جعلی ادویاتی ہربل مافیااور شہد فروشوں کے خلاف وزیر اعلٰی پنجاب کا قابل تحسین اقدام

جعلی ادویاتی ہربل مافیااور شہد فروشوں کے خلاف وزیر اعلٰی پنجاب کا قابل تحسین ...
جعلی ادویاتی ہربل مافیااور شہد فروشوں کے خلاف وزیر اعلٰی پنجاب کا قابل تحسین اقدام

  

تحریر: محمد وقاص

پنجاب میں جعلی اور ناقص ادویات بنانے والوں کے خلاف آپریشن کو عوام نے بے حد سراہااور وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ پنجاب میں سے ہراس ادویاتی مافیا کا قلع قمع کردیا جائے جو انسانی جانوں سے کھیلتے ہیں ۔دوسرے صوبوں کو بھی پنجاب کی تقلید میں مثبت اقدامات اٹھا نے چاہئیں ۔اس میں خاص طور پر جعلی اور ناقص بنانے والے ہربل اداروں کے خلاف ایکشن لیاجانا زیادہ سراہا جاناچاہئے جو عرصہ دراز سے غیر سائنسی اور غیر قانونی طور پر ادویات اورفوڈز آئٹمز بنا کر بیچ رہے ہیں اور انہوں نے عوام کو خود تشخیصی کی چاٹ لگا کر باقاعدہ مستند معالجین سے علاج کرانے سے گمراہ کیا ہواہے۔ اس ضمن میں یہ بات واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ کئی شہد بیچنے والے اداروں نے شہد میں مختلف چیزیں ملا کر اسکو دل اور قوت باہ کے مریضوں کو بیچنا شروع کررکھا ہے جس کی وجہ سے ایک طرف دل کے مریضوں میں عدم علاج کے باعث ہلاکتوں کی شرع بڑھ گئی ہے۔ایک عوامی سروے اور ڈاکٹروں کے مطابق بھی مارکیٹ میں خالص شہد کے نام پر کئی اداروں نے لوگوں کو گمراہ کیا ہواہے جس کی وجہ سے وہ بے وجہ فارمولا ٹائپ بازاری شہد استعمال کرنے لگتے ہیں اورانہیں شوگر کا مرض لاحق ہوجاتاہے۔جن کے دل کے والوو بند تھے ، انہیں ڈاکٹروں نے اینجیو پلاسٹی کا کہہ رکھا تھا وہ عجوہ اور شہد سمیت کئی دیگر اشیا کی آمیزش سے تیار کردہ پیسٹ استعمال کرکے مزید بیمار ہوئے اورجان کے ساتھ پیسے کا بھی ضیاع کیا ۔واضح رہے ان میں سے کئی اشتہاری اداروں کے خلاف کارروائیاں کرکے انہیں بند بھی کیا جاچکا ہے۔

گزشتہ چند سال کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان دنیا میں ذیابیطس کے مریضوں کا ساتواں بڑا ملک ہے جو شہد کو غذا سمجھتے ہوئے کھاتے ہیں اور ذیابیطس کا شکار ہوجاتے ہیں ۔اس کے مہلک نتائج کا اندازہ کریں کہ پاکستان میں ہر سال نوے ہزار ذیابیطس کے مریض ہارٹ اٹیک سے مررہے ہیں ۔خالص شہد جو جڑی بوٹیوں سے کشید ہوتا ہے بلاشبہ وہ اللہ کی نعمت ہے لیکن گندے شیرے اور چینی سمیت کیمیکل کی آمیزش سے تیار کیا جانے والا خوش ذائقہ شہد اسلامی جذبات ابھار کر کھانے پر اکسایا جاتا ہے جو کہ غیر سائنسی وغیر طبی طریقہ کارہے۔جدید میڈیکل سائنس یہ ثابت کررہی ہے کہ ناخالص شہد انسانی صحت کے لئے مضر ہے جبکہ شہد میں دوسری اشیا ملا کر بیچنے والوں کے خلاف کریک ڈاون کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ وہ اسکو فوڈ آئٹم کے طور پر بیچتے ہیں حالانکہ انکے اشتہارات خود انکے اس جرم کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ اسکو دوا کے طور پر استعمال کراتے ہیں ۔وزیر اعلٰی اور صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر کو اس جانب توجہ دینی چاہئے کہ ایسے اداروں کودوا کو غذا بنا کر بیچنے کی اجازت انہیں کس نے دی؟ اس حوالے سے یہ بات عام طور پر مشہور ہے کہ ایسے ادارے ڈرگ انسپکٹروں اور متعلقہ اداروں کو منتھلیاں دیکر اپنی دکان چلاتے ہیں ۔اس بات کا ثبوت بھی مل چکا ہے کہ کئی ڈرگ انسپکٹروں نے دوا سازی کے کارخانے بنا رکھے ہیں لہذا جب تک صحت کے اداروں میں سے کالی بھیڑیں ختم نہ کی جائیں گی تب تک جعلساز اور ناقص دوا ساز اداروں کا خاتمہ نہیں کیا جاسکے گا۔مزید براں حکومت کو یہ بات بھی مدنظر رکھنی چاہئے کہ جو ادارے سالہا سال سے اچھی شہرت اور معیارات کے حامل ہیں اور قانونی طور پر نظام کا حصہ ہیں انہیں ہراساں نہیں کرنا چاہئے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ