موسیقار رشید عطرے کی 50ویں برسی

موسیقار رشید عطرے کی 50ویں برسی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور (فلم رپورٹر ) بر صغیر کے نامور موسیقار رشید عطرے کی 50ویں برسی گزشتہ روز منائی گئی ۔رشید عطرے کااصل نام عبدالرشید تھا اور وہ 1917ء میں بھارتی شہر امرتسر میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد خوشی محمد کا بھی اپنے دور کے نامور موسیقار وں میں شمار ہوتاتھا ۔
رشیدعطر ے نے فن موسیقی کا آغازتقسیم ہند سے قبل 1942ء میں بننے والی فلم ’’شیریں فرہاد‘‘ سے کیا۔ اس کے بعد ممبئی میں 6 فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔ قیام پاکستان کے بعد ان کی پہلی فلم ’’ببلی‘‘ تھی جو کامیاب نہ ہو سکی لیکن اس کے بعدفلم’’ شہری بابو‘‘ کی موسیقی کیلئے رشید عطرے کو چنا گیا جس کے گانوں نے تہلکہ مچا دیا۔ان کے مشہور گیتوں میں ساڈے انگ انگ وچ پیار نے پینگا ں پائیاں نیں ، آئے موسم رنگیلے سہانے ،دلا ٹھہر جایا ر دا نظارا لین دے ،باوری چکوری کرے دنیا سے چوری چوری ،صدا ہوں اپنے پیار کی ،مجھ سے پہلی سی محبت میر ے محبوب نہ مانگ،گائے گی دنیا گیت میرے ،نگاہیں ملا کر بدل جانے والے ،لٹ الجھی سلجھاجا رے بالم جیسے لازوال گیتوں کی مسحور کن موسیقی ترتیب دی ۔رشید عطرے نے 80 سے زائد فلموں کی موسیقی ترتیب دی جن میں بیشتر اردو تھیں،انہوں نے موسیقار کے نام سے اپنی ذاتی فلم بھی بنائی ۔سرفروش، وعدہ، 7لاکھ، نیند، قیدی اور مکھڑا جیسی شہکار فلموں کی موسیقی دی اورتین نگار ایوارڈ اپنے نام کیے۔رشید عطرے 18دسمبر 1967ء کو جہان فانی سے کوچ کر گئے تھے ۔ لیکن اپنے تخلیقی کام کی وجہ سے وہ آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

مزید :

کلچر -