تیزی سے بدلتا سیاسی منظر

تیزی سے بدلتا سیاسی منظر
تیزی سے بدلتا سیاسی منظر

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

نواز شریف کی نا اہلی کے بعد بلا شبہ شہباز شریف ایک بڑے فریق کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ جناب مجیب الرحمن شامی نے تو اپنے کالم میں اس کی پیش گوئی بھی کردی ہے کہ آنے والے انتخابات میں عمران خان اور شہباز شریف کے درمیان میدان لگے گا۔

خود عمران خان نے بھی اپنا بیانیہ حدیبیہ کیس کی اپیل کا فیصلہ شریف خاندان کے حق میں آنے کے بعد تبدیل کرلیا ہے، وہ پہلے کہتے تھے شہباز شریف کو بھی نا اہل کراکے دم لیں گے، اب کہتے ہیں کہ شہباز شریف کا میدان میں ہونا ضروری ہے تاکہ اچھا مقابلہ ہوسکے۔

یہ مسلم لیگ (ن) کی کوتاہ نظری ہے کہ وہ ابھی تک مستقبل کے اس منظر نامے کو نہیں سمجھ رہی، جسے اس کے مخالفین بھی سمجھ چکے ہیں۔ مریم نواز کو بھلے’’ ٹائم میگزین ‘‘دنیا کی طاقتور ترین خواتین میں شامل کردے، وہ پاکستانی سیاست کے رموز و اوقاف پر کبھی اتنی گرفت نہیں رکھ سکتیں جتنی شہباز شریف کو حاصل ہے۔ کہنے والے توکہتے ہیں کہ نواز شریف کے پیچھے اصل سیاسی طاقت بھی شہباز شریف کی ہی تھی، اور ہر نازک موقعہ پر وہ صورت حال کو سنبھال لیتے تھے، اس لئے میرے نزدیک تو آنے والے انتخابات میں وزارت عظمیٰ کی دوڑ کے لئے مسلم لیگ (ن) کے پاس سوائے شہباز شریف کے اور کوئی چوائس نہیں

حدیبیہ کیس کھل جاتا تو شہباز شریف کے لئے بہت سی مشکلات کھڑی ہوجاتیں، پھر شاید یہ ابہام پیدا ہوتا کہ مستقبل کی سیاست کا نقشہ کیا ہوگا؟ اب تو دو باتوں کی وجہ سے سب کچھ واضح ہوگیا ہے کہ تحریک انصاف کے پاس عمران خان ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے پاس شہباز شریف۔ پیپلز پارٹی پہلے ہی بلاول بھٹو زرداری کے ذریعے اپنا نیا چہرہ دکھا رہی ہے۔

پچھلے دنوں جب او آئی سی کانفرنس میں شرکت کے لئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ترکی گئے تو وزیراعلیٰ شہباز شریف بھی وہاں تھے۔ کچھ ایسی تصویریں سامنے آئیں جن میں طیب اردوان شہباز شریف سے محو گفتگو ہیں اور شاہد خاقان عباسی پیچھے خاموش کھڑے ہیں۔ اس پر اعتراض کیا گیا کہ شہباز شریف کو وزیراعظم سے بڑھ کر پروٹوکول کیوں ملا، حالانکہ یہ پروٹوکول تو ترکی نے دیا ہوگا۔

اس سے پہلے بھی شہباز شریف سابق وزیراعظم نواز شریف دور میں عالمی کانفرنسوں میں جاچکے ہیں، اس وقت بھی یہی کہا جاتا رہا کہ باقی صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو کیوں نہیں ساتھ لے جایا جاتا۔ یہ سب کچھ شہباز شریف کی اہمیت کا احساس دلاتا ہے۔ اب اگر مسلم لیگ (ن) خود ہی اس ’’اہمیت‘‘ کو کوئی اہمیت نہیں دیتی تو یہ بات خود اس کے لئے نقصان کا باعث بنے گی۔

دیکھا جائے تو ایک بڑی متوازن صورتِ حال پیدا ہونے جارہی ہے، اس صورت حال میں سب کے لئے یکساں طور پر سب کچھ موجود ہے، فی الوقت کسی کا پلڑا بھاری نظر نہیں آرہا، عمران خان سپریم کورٹ کی طرف سے اہل قرار پانے کے بعد ایک نیا اعتماد حاصل کرچکے ہیں، جہانگیر ترین کی نا اہلی اگرچہ ان کے لئے ایک بڑا دھچکا ہے، مگر ان کا نا اہلی سے بچ جانا بہت سے نئے روزن کھول گیا ہے، اگر وہ خود نا اہلی کی زد میں آجاتے تو تحریک انصاف ایک بڑے بحران سے دوچار ہوجاتی۔

آج کل تو تحریک انصاف کو متبادل سیکرٹری جنرل ڈھونڈنا پڑ رہا ہے، مگر عمران خان کی نا اہلی کی صورت میں وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار ڈھونڈنا پڑ جاتا تو جوتیوں میں دال بٹنے کی نوبت آجانی تھی، پھر پارٹی میں ایسا کوئی ہے بھی نہیں جو فی الوقت عمران خان جیسی شخصیت اور مقبولیت رکھتا ہو۔ مسلم لیگ (ن) کے پاس شہباز شریف کی شکل میں نواز شریف کا ایک ہم پلہ متبادل موجود ہے، جسے آج بھی مسلم لیگ (ن) اپنا لیڈر سمجھتی ہے، لیکن تحریک انصاف میں تو اس وقت بھی عہدوں اور اختیارات کی جنگ جاری ہے۔

اس صورت میں تو غدر مچ جانا تھا، پھر جس طرح عمران خان کو کلین چٹ ملی ہے، اسی طرح شہباز شریف کو بھی مل گئی ہے، انتخابی مہم میں کرپشن اگر بڑا ایشو بنتا ہے تو شہباز شریف اس سے صاف بچ جائیں گے، اور عمران خان کو اپنی ساری توپوں کا رخ نواز شریف کی طرف ہی رکھنا پڑے گا۔

اب جہاں تک اس سارے کھیل کے تیسرے فریق کا تعلق ہے تو آصف علی زرداری نے وقت کی نبضوں کو بھانپتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کو آگے کردیا ہے۔

عمران خان جتنا بھی اونچا بولیں، وہ آصف علی زرداری سے آگے نہیں جاسکتے۔ سندھ میں خطاب کریں یا پنجاب میں، کے پی کے میں للکاریں یا بلوچستان میں ان کی زبان پر آصف علی زرداری کے قصے تو آسکتے ہیں، بلاول بھٹو کے نہیں۔


کرپشن کے تمام داغوں سے پاک بلاول ایک ایسا ٹرمپ کارڈ ہے جو جہانگیر ترین کے اے ٹی ایم کارڈ کے برعکس کبھی بند نہیں ہوگا۔ بلاول بھٹو زرداری کا سیاسی قد کاٹھ تیزی سے نکل رہا ہے، ان کے لہجے میں پایا جانے والا بچپنا بھی ختم ہورہا ہے، وہ ایک اچھی اور نپی تلی تقریر بھی کرنے لگے ہیں، ان کی باڈی لینگوئیج اور پارٹی رہنماؤں سے ان کی گفتگو میں بلا کا اعتماد عود کر آیا ہے۔

ملتان میں ایک بڑے اور کامیاب جلسے کے بعد جب وہ یوسف رضا گیلانی اور مخدوم احمد محمود کو بہاولپور اور رحیم یار خان میں اپنے آئندہ جلسوں کی تیاری کا کہہ رہے تھے تو ان کا انداز ایک کمانڈر جیسا تھا، سو پیپلز پارٹی بھی نئے کیل کانٹے سے لیس ہوکر میدان میں اتر چکی ہے، سندھ پیپلز پارٹی کے لئے آج بھی کوئی بڑا مسئلہ نہیں، اندرون سندھ اس کی گرفت آج بھی ڈھیلی نہیں پڑی، بلاول بھٹو زرداری کی سیاسی مصروفیات کا بڑا مرکز اب پنجاب نے بننا ہے اور پنجاب میں بھی جنوبی پنجاب پر ان کی گہری نظر ہے، کیونکہ یہی وہ خطہ ہے جہاں سے پنجاب پر حکمرانی کے دیرینہ خواب کی تکمیل ممکن ہے۔

میں پہلے بھی اپنے کالموں میں بتا چکا ہوں کہ ملتان میں بلاول ہاؤس کی تعمیر ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ اب پنجاب میں ان کا ہیڈ کوارٹر ملتان کا بلاول ہاؤس ہوا کرے گا۔ مقصد یہ ہے کہ قریب بیٹھ کر اس خطے کی سیاست میں جگہ بنائی جائے۔ ملتان کے جلسے نے مقبولیت کے جو بند دروازے کھولے ہیں، آصف علی زرداری انہیں اب بند نہیں ہونے دیں گے۔

اگرچہ ہوا وہی ہے جس کا ڈر تھا، پیپلز پارٹی پر ملتان جلسے کے بعد سرائیکی قوم پرستوں کی تنقید کے تیر چل رہے ہیں۔ اس طرف پہلے ہی ایک کالم میں اشادہ کیا تھا کہ کوئی بھی قومی سیاسی جماعت آسانی سے سرائیکی صوبے کی حمایت حاصل نہیں کرپائے گی، کیونکہ یہاں اب مخلوط آبادی موجود ہے۔

سرائیکی صوبے کی حمایت کا مطلب یہ ہوگا کہ پنجابی، اردو، ہندکو، براہوی، بلوچی اور دیگر زبانیں بولنے والے عوام عدم تحفظ کا شکار ہوکر اس جماعت کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیں گے

وہی ہوا پیپلز پارٹی کے جلسے میں سرائیکی صوبے کی بجائے جنوبی پنجاب کوالگ صوبہ بنانے کا اعلان کیا گیا، بلاول بھٹو زرداری نے اگرچہ سرائیکی میں ’’گھنسو گھنسوصوبہ گھنسو‘‘ کا نعرہ لگایا، مگر صوبے کا نام انہوں نے سرائیکستان کی بجائے جنوبی پنجاب لیا۔

اب ان کے جانے پر یہاں تنقید جاری ہے کہ پیپلز پارٹی نے پھر دھوکہ کیا ہے ایک دھوکہ سید یوسف رضا گیلانی کے دور وزارت عظمیٰ میں دیکھا گیا تھا اور ایک اب ،یہی وہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے جو جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ نہیں بننے دے رہی۔

جب ایک صوبے کے نام پر ابھی تک اتفاق نہیں ہوسکا تو اسے حاصل کیسے کیا جاسکتا ہے؟ بہرحال اس کے باوجود اس علاقے میں سیاست کا ایک اہم ترین ایشو آج بھی الگ صوبے کا مطالبہ ہی ہے۔

خیر یہ سب کچھ تو اب چلتا ہی رہے گا، اطمینان بخش خبریں یہ آرہی ہیں کہ حلقہ بندیوں کا معاملہ نمٹ گیا ہے، عمران خان اور شہباز شریف کلیئر ہوگئے ہیں، عام انتخابات وقت مقررہ پر ہوجائیں گے اور جمہوریت کا سفر جاری رہے گا۔رہا معاملہ نواز شریف کا تو انہیں اس سارے عمل میں ایک مدبر سیاستدان کا کردار ادا کرتے ہوئے جمہوریت کو ڈی ریل ہونے سے بچانے کے لئے اپنا کلیدی کردار ادا کرنا چاہئے۔

وہ خود تو وزارتِ عظمیٰ کی دوڑ سے باہر ہوگئے ہیں، مگر ان سے بادشاہ گر کی حیثیت کوئی نہیں چھین سکتا۔ ان کی ساری توجہ اس بات پر مرکوز ہونی چاہئے کہ اگلے پانچ برسوں میں بھی ملک پر مسلم لیگ (ن )کی حکومت رہے تاکہ وہ اپنے ایجنڈے کو مکمل طور پر نافذ کرسکیں، اگر وہ دوسری طرف چلے جاتے ہیں اور ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘ کی کیفیت کے زیر اثر کوئی منفی ایجنڈا اپنا لیتے ہیں تو اس سے ان کے ہاتھ بھی کچھ نہیں آئے گا اور ملک کے حالات بھی بگڑیں گے، بہتر ہے وہ مستقبل کے سیاسی منظر نامے پر نظر رکھیں، بجائے پیچھے مڑ مڑ کر دیکھنے اور آہیں بھرنے کے۔

مزید :

کالم -