2018ء: ہائیکورٹ سمیت ماتحت عدالتوں کی عام تعطیلات کا نوٹیفیکیشن جاری

2018ء: ہائیکورٹ سمیت ماتحت عدالتوں کی عام تعطیلات کا نوٹیفیکیشن جاری

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہور ہائیکورٹ سمیت پنجاب بھر کی ماتحت عدالتوں کی 2018ء کی عام تعطیلات کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیاہے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے مغربی پاکستان سول کورٹس آرڈیننس 1962ء کے تحت آئندہ سال کی جنرل تعطیلات کی منظوری دی، نوٹیفیکیشن کے مطابق آئندہ برس 5 فروری کشمیر ڈے، 23 مارچ یوم پاکستان کی تعطیل ہو گی جبکہ 30 مارچ اور یکم اپریل کو عدالتوں کے مسیحی ملازمین کی تعطیل ہو گی، یکم مئی 2018ء کو پنجاب کی ماتحت عدالتوں اور لاہور ہائیکورٹ کے پرنسپل نشست سمیت تمام بنچوں پر تعطیل ہو گی، نوٹیفیکیشن میں 16، 17 اور 18 جون کو عیدالفطر کی تعطیلات کو اسلامی مہینے کی تاریخ سے مشروط کرتے ہوئے تعطیل مقرر کی گئی ہے جبکہ آئندہ برس 14 اگست یوم آزادی کے روز بھی ہائیکورٹ سمیت پنجاب بھر کی عدالتیں بند ہوں گی، آئندہ سال 22 اور 23 اگست کو اسلامی مہینے کے مطابق عید الاضحی ، 19 اور 20 ستمبر 2018ء کو یوم عاشور کو اسلامی مہینے سے مشروط کرتے ہوئے تعطیل کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے جبکہ 30 اکتوبر کو حضرت داتا گنج بخش کے عرس کی مقامی تعطیل بھی اسلامی مہینے کے مطابق ہو گی، اسی طرح اگلے سال 20نومبر کو اسلامی کیلنڈر سے مشروط کرتے ہوئے عید میلاد النبی کی تعطیل مقرر کی گئی ہے ، 25 دسمبر 2018ء کو بانی پاکستان قائداعظم کے یوم پیدائش پر ماتحت عدالتوں سمیت ہائیکورٹ میں تعطیل ہو گی، نوٹیفیکیشن میں موسم سرما کی تعطیلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 25 دسمبر 2018 سے یکم جنوری 2019ء تک ماتحت عدالتوں اور لاہور ہائیکورٹ کے ملازمین جبکہ 25 دسمبر سے 8 جنوری تک صرف لاہور ہائیکورٹ کے ججز کیلئے تعطیلات ہوں گی، آئندہ برس کی جنرل تعطیلات کے نوٹیفیکیشن کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں 2 جولائی سے یکم ستمبر 2018 ء تک موسم گرما کی تعطیلات ہوں گی اور پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں یکم اگست سے 31 اگست 2018ء تک موسم گرما کی تعطیلات ہوں گی، نوٹیفیکیشن کے میں واضح کیا گیا ہے کہ مری اور کوٹلی ستیاں ضلع راولپنڈی کی ماتحت عدالتوں میں اگست کے بجائے ہر سال کے جنوری کے پورے مہینے میں تعطیلات ہوں گی، نوٹیفیکیشن کی کاپیاں لاہور ہائیکورٹ کی تمام نشستوں سمیت پنجاب بھر کی ماتحت عدالتوں میں بھجوا دی گئی ہیں ۔

مزید :

علاقائی -