازشی سرگرمیوں کے لئے کلکتہ میں تحقیقی مراکز قائم کئے اور بنگالیوں میں احساس محرومی پیدا کرنے کے لئے گمراہ کن لٹریچر، کتابیں ، تصویریں تیار کرکے مشرقی پاکستان میں بھیجی جانے لگیں۔ جس سے بنگالی نوجوانوں میں اس تاثر نے جنم لیا کہ جس آزادی کی خاطر انہوں نے قربانیاں دیں وہ مغربی پاکستان میں رہن ہوچکی ہے۔ 6ستمبر 1965ء کو بھارت نے پاک افواج کے جذبوں اور قوت کا غلط اندازہ کرتے ہوئے اپنے سے دس گنا چھوٹے ملک (پاکستان) پر حملہ کردیا۔ اس جنگ میں بھارت کو تاریخی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اور پاکستانی افواج نے اپنے عوام کے شانہ بشانہ بھارتی افواج کو ہر شعبہ میں شکست سے دوچار کیا۔1965 کی شکست کا زخم چاٹتے بھارت کو اس بات کی بھی سمجھ آچکی تھی کہ پاکستان ترنوالہ نہیں کہ اسے فقط بیرونی جارحیت کے ذریعے ہڑپ کیا جاسکے، چنانچہ آئندہ جارحیت میں اپنے مذموم عزائم حاصل کرنے کے لئے بھارت نے برٹش انڈیا آرمی کی اسی پالیسی سے استفادہ کیا،جس سے شیر میسور ٹیپو سلطان کو زیر کیا گیا تھا، یعنی پاکستان کی صفوں میں میر جعفر تلاش کرکے انہیں اپنے ساتھ ملایا۔

1965ء کی جنگ میں پاکستان کو جنگی محاذوں پر تو کامیابیاں ملیں، تاہم مشرقی پاکستان میں کلکتہ سے آنیوالا گمراہ کن لٹریچر بنگالیوں کو عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا کرگیا، کیونکہ اس جنگ کے دوران مشرقی پاکستان کے اندر افواج پاکستان کی افرادی و فضائی قوت کم تھی۔اس کے علاوہ سرکاری زبان کے مسئلہ پر اور ایک سال قبل ہونے والے انتخابات کے نتائج کے باعث مشرقی پاکستان کے عوام تحفظات کا شکار بھی تھے۔

2جنوری1964کے صدارتی انتخابات منعقد ہوئے تو قائداعظم کی ہمشیرہ فاطمہ جناح نے ایوب خان کا مقابلہ کیاتھا۔ حزب مخالف کی تمام جماعتوں نے ان کی حمایت کی تھی۔ بنگالیوں نے بھی ان کی حمایت میں غیرمعمولی جوش و خروش کا مظاہرہ کیاتھا۔ ان کے خیال میں ایک ڈکٹیٹر کو ہٹا کر سیاسی حقوق بحال کرنے کا یہ ایک سنہری موقع تھا۔ اگرچہ اس الیکشن میں ایوب خان نے بنیادی جمہوریتوں کے اسی ہزار ارکان کی اکثریت کے ووٹ حاصل کرلئے، مگر ڈھاکہ میں، جو مشرقی پاکستان کی سیاست کا مرکز سمجھا جاتا تھا ،وہ مس جناح سے ہار گئے تھے۔6 فروری 1966کوشیخ مجیب الرحمن نے لاہور میں اپنے مشہور چھ نکات کا اعلان کیا۔ چھ نکات میں بنیادی طور پر ایک ایسے سیاسی بندوبست کی وکالت کی گئی تھی جس میں مرکزی حکومت محصولات کے اختیارات کے بغیر امور خارجہ اور امور دفاع کی دیکھ بھال کرتی رہے۔ مجیب نے اپنے پروگرام کو صوبائی خود مختاری کے حوالے سے پیش کیا، جبکہ مغربی پاکستان کے لوگوں نے اسے علیحدگی کی تحریک سمجھا۔20 جنوری 1968اگر تلہ سازش کا انکشاف ہوا اور اس سازش میں شیخ مجیب الرحمن کے علاوہ 22 دوسرے بنگالیوں کو بھی اس الزام میں ماخوذ کیا گیا کہ وہ بھارت کی ملی بھگت سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور ایک آزاد بنگال کے قیام کی کوشش کر رہے تھے۔

جولائی 1968 میں جب ڈھاکہ میں مقدمے کی کارروائی شروع ہوئی تو بنگالیوں کا ردعمل قطعاً مختلف تھا۔ حکومت کی جانب سے غدار قرار پانے والے مجیب کو بنگالی ہیرو قرار دے رہے تھے، بعد ازاں اس مقدمے کے ایک ملزم کی ہلاکت پر مشرقی پاکستان میں حکومت مخالف مہم شروع ہوگئی۔ بنیادی طور پر ایوب خان حکومت کے خلاف بنگالیوں کے احتجاج کو پاکستان کے خلاف مزاحمت کے طور پر لیا گیا۔ دوسری جانب ڈھاکہ یونیورسٹی ہندو اساتذہ کی سرگرمیوں کا مرکز بنی ہوئی تھی۔ قیام پاکستان کے وقت مشرقی پاکستان کے تعلیمی اداروں میں ہندو اساتذہ کی اکثریت تھی۔اگرچہ اس تناسب کو بدلنے کی ضرورت تھی، مگر حکومت کی جانب سے لاپروائی برتی گئی، جس کے نتیجے میں نوجوان افرادی قوت کی رگوں میں منفی پروپیگنڈہ رفتہ رفتہ انجیکٹ ہوتا رہا۔ ساٹھ کے عشرے میں ہی بھارتی ریاستوں ناگالینڈ اور میزورم میں اٹھنے والی آزادی کی تحریکیں اگرچہ کامیابی سے تو ہمکنار نہیں ہوئیں ، مگر ان تحریکوں کو لے کر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کی گئی، اور اندرا گاندھی نے مشرقی پاکستان کو جدا کرنے کا تہیہ کیا، جس کے بعد را کی سرگرمیاں مشرقی پاکستان میں بڑھ گئیں۔

مارچ 1969فیلڈ مارشل ایوب خان نے لیڈروں سے مذاکرات کے لئے راولپنڈی میں ایک گول میز کانفرنس بلائی۔ مقصد یہ تھا کہ مخالف جماعتوں کے بڑے بڑے مطالبات مان لینے سے گلی کوچوں میں بپھرے ہوئے لوگوں کے جذبات کو ٹھنڈا کیا جائے۔ مغربی پاکستان کے بعض رہنماؤں نے اس بات پر اصرار کیا کہ مجیب کو رہا کیا جائے تاکہ وہ جیل سے نکل کر ان مذاکرات میں شریک ہوسکے۔ اس سیاسی دباؤ کے پیش نظر اگر تلہ سازش کا مقدمہ واپس لے لیا گیا۔ مجیب نے 10 مارچ کو ڈھاکہ میں لوگوں کے ایک عظیم ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ دونوں صوبوں میں مساوات کا اصول اب مشرقی پاکستان کے لئے ناقابل قبول ہے۔ اب مشرقی پاکستان کو آبادی (65 فیصد)کے لحاظ سے نمائندگی ملنی چاہئے۔مجیب الرحمان ڈھاکہ میں یہ اعلان کرکے راولپنڈی آئے اور کانفرنس میں شریک ہوئے،مگر حکومت مخالف حالات نہ سنبھلے۔چنانچہ ایوب خان نے حکومت کی باگ ڈور فوج کے سربراہ جنرل آغا محمد یحییٰ خان کے سپرد کردی۔

یحییٰ خان نے ملک میں مارشل لا نافذ کردیا۔28 نومبر 1969کوجنرل یحییٰ خان نے ایک آدمی ایک ووٹ کے اصول کو تسلیم کرلیا۔ یہ اقدام مجیب کے حق میں تھا، مگر اس پر مغربی پاکستان کے لوگ ناخوش تھے کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ اس صورت میں بنگالیوں کو غلبہ حاصل ہوجائے گا۔

عام طور پر 1970کے انتخابات کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی وجہ قرار دیا جاتا ہے، تاہم یہ آدھا سچ ہے۔ 12نومبر 1970کو مشرقی پاکستان، بھارت ، مغربی بنگال میں انتہائی شدید نوعیت کا سیلاب آیا جس میں پانچ لاکھ اموات ہوئیں۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے۔ متاثرین سیلاب کی امداد کے لئے پوری دنیا میں ایک مہم چلی۔ پاک فوج نے امدادی کارروائیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، تاہم مشرقی پاکستان میں اکثریتی جماعت نے امدادی کارروائیوں کو انتخابی مقاصد کے لئے پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا۔ مشرقی پاکستان سے انتخابی امیدوار اپنے بیانات میں جہاں جہاں امدادی کارروائیوں کا ذکر کرتے ، وہیں پاک فوج کی انتھک کاوشوں کو نظر انداز کرجاتے۔ مقصد مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والی جماعتوں سے ووٹرز کا رجوع توڑنا تھا۔ دنیا بھر سے آنے والی امداداور اس کی تقسیم اور متاثرین سیلاب کے لئے جگہ جگہ ریلیف کیمپ قائم ہوئے۔ان امدادی کیمپس میں بھارتی ایجنسی ’را‘ کو زیادہ کھل کرکھیلنے کا موقع ملا۔ امدادی سرگرمیوں میں رفتہ رفتہ کمی آنے کے بعد مشرقی پاکستان میں جگہ جگہ قائم یہی کیمپ بعدازاں ’’مکتی باہنی‘‘کے بیس کیمپ بنے۔ یہی کیمپ نہ صرف انتخابی عمل پہ اثرانداز ہوئے بلکہ مسلح کارروائیوں کے مراکز کے طور پر بھی استعمال ہوئے۔ سال بھر کی تیاری کے بعد انتخابات کے دوران ماسوائے جماعت اسلامی کے کسی سیاسی جماعت نے پورے پاکستان سے امیدوار کھڑے نہیں کئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے صرف مغربی پاکستان میں الیکشن لڑا اور عوامی لیگ نے صرف مشرقی پاکستان کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ یہاں تک کہ مشرقی پاکستان میں جہاں سے جماعت اسلامی انتخابی عمل میں حصہ لے رہی تھی، اس کی راہ میں بھی طرح طرح کی رکاوٹیں حائل کی گئیں۔

انتخاب کے نتیجے میں عوامی لیگ سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ، اس کا موقف تھا کہ چونکہ سب سے زیادہ نشستیں اس کے پاس ہیں، لہٰذا اسے حکومت سازی کی دعوت دی جائے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف تھا کہ اس کی شمولیت کے بغیر حکومت نہیں بنائی جاسکتی ، لہٰذا حکومت کا حق اسے حاصل ہے۔ اصولی طور پر اس وقت کے صدر جنرل یحییٰ کو فیصلہ دینا تھا، مگر فیصلے میں تاخیر کے باعث، حالات بالخصوص مشرقی پاکستان میں، خراب ہوتے چلے گئے۔ دوسری جانب مشرقی پاکستان میں بھارتی خفیہ ادارے را ا ور بی ایس ایف کی کھلی مداخلت کے باعث مغربی پاکستان خصوصاً حکومت اور اس کے اداروں کے خلاف نفرت کی فضا بنائی جاچکی تھی۔ عام انتخابات کے بعد اقتدار کی منتقلی میں تاخیر خالصتاً پاکستان کا اندرونی معاملہ تھا لیکن بھارت نے اس میں کھلی مداخلت کی۔ 1970کے انتخابات کے بعد حالات اس نہج تک پہنچ چکے تھے کہ مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے فوجیوں کے لئے اکیلے باہر نکلنا مشکل ہو چکا تھا۔ سیاسی عدم استحکام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے را ا ور بی ایس ایف نے ان باغیوں کی تربیت شروع کردی تھی، جنہوں نے بعدازاں فوج کی وردیاں پہن کر عوامی مقامات پر حملے کئے۔ اس انتہائی خطرناک صورت حال میں شیخ مجیب الرحمن اور ذوالفقار علی بھٹونے معاملات کو حل کی جانب لے جانے کی کوشش کرنے کے بجائے فقط اقتدار کی جنگ کو ہی ملحوظ خاطررکھا۔

پانی سر تک آن پہنچا تو 25مارچ 1971کی شب مشرقی پاکستان میں آپریشن سرچ لائٹ شروع کیا گیا، کیونکہ پرتشدد واقعات کے بعد حکومت اور افواج پاکستان کے پاس کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں تھا۔ آپریشن کو ناکام بنانے کے لئے بی ایس ایف سے تربیت حاصل کرنے والے باغیوں نے ایک جانب ظلم و تشدد کیاتو دوسری جانب پاک فوج کے خلاف نہایت منفی پروپیگنڈہ شروع کردیا گیا۔ مشرقی پاکستان میں آپریشن سرچ لائٹ کا حکم لیفٹیننٹ جنرل صاحبزادہ یعقوب علی خان کوملا تھا مگر وہ استعفیٰ دے کر واپس آ گئے تھے۔ ادھر شیخ مجیب الرحمان کو گرفتارکیا گیا تو جنرل عثمانی (اس وقت کے کرنل عثمانی) ڈھاکہ سے بھیس بدل کرسلہٹ پہنچے اور انہوں نے ایسٹ بنگال رائفلز کے افسروں کے ساتھ مل کر مسلح بغاوت کا منصوبہ بنایا۔ 26 مارچ 71 19کو پاکستانی فوج کے ایک باغی افسر میجر ضیا الرحمان نے آزاد مشرقی پاکستان کا اعلان چٹاگانگ میں کیا۔ جس کے اگلے ہی دن بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے میجر ضیا الرحمان کی قیادت میں بغاوت کرنے والوں سے تعاون کا اعلان کر دیا۔ اپریل 1971 میں تاج الدین احمد بنگلہ دیش کی جلاوطن حکومت کے سربراہ بن گئے اور انہوں نے جنرل عثمانی کو مکتی باہنی کا کمانڈر انچیف بنایا۔ مکتی باہنی کے کئی کمانڈرز ایسٹ بنگال رائفلز کے باغی افسران تھے، مگر ان میں کافی تعداد بھارتی فوجی افسران کی تھی۔ تاہم بندوقوں کی دونوں جانب بظاہر پاک فوج کے جوان و افسران تھے۔

جب مکتی باہنی بھارت کی مدد کے باوجود بھی پاکستانی فوج کے مقابلے میں کوئی کامیابی حاصل نہ کرسکی تو 21نومبر 1971ء کو بھارت نے اپنی فوجیں مشرقی پاکستان میں داخل کرکے پوری قوت کے ساتھ حملہ کردیا۔ 22نومبر کو اندرا گاندھی نے جب اپنی فوج کو مشرقی پاکستان پر علی الاعلان حملہ کرنے کا حکم دیا تو اس وقت بھی وہ کلکتہ میں تھیں۔ حملہ آور بھارتی فوج کی تعداد پانچ لاکھ تھی۔ پاک فوج سے بھاگے ہوئے بنگالی جوان، افسر اور مکتی باہنی کے دستے اس کے علاوہ تھے۔ پاک فوج کے مقابلے میں دشمن کی طاقت سات گنازیادہ تھی۔سب سے بڑھ کر منفی پروپیگنڈے کے باعث مقامی آبادی کی مدد پاک فوج کو کم حاصل تھی۔ چنانچہ 16دسمبر 1971کو پاک فوج کو ڈھاکہ ریس کورس میں ہتھیار ڈالنے پڑے۔ جنرل نیازی نے جنرل اروڑا سنگھ کے سامنے ہتھیار ڈالے، اپنا سروس ریوالور جنرل اروڑا کے سپرد کیا۔ ہتھیار ڈالے جانے کی دستاویز پر جنرل نیازی اور جنرل اروڑا کے دستخط تھے اور پاکستانی فوجیوں کو بھارتی سرزمین پر لے جا کر قیدی بنایا گیا تھا۔

اس سے تاریخی پس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ درحقیقت بھارت کی بالادستی کی جنگ تھی جو اس نے پاکستان سے ناراض بنگالیوں کے کندھوں پر بندوق رکھ کر لڑی تھی۔ اندرا گاندھی کا خیال تھا کہ مشرق پاکستان پکے ہوئے پھل کی طرح بھارت کی جھولی میں آگرے گا لیکن ایسا نہ ہوا اور مشرقی پاکستان کے لوگوں نے بھارت میں شامل ہونے کے بجائے بنگلہ دیش بنانا پسند کیا۔مکتی باہنی کے میجر ضیا الرحمان جب بنگلہ دیش کے صدر بنے تو وہ بھارت کے بجائے پاکستان کے زیادہ قریب تھے۔ان کی بیوہ بیگم خالدہ ضیا کی جماعت بی این پی اور ان کی اتحادی جماعت اسلامی کو پاکستان کا دوست سمجھا جاتا ہے جس پر بھارت میں یہ کہا جانے لگا کہ اندرا گاندھی نے ایک پاکستان کو ختم کرنے کی کوشش میں دو پاکستان بنا دیئے ہیں۔اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ آج بھی بنگالی اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ تحریک پاکستان کا آغاز بنگال سے ہوا تھا۔

16دسمبر 1971ء کو پاکستان دولخت ہوا، جس کی وجوہات میں سیاستدانوں کی حصول اقتدار کے لئے جنگ، ادھر ہم ، ادھر تم کا نعرہ، دیرینہ دشمن کے مذموم عزائم سے مجرمانہ چشم پوشی، لوگوں میں احساس محرومی، دفاعی افرادی قوت کی کمی اور چانکیا پوری کا اکھنڈ بھارت کا جنون شامل تھے۔1971کی جنگ میں پاک فوج کے مدمقابل 1965کی طرح بھارتی فوج نہیں تھی، بلکہ اس کے اپنے تربیت یافتہ جنرل ، سپاہی اور ناراض ہم وطن شامل تھے۔اس جنگ میں وہ پاکستانی بھی شامل تھے جو’’را‘‘سے تربیت حاصل کرچکے تھے۔ وسیع پیمانے پر فوج کے خلاف پروپیگنڈہ بھی کارفرما تھا، اور سب سے بڑھ کر سیاسی انتشار کا پورا پورا فائدہ بھارت نے حاصل کیا تھا۔ فوجی اور سول انٹیلی جنس ایجنسیاں صدر کو رپورٹیں دے رہی تھیں کہ بھارت واضح طور پر مشرقی پاکستان میں مداخلت کر رہا ہے۔ صدر کو بتایا جاتا کہ بھارت، مشرقی پاکستان میں خودارادیت کی تحریک کی براہِ راست مدد کر رہا ہے۔ ایک دوست ملک نے بھی انہیں اس قسم کی معلومات فراہم کیں۔ جنرل یحییٰ خان نے ان الزامات کو سنجیدگی سے نہ لیا، لیکن جس وقت انہوں نے حقیقت کاادراک کیا تو صورتِ حال قابو سے باہر ہو چکی تھی۔ ان کی کابینہ کے بہت سے ساتھیوں نے بھی پاکستان کو دو حصوں میں توڑنے کی بھارتی سازش کی عوامی جلسوں میں بات کی تھی اور عوام اور صدر کو متنبہ کیا تھا۔ لیکن عوام نے بھی اور صدر نے بھی ان کے اس واویلے پر کان دھرنا مناسب خیال نہ کیا۔جس کے نتیجے میں وطن عزیز کے دوٹکڑے ہوئے، مگر بھارت بھی اکھنڈ بھارت کے خواب کے پہلے حصے کی تعبیر نہ پا سکا۔ اکھنڈ بھارت کیا ہے، ؟اکھنڈ بھارت کے نظریے کو سمجھانے کے لئے حالیہ مودی سرکار نے بھارتی ریاست گجرات کے سرکاری اسکولوں کے نصاب میں صاف صاف یہ لکھوا دیا کہ اکھنڈ بھارت میں صرف بھارت نہیں بلکہ پاکستان، افغانستان، نیپال ، بھوٹان، تبت ، بنگلہ دیش، سری لنکا اور برما بھی شامل ہیں۔اگر آج بھارتی فوجی برما کی سرحد کے اندر جاکر جارحانہ کارروائیاں کررہے ہیں، یا افغانستان میں پاک سرحد کے قریب قونصل خانوں اور خفیہ اداروں کے مراکز کی زنجیر قائم کی گئی ہے، یا نیپال کے راستے بند کرکے بھارت اسے اپنے دباؤ میں رکھنے کی کوشش کررہا ہے،یا تبت کے اندرونی معاملات میں براہ راست مداخلت کررہا ہے یا سری لنکاکو چین کے ساتھ شراکت داری کی جانب جانے سے روکا جارہا ہے ،تو اس کے پیچھے فقط اکھنڈ بھارت کا فلسفہ کارفرما ہے۔

سوال یہ ہے کہ ہم نے مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے سے کیا سبق حاصل کیا اور کیا بھارت نے مکتی باہنی کے قیام اور اس کی پشت پناہی اور ہمسایہ ممالک میں اندرونی مداخلت کی روش چھوڑ دی؟ تو اس کا جواب یقیناًنفی میں ہے۔ آج بھی ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی صورت میں مکتی باہنی وطن عزیز میں سرگرم ہیں۔ جو 16دسمبر کے زخم کو بار بار ہرا کررہی ہیں۔ 1971میں پاکستان کا ایک بازو جدا ہوا،تو 2014میں پشاور کے آرمی پبلک سکول میں بچوں کے لہو کی ہولی کھیل کر کلیجے زخمی کئے گئے۔ ان مکتی باہنیوں کے خلاف جب ضرب عضب کی صورت میں کارروائی جاری ہے تو اس سے توجہ ہٹانے کے لئے بھارت کی جانب سے سرحدی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ مشرقی پاکستان کی طرح آج بھی ’را‘ کراچی‘ فاٹا‘ بلوچستان میں سرگرم ہے۔ بھارت آج پاکستان دشمنی میں اس سے کہیں آگے نکل چکا ہے جہاں وہ قیام پاکستان کے وقت تھا، یا 1971میں۔ 1970ء کے انتخابات کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی انتشار سے ہم نے یہی سبق حاصل کیا کہ 2013ء کے انتخابات کے بعد بھی سیاسی انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس وقت بھی نتائج کو تسلیم نہیں کیا گیا اور آج بھی نہ ماننے کا راگ الاپا جاتا ہے۔ اس وقت بھی اقتدار کی رسہ کشی جاری تھی تو آج بھی حصول اقتدار کی خاطر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ سیاستدانوں کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بجا ہوگا کہ ہم نے ماضی سے یہی سیکھا ہے کہ ہم نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا۔ تاہم 1971میں مشرقی پاکستان کے اندر ہماری دفاعی قوت خاطرخواہ نہ تھی، جبکہ آج صورت حال اس کے برعکس ہے۔ اب پاکستان کے پاس اپنے تحفظ کے لئے وہ ہتھیار موجود ہیں، جن سے بھارت کا اپنا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...