چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ نے خواجہ سرائوں کو مردم شماری میں الگ سے شمار کرنے کے اقدامات کی رپورٹ طلب کرلی

چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ نے خواجہ سرائوں کو مردم شماری میں الگ سے شمار کرنے کے ...
چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ نے خواجہ سرائوں کو مردم شماری میں الگ سے شمار کرنے کے اقدامات کی رپورٹ طلب کرلی

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی) چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے وفاقی حکومت سے خواجہ سرائوں کو مردم شماری میں الگ سے شمار کرنے کے حوالے سے کئے گئے اقدامات کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے ۔فاضل جج نے اس سلسلے میں وفاقی حکومت کو 9جنوری کے لئے نوٹس جاری کردیئے ہیں ۔درخواسست گزار خواجہ سرا وقار علی کے وکیل شیراز ذکاءنے موقف اختیار کیا کہ خواجہ سرائوں کو معاشرے میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا، آئے دن خواجہ سرائوں پر تشدد کے واقعات بھی رپورٹ ہوتے ہیں ۔جس کی وجہ قانون سازی نہ ہونا ہے جبکہ معاشرتی روئیوں کی وجہ سے خواجہ سرائوں کے والدین بھی انہیں اپناتے نہیں۔انہوں نے استدعا کی کہ وفاقی حکومت کو خواجہ سراوں کے تحفظ، انکے لئے شناختی کارڈ کے اجرا اور انہیں مردم شماری میں شامل کرنے کا حکم دیا جائے۔نادرا کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ قومی شناختی کارڈ کے خانے میں جگہ کم ہونے کی وجہ سے مرد کو ایم،خاتون کو ایف اور خواجہ سراءکو انگریزی کے حرف ایکس کے ذریعے ظاہر کیا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ خواجہ سراءکے پاس مرد یا خاتون کے خانے کے استعمال کا آپشن موجود ہے اس حوالے سے ان پر کوئی قدغن نہیں۔ڈپی اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مردم شماری میں خواجہ سراوں کو شمار کرنے سے متعلق اقدامات کئے جا رہے ہیںجس پر عدالت نے وفاقی حکومت کو خواجہ سراو ¿ں کو مردم شماری میں شمار کرنے کے حوالے سے کئے گئے اقدامات کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ۔

مزید : لاہور