دنیا کا وہ علاقہ جہاں 456 ایٹم بم چلائے گئے، تاریخ میں ایٹم بم کا سب سے زیادہ نشانہ بننے والا مقام کیونکہ۔۔۔

دنیا کا وہ علاقہ جہاں 456 ایٹم بم چلائے گئے، تاریخ میں ایٹم بم کا سب سے زیادہ ...
دنیا کا وہ علاقہ جہاں 456 ایٹم بم چلائے گئے، تاریخ میں ایٹم بم کا سب سے زیادہ نشانہ بننے والا مقام کیونکہ۔۔۔

  

استانہ (نیوز ڈیسک)ایٹمی تباہی کا جب بھی ذکر ہو تو ذہن میں جاپانی شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی کا نام ابھرتا ہے، لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ دنیا میں ایک ایسا مقام بھی ہے کہ جہاں 456ایٹم بم چلائے جاچکے ہیں اور اس جگہ رہنے والے بدقسمت انسان چار دہائیوں تک ایٹمی دھماکوں کے ہولناک مناظر اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتے رہے۔

اخبار دی مرر کی رپورٹ کے مطابق یہ مقام قازقستان کا علاقہ سیمی پلاٹینسک ٹیسٹ سائٹ(ایس ٹی ایس) ہے، جہاں 1949ءسے 1989ءکے دوران روس نے 456 ایٹم بموں کے ٹیسٹ کئے۔ یہ اس دور کی بات ہے جب سوویت یونین متحد ہوا کرتا تھا، تاہم 1991ءمیں سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد قازقستان آزاد ہو گیا اور اس ٹیسٹ سائٹ کو بند کردیا گیا۔

شام کی حکومت اور باغیوں کا نئے معاہدے پر اتفاق ،حلب کے علاقوں سے انخلا کا عمل دوبارہ شروع ہوگا

ٹیسٹنگ سائٹ سے طویل فاصلے پر انسانی آبادیاں شروع ہوتی تھیں، لیکن کئی میل دور آباد لوگوں کو بھی بے حد خوفناک دھماکوں اور تابکار شعاعوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اس بدقسمت مقام اور اس کے مظلوم باسیوں کے متعلق ایک ڈاکیومنٹری فلم تیار کی ہے جسے ”دی پولیگون پیپل“ کا نام دیا گیا ہے۔ اس ڈاکیومنٹری میں متاثرہ لوگ بتاتے ہیں کہ ایٹم بم ٹیسٹ ان سے کئی میل کی دوری پر کئے جاتے تھے لیکن دھماکوں کی آواز لرزا دینے والی ہوتی تھی۔ یہ ٹیسٹ زیر زمین بھی کئے جاتے تھے لیکن بسا اوقات زمین کے اوپر کھلی فضا میں بھی ایٹمی دھماکے کئے جاتے تھے۔

ایس ٹی ایس کے اردگرد سینکڑوں میل تک تابکاری شعاعوں کی بھرمار تھی، جس کے اثرات آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس علاقے میں آج بھی ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جن میں خوفناک جسمانی بگاڑ پایا جاتا ہے۔ ان میں سے کوئی ہاتھ سے محروم ہوتا ہے تو کسی کا پاﺅں نہیں ہوتا، کوئی چلنے پھرنے کی سکت نہیں رکھتا تو کسی کا دماغ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتا ہے۔

جب 1991ءمیں اس ٹیسٹنگ سائٹ کو بند کیا گیا تو یہاں تابکار مادے کی بھاری مقدار موجود تھی۔ سائنسدانوں نے اس تابکار مادے کو محفوظ طریقے سے یہاں سے ہٹانے کے لئے ایک بڑے پراجیکٹ کا آغاز کیا، جو 17سال پر محیط پرخطر مشقت کے بعد 2012ءمیں مکمل ہوا۔ اگرچہ تابکار مواد یہاں سے منتقل ہو گیا لیکن انسانی زندگی کے لئے یہ علاقہ آج بھی محفوظ نہیں۔

مزید : بین الاقوامی