چرچ کے دشمن

چرچ کے دشمن
 چرچ کے دشمن

  

کوئٹہ پھر لہولہان ہو گیا۔آخر یہ خودکش حملے کس طرح رکیں گے؟ آیا حملہ آور وں کی اکثریت کسی مخصوص نظریے کی حامی ، کسی ردعمل کا نتیجہ ، غیر ملکی طاقتوں کی چپقلش کا شاخسانہ یا موجودہ سسٹم کو بزور طاقت بدلنے والے جنونیوں پر مشتمل مخصوص گروہ کا نام ہے؟خودکش حملہ آور پوری دُنیا کے لئے چیلنج کی سی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔

کبھی فلسطینی خودکشوں کے آخری بیانات کو اسرائیلی ایجنسیاں سکین کرتی ہیں اور کبھی برطانیہ 7/7 کے بمباروں کی ابتدائی زندگی، سکولنگ، کالج،اساتذہ اور محلے داروں کے بیانات اکٹھے کرتا نظر آتا ہے۔پاکستان میں ہونے والے خودکش حملے مذہبی بالادستی کی بجائے خطے میں چودہراہٹ کی جنگ کا نتیجہ ہیں۔

یہ جنگ کئی دہائیوں پر مشتمل ان پالیسیوں کا نتیجہ ہے، جس نے آج پاکستان کو بند گلی میں لاکھڑا کیا ۔ سابقہ وزیراعظم شوکت عزیز پر خودکش حملہ ہوا۔ کھلبلی مچی۔ ریاست چند دِنوں تک متفکر رہی۔ پھر سب کچھ بھلا دیا گیا۔ پرویز مشرف پر منظم حملے ہوئے۔

ریاست میں زبردست اتھل پتھل ہوئی۔ دوبارہ سب کچھ بھلا دیا گیا۔بے نظیر بھٹو خودکش حملے کا شکار ہوئیں۔ ریاست چند گھنٹوں کے لئے مفلوج ہو کر رہ گئی، عوام کا غصہ اشتعال، بدلے کی منزلیں طے کرتا لمحوں کی دھول میں غائب ہوگیا۔

پشاور میں سانحہ اے پی ایس کے نتیجے میں معصوم بچوں کو خون میں نہلا دیا گیا۔ پورے پاکستان میں ہا ہا کار مچ گئی۔ نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا گیا، لیکن بعدازاں کبھی سرمائے کی قلت، کبھی کوآرڈینیشن کی کمی کو بنیاد بنا کر بہت سے اہم نکات پر عمل ہی نہیں کیا گیا۔ ایسی کوتاہیوں نے چرچ پر حملے کی راہ ہموار نہیں کرنا تھی، تو اور کیا ہونا تھا۔

مُلک میں گاہے بگاہے ہونے والے خودکش حملوں کا سلسلہ فی الحال رکتا نظر نہیں آرہا۔ فوج، پولیس ، سول اداروں اور خاص طور پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کو حد درجہ محتا ط رہنے کی ضرورت ہے۔

پولیس کو ضرورت اِس لئے بھی ہے کہ دہشت گرد پولیس کے روایتی مظالم کو باآسانی کیش کروا کر کم عمر خودکشوں کو تھانوں، پولیس لائنوں اور اعلیٰ افسران پر حملوں کے لئے اکسا سکتے ہیں۔ شرپسند کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے۔

کراچی کی خوں ریزی ہو یا مسائل کے دریا میں بہتے انسان، دہشت گرد سبھی چیزوں سے بے نیاز اپنے ایجنڈے کو متواتر آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ جوں جوں مُلک کے داخلی حالات بگڑ رہے ہیں وہ اپنی سفاکانہ کارروائیوں میں بھی تیزی لا نے کے عزم کا اعادہ کر رہے ہیں

شدت پسند یقیناًآنے والے دنوں میں پہلے سے چنی گئی شخصیات پر حملہ آور ہوں گے۔ اب یہاں یہ نکتہ اُٹھتا ہے کیا دہشت گرد جس عزم کا اظہار کر رہے ہیں اس پر عمل درآمد کی اہلیت بھی رکھتے ہیں؟ اگر ماضی قریب میں جھانکا جائے تو شواہد بتاتے ہیں وہ حالات بگاڑنے کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں۔

اہم شہروں میں ان کا نیٹ ورک پہلے سے قائم ہے۔ جہاں نہ صرف ٹارگٹ پر حملہ آور ہونے والوں کو پناہ دی جاتی ہے، بلکہ ہدف کی ریکی بھی کروائی جاتی ہے۔

کچھ عرصہ قبل یہ تاثر عام تھا مذہبی رجحان کی وجہ سے دہشت گرد موجودہ حکومت کی قیادت بارے نرم جذبات رکھتے ہیں۔ یہ صریحا غلط تھا۔ دہشت گرد ریاست کے دشمن ہیں۔اس دشمنی کی راہ میں جو بھی ادارہ ، شخصیت حائل ہوگی اسے مار دیا جائے گا۔ دہشت گرد اپنے سوا کسی کو بھی پورا مسلمان تصور نہیں کرتے۔انسانوں کو ذبح کرنا،اغوا برائے تاوان اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانا، دہشت گردوں نے ان تمام چیزوں بارے فتوی لے رکھا ہے۔

حملوں میں بے گناہوں کی ہلاکت پر ان کا موقف ہے ، چونکہ مرنے والے بدی کے خلاف جدوجہد نہیں کر رہے تھے ،لہٰذا یہ منافقین میں سے تھے اور منافق اگر مارا بھی جائے تو کوئی حرج نہیں۔

اسی طرح اغوا برائے تاوان سے حاصل ہونے والی رقم بھی ان کے لئے حلال ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے رقم کی تقسیم کے معاملے پر کئی کمانڈر محض حصہ کم ملنے پر ایک دوسرے کو ہلاک کر چکے ہیں۔

یہ لوگ ترقی پسند معاشروں بارے اپنے بوسیدہ خیالات کو کم سن بچوں کے ذہنوں میں بھی انڈیل رہے ہیں۔ انہی بچوں کو ہر اول دستے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس تکنیک کے ذریعے دہشت گرد نہ صرف خود کو جانی نقصان سے محفوظ رکھ پا رہے ہیں، بلکہ پناہ گاہوں سے نکلے بغیر متعلقہ نتائج بھی حاصل کر رہے ہیں۔

بچہ اپنے آپ کو اڑا ڈالے انہیں کوئی پرواہ نہیں، وہ خود تو محفوظ ہیں نا؟دس میں سے آٹھ خودکش حملہ آور نوعمروں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ شعور کی منزلوں سے بہت دور انہیں ورغلانا نہایت آسان ہوتا ہے۔

ان خودکش حملہ آوروں میں رضاکاروں کے علاوہ وہ بچے بھی شامل ہوتے ہیں، جنہیں زبردستی اغوا کیا جاتا ہے۔ انہی میں سے ایسے بچوں کو علیحدہ کر لیا جاتا ہے، جن کے سمجھنے کی صلاحیتیں دوسروں سے زیادہ ہوتی ہیں۔ سمجھدار بچوں کو حملے کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا،بلکہ ان کا کام نئے آنے والوں کو ٹارگٹ کے لئے تیار کرنا ٹھہرتا ہے۔ ٹارگٹ کے لئے متعلقہ علاقے کی طرف روانہ کرتے وقت بظاہر یہ تاثر دیا جاتا ہے جیسے تمام گروپ کو ابدی مسرت کی خاطر الوداع کیا جا رہا ہے، لیکن بعد میں چپکے سے ذہین اور تربیت یافتہ بچوں کو دوبارہ واپس منگوا لیا جاتا ہے۔

ٹھہرنے والے بچوں کا کام یہیں ختم نہیں ہوتا، بلکہ یہ ٹیلی فون کے ذریعے ٹاسک کی طرف جانے والوں کا گاہے بگاہے حوصلہ بڑھاتے رہتے ہیں۔ اتنے منظم انداز میں کام کرنے والے گروپوں کو کس طرح کنٹرول کیا جائے گا؟ اگر کل کلاں کو یہ بچے قدرتی آفت میں پھنسے لوگوں کے کیمپوں میں پہنچ جاتے ہیں یا مدد کے طالب بن کر کسی اہم شخصیت تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں تو نتیجہ کیا ہوگا؟ انسانی مزاج میں بچوں بارے شفقت قدرتی بات ہے۔ دہشت گرد اسی انسانی شفقت سے کھیلتے ہوئے اہداف تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔

دُنیا بھر کی مسلح تحریکوں نے کم از کم اس وقت کاروائیاں ضرور روک دیں جب ملک مشکلات میں گھر گئے۔ یہ کیسے لوگ ہیں جو آفتوں کے شکار معاشرے کو مزید تباہ کرنے پر تلے ہیں۔

ان خودکش حملہ آوروں کو کنٹرول کرنے کے لئے ان تھک کاوشوں کی ضرورت ہے۔ اِس دوران جس قدر زیادہ پاکستانی مفاد کا خیال رکھا جائے گا اتنا ہی سود مند ہو گا۔ پاکستانی ریاست کو ہمیشہ وعدوں پر ٹرخایا گیا۔ کیا دوست کیا دشمن ہر کسی نے استعمال کیا۔

آج سبھی اپنے اپنے ممالک میں آرام سے زندگی گزار رہے ہیں اور پاکستانی اِن مسائل سے لڑ رہے ہیں، جن کا چالیس سال پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ یہ کیسے دوست ممالک ہیں،جو اکٹھے ہو کر صرف زکوۃ ہی دے دیں تو پاکستان کا سرکلر ڈیٹ ختم ہو سکتا ہے، لیکن وہ کیوں دیں؟ اگر پاکستانی مصائب سے نکل گئے تو ان کی خاطر لڑے گا کون؟ اور اب تو لڑنے والوں کو خودکش حملہ آور کی صورت اک تباہ کن ہتھیار بھی تھمایا جا چکا ہے۔

باقی جہاں تک رہی امریکیوں کی بات تو یہ پاکستان کو اسی طرح مرواتے رہیں گے۔ کبھی کہیں گے پاکستان کے بغیر افغان مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ کبھی خبر آئے گی افغان پالیسی میں آپ کی کوئی گنجائش نہیں۔

ادھر دوستی ادھر ڈرون حملہ۔ اِدھر پیار اُدھر عالمی مالیاتی اداروں کو شرائط مزید سخت کرنے کی ہدایات اور جب پاکستان ، افغانستان کے مسئلے پر ٹھوس تجاویز دے تو ناقابل عمل۔ کیا ایسی بے یقینی اور بے اعتباری کے ساتھ مقابلہ کیا جائے گا خودکش حملہ آور کی سوچ کا؟

اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا پاکستان اپنے بے پناہ مسائل کے باوجود بحیثیت ریاست فکری سوچ کی منزلیں بڑی سرعت سے طے کر رہا ہے۔ بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش،نیپال، بھوٹان سمیت مشرق وسطی کے ممالک بدستور تبدیلی کی اس سوچ سے عاری نظر آرہے ہیں،جو پاکستان بھر میں نمودار ہو چکی ہے۔بھارت کا غریب اپنے مقدر پر سمجھوتہ کر کے خاموش ہو چکا ہے۔

وہاں دور دور تک کوئی ایسی تحریک نظر نہیں آ رہی، جو اداروں کو ڈائریکشن درست کرنے پر آمادہ کر سکے۔ بنگلہ دیش کے سماجی شعور میں وسیع القلبی کی بجائے فاشزم کے جراثیم نمودار ہوچکے اور بیشتر خلیجی ممالک بدستور بادشاہتوں پر مبنی آمریت کے شکنجے میں جکڑے ہیں۔

خود کو سنوارنے، آگے بڑھانے کی سوچ پاکستانی سماج کو بڑی تیزی سے آگے بڑھا سکتی ہے ، شرط صرف یہ ہے ان تمام بیرونی پلیئرز پر نظر رکھی جائے، جنہیں کسی صورت روشن خیال پاکستان قبول نہیں۔

مزید :

کالم -