کراچی : کارپارکنگ کا توجہ طلب مسئلہ

کراچی : کارپارکنگ کا توجہ طلب مسئلہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کراچی پاکستان کا دل ہے جہاں ہر روز ہزاروں افراد پاکستان کے مختلف شہروں سے روزگار تعلیم اور کاروبار کے سلسلے میں آتے ہیں۔شہر میں نئے علاقے نئی نئی بستیاں آباد ہورہی ہیں۔کراچی جیسے بڑے شہر کو جہاں کئی مسائل کا سامنا ہے ان ہی میں سے ایک اہم شاہراہوں پر موٹرسائیکل اور گاڑیوں کی پارکنگ کی عدم دستیابی بھی قابل غور مسئلہ ہے۔ ، بڑھتے ہوئے ٹریفک جام اور کارپارکنگ کے مسائل نے شہریوں کو اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔کراچی کی کم و بیش ہر شاہراہ پر پارکنگ نہ ہونے کے برابر ہے یا پھر اگر ہے بھی تو غیر قانونی ہے۔ ٹریفک پولیس ٹریفک کنٹرول کرنے کے بجائے غیر قانونی چارجڈ پارکنگ اور ناجائز چالان کرنے میں مصروف رہتی ہے جس کی وجہ سے دن رات سڑکوں پر ٹریفک جام رہتا ہے۔ صدر کے علاقے کو کراچی کا دل کہا جاتا ہے لیکن اس وقت یہ علاقہ تجاوزات کی بھرمار کے باعث ٹریفک جام کے مسائل اور گندگی کا ڈھیر بن چکا ہے۔شہری گھنٹوں گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسے رہتے ہیں ۔کے ایم سی ،ڈی ایم سی اورپولیس کی ناجائز پتھاروں سے یومیہ لاکھوں روپوں کی وصولی کا سلسلہ جاری ہے۔ صدر کی سڑکوں سے ہزاروں چھوٹی بڑی گاڑیاں گزرتی ہیں ۔ جناح اسپتال اور سول اسپتال کے لیئے ایمبولنسیں بھی صدر سے گذرتی ہیں ۔علاقے میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر سیوریج کا پانی سڑکوں پر جمع ہونے سے شدید تعفن امراض کے ساتھ ساتھ ڈینگی ملیریا یہ چکن گونیا جیسے امراض پھلنے کا خدشہ ہے ،ناجائز تجاوزات کے باعث پیدل چلنے والوں کیلئے بنائی گئی فٹ پاتھوں پر وکانداروں نے بھی دکانیں سجا رکھی ہیں،اور اس پر فٹ پاتھ کے نیچے ٹھیلہ مافیا نے اپنے ٹھیلے لگا رکھے ہیں ،ٹھیلوں کے بعدجو جگہ بچتی ہے اس پر غیر قانونی پارکنگ مافیا نے قبضہ کر رکھا ہے ، جس سے یہاں سے گزرنے والی ٹریفک کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ناجائز تجاوزات کے باعث ٹریفک کا جام ہونا روز کا معمول بن چکا ہے جس سے منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرنا پڑتا ہے۔ذرائع کے مطابق علاقے میں پھل فروخت کرنے والے یومیہ دو سو روپے پولیس کو ادا کرتے ہیں جس پر پولیس انھیں کچھ نہیں کہتی ہے ۔حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث غیر قانونی چارجڈ پارکنگ بھی قائم ہیں جو شہریوں سے پارکنگ کی مد میں لاکھوں روپے وصول کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق صدر پولیس یومیہ لاکھوں روپے پتھاروں اور ناجائز پارکنگ سے بٹور رہی ہے۔ شہر کے معروف ترین علاقے میں سیکورٹی خدشات کے باعث ناجائز تجاوات ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔زرائع کے مطابق شہر قائد میں 45لاکھ سے زائد گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں اور45لاکھ گاڑیوں کیلئے ٹریفک پولیس کی تعداد 38سو ہے۔جس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک ٹریفک پولیس اہلکار کو 1184گاڑیوں کو سنبھالنا ہوتا ہے۔جبکہ ایک اندازے کے مطابق لاہور کی آبادی 9.7ملین،جبکہ 2.2ملین گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں اور ٹریفک پولیس کی تعداد 31سو ہے۔اس کے حساب سے لاہور میں ایک ٹریفک اہلکار کو 677گاڑیاں سنبھالنی ہوتی ہیں۔کراچی میں ٹریفک کی سست روانی گاڑیوں کی تعداد میں روزانہ اضافے،پارکنگ ایریاز کی کمی،سڑکوں پر غیر قانونی تجاوزات، ہڑتالوں کی وجہ سے روڈ بلاک،سیکیورٹی خدشات اور ریلیوں،ٹریفک کے شدید دباؤ،سڑکوں کی خستہ حالی،سڑکوں پر سیوریج کا پانی اور پیدل گھومنے والوں کیلئے فٹ پاتھ یا پیڈسٹرین برج کے نہ ہونے جیسے مسائل شامل ہیں۔ زرائع کے مطابق یومیہ 9ہزار ٹریفک چالان کاٹے جاتے ہیں اور 2013میں ٹریفک چالان کی مد میں 253ملین کی وصولی ہوئی جوکہ 2014میں 403ملین جبکہ 2015میں 459ملین روپے کی اضافی ریکارڈوصولی ہوئی۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کو شہر میں پتھارا مافیا کے قبضے کا، ٹریفک جام اور پارکنگ کے مسائل کا بخوبی علم ہے اور وہ اس حوالے سے احکامات بھی جاری کرتے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہ ہونا ہی اصل مسئلہ ہے وزیراعلی سندھ نے سندھ پولیس کو ہدایت کی کہ شہریوں کو ٹریفک قوانین کے بارے میں آگاہی دی جائے اور وہ اس بات پر بھی غور کریں گے کہ ٹریفک کے بارے میں آگاہی کو اسکول کے سلیبس میں شامل کیا جائے۔انہوں نے آئی جی پولیس کو ہدایت دی کہ وہ ٹریفک پولیس کے مسائل کے حل کیلئے ترجیحی بنیادوں پر ایک جامع حکمت عملی مرتب کریں،کیونکہ میں چاہتاہوں کہ ٹریفک پولیس کو آلات اور سازوسامان سے آراستہ کیا جائے اور ان کی صلاحیتوں میں بہتری لانے کیلئے انہیں تربیتیں فراہم کی جائیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کی مسائل کے حل میں سنجیدگی اپنی جگہ لیکن تشویشناک بات یہ ہے کہ نچلی سطح پر ان احکامات پر عملدرآمد نہیں ہورہا ہے ۔ایک وقت تھا کہ صدرکارپارکنگ پلازہ کو بھی تمام مسائل کا حل قرار دے دیا گیا تھا۔ مگر زمینی حقائق سے سب واقف ہیں کہ یہ پلازہ کس قدر عوام کے لیے مفید ثابت ہو رہا ہے اور گنجان تجارتی مرکز صدر مارکیٹ کے اطراف سے کارپارکنگ کا مسئلہ کس قدر حل ہوا ہے۔حکومت بڑے بڑے پارکنگ پلازے جدید کارپارکنگ ٹیکنالوجی کو بھی ضرور پاکستان میں متعارف کروائے مگر اس کے ساتھ ساتھ کچھ چھوٹے چھوٹے اقدامات اگر جاری رہیں تو بتدریج یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔کچھ اہم شاہرائیں جہاں مناسب پارکنگ ہونا بے حد ضروری ہے ، ان میں شاہراہ فیصل، ایم اے جناح روڈ، راشد منہاس روڈ، آئی آئی چندیگر روڈ، طارق روڈ، شاہراہ قائدین ، شاہراہ پاکستان اور یونیورسٹی روڈ شامل ہیں۔ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ صرف ان اہم شاہراں پر ایک یا دو پارکنگ اسپاٹس کافی نہیں بلکہ جگہ جگہ کچھ فاصلے یہ سہولت فراہم کی جائے تاکہ ٹریفک کی روانی برقرار رہے۔ ایسے ہی شہر سے پتھارا مافیا کا خاتمہ کرکے انہیں روزگار کمانے کے لیے متبادل جگہ فراہم کی جائے ،کھلے میدانوں میں بچت بازاروں کا انعقاد کرکے بھی انہیں روزگار فراہم کیا جا سکتا ہے ۔عام طور پر ٹریفک پولیس کے عہدیدار کراچی شہر میں ٹریفک جام کی اہم دجوہات تجاوزات ،پتھارا نافیا، نو پارکنگ اور غلط سمت میں ڈرائیونگ کو گردانتے ہیں۔ دوسری جانب اگر دیکھا جائے تو نو پارکنگ کی اہم وجہ پارکنگ کی عدم دستیابی ہے اور اس کمی کو پورا کرنے میں انتظامیہ کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔امید کی جاتی کراچی کی اکثر اہم کاروباری مارکیٹوں کے پاس پارکنگ کی اس کمی کو پورا کرنے کیلئے بھی مثبت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ہر نئے پلازہ پر پارکنگ کی لازمی شرط کو حکومتی سرپرستی میں عمل میں بھی لایا جائے۔اس طرح کے اقدامات کرکے کراچی کے شہریوں کو ایک بڑی اذیت سے نجات دلائی جاسکتی ہے ۔

مزید :

ایڈیشن 2 -