ایبٹ آباد کمیشن کے سربراہ نے حکومت سے رپورٹ منظرعام پر لانے کا مطالبہ کردیا

ایبٹ آباد کمیشن کے سربراہ نے حکومت سے رپورٹ منظرعام پر لانے کا مطالبہ کردیا
ایبٹ آباد کمیشن کے سربراہ نے حکومت سے رپورٹ منظرعام پر لانے کا مطالبہ کردیا

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسامہ بن لادن کیخلاف مبینہ طورپر ایبٹ آباد میں ہونیوالے امریکی آپریشن کی تحقیقات کیلئے بنائے جانیوالے کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے حکومت سے رپورٹ منظرعام پرلانے کا مطالبہ کردیا اور بتایاکہ تین سال قبل ہی وہ رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرچکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس جاوید اقبال نے بتایاکہ کمیشن نے 12مئی کے واقعے سے متعلق ذمہ داران اور حالات کا تعین کیا ، 700صفحات پر مشتمل رپورٹ کی تکمیل کیلئے ایک سال لگا جس دوران تقریباً300عینی شاہدین کے بیانات اور 3000سے زائد دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد 200تجاویزدی گئیں ۔

کمیشن کے سربراہ جاوید اقبال نے تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ اس کی صاحبزادی نے استفسار کیاکہ کیا اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں موجود تھا یانہیں تو میں نے انہیں بتایاکہ اگر یہ بات بتادی تو رپورٹ میں پھر کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔

لاپتہ افراد سے متعلق بات کرتے ہوئے اُنہوں نے بتایاکہ کمیشن نے گزشتہ ماہ 100سے زائد افراد کی بازیابی سے متعلق مدد دی لیکن اس کی خبر میڈیا پر نہیں تھی ، کمیشن کی پیش رفت ہوئی ہے لیکن اداروں سے ایسا تعاون نہیں ہوا جس کی وہ توقع کرتے تھے ، ذمہ داران کیخلاف تادیبی کارروائی کی بھی سفارش کی ہے ۔

مزید : قومی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...