ہائی کورٹ نے گوجرانوالہ ریلوے سٹیشن کی مسماری کو تاحکم ثانی روک دی

ہائی کورٹ نے گوجرانوالہ ریلوے سٹیشن کی مسماری کو تاحکم ثانی روک دی
ہائی کورٹ نے گوجرانوالہ ریلوے سٹیشن کی مسماری کو تاحکم ثانی روک دی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگارخصوصی) چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے گوجرانوالہ ریلوے سٹیشن کی مسماری کو تاحکم ثانی روکتے ہوئے قرار دیا ہے کہ تاریخی عمارتوں کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔پچاس برس بعد ہم یہاں نہیں ہونگے لیکن ہمیں بچوں کے لیے بھی کچھ چھوڑ نا ہے۔فاضل عدالت نے محکمہ ریلوے اور پنجاب حکومت سے تین ہفتوں میں تفصیلی جواب طلب کرتے ہوئے مزید سماعت ایک ماہ کےلئے ملتوی کر دی ۔فاضل عدالت نے محکمہ آثار قدیمہ کو حکم دیاکہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے محکمہ آثار قدیمہ کو حکم دیا آئندہ تاریخ سماعت پر اس بارے میں رپورٹ پیش کریں کہ آیا گوجرانوالہ ریلوے اسٹیشن کی عمارت تاریخی ورثہ ہے یا نہیں ؟درخواست گزار گوجرانوالہ سٹیزن فورم کے رہنما ایس اے حمید ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ حکومت گوجرانوالہ ریلوے سٹیشن کو مسمار کرنے جا رہی ہے اور ریلوے سٹیشن پر کمرشل پلازے بنوانا چاہتی ہے،۔ گوجرانوالہ ریلوے سٹیشن پر اٹھارہ سو اکیاسی میں تعمیر کیا گیا تھا، یہ ریلوے سٹیشن تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور تاریخی اہمیت کی حامل عمارتوں کی مسماری غیرقانونی اقدام ہے۔،لہذا فاضل عدالت اسکا نوٹس لیتے ہوئے گوجرانوالہ ریلوے سٹیشن کی ممکنہ مسماری روکنے کا حکم دئے، سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ یہ عمارت ڈیڑھ سو سالہ پرانی ضرور ہے لیکن اسے تاریخی یا ثقافتی عمارت کا درجہ حاصل نہیں ہے۔، عدالت نے دلائل سننے کے بعد گوجرانوالہ ریلوے سٹیشن کی مسماری تاحکم ثانی روکتے ہوئے محکمہ ریلوے اور پنجاب حکومت سے تین ہفتوں میں تفصیلی جواب طلب کرلیا۔

مزید : لاہور