تھلے نوں۔۔۔ تھلے نوں

تھلے نوں۔۔۔ تھلے نوں
 تھلے نوں۔۔۔ تھلے نوں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

بڑے بھیا اب جتنی مرضی تحریک چلالیں، سکرپٹ تو صاف لکھا جاچکا ،مقابلہ اب عمران خان اور چھوٹے بھیا کے درمیان ہوگا، ہاں یہ ضرور ہے کہ بڑے بھیا تحریک ہی اس لئے چلائیں کہ چھوٹے بھیا بھی آؤٹ ہوجائیں یعنی کھیڈاں گے نہ کھڈاواں گے
وچ پھسوڑی پاواں گے۔


لیکن میرا یقین ہے کہ میاں صاحب ماضی کے مشہور اداکار مظہر شاہ کی طرح صرف بڑھکیں مار رہے ہیں ، وہ خود بھی تحریک میں اتنے سنجیدہ نہیں، سیاست کرنی ہے تو پھر تھوڑی بہت چاند ماری شب شبھا ہوتے رہنا چاہئے، ویسے تو جب بھی ان کے حوالے سے حالات کچھ نارمل ہونے لگتے ہیں مریم بی بی ایسا دھبڑ دھوس بیان داغ دیتی ہیں کہ معاملہ پھر وہیں آجاتا ہے، خیر میاں صاحب کیلئے ان مشکل حالات اور بری خبروں میں یہ خبر ضرور سکون بخش ہوگی کہ مریم بی بی دنیا کی گیارہ طاقتور ترین خواتین میں شامل ہوگئی ہیں۔ ماشا ء اللہ ان کی طاقت ان کے بیانات میں صاف نظر آتی ہے، لیکن ان کے بیانات اگر تھوڑے ٹھنڈے ہوجائیں تو شاید میاں صاحب کے گرد لگی آگ کم پڑ جائے۔۔۔ شیخ صاحب نے فقیر کو باسی روٹیاں دے دیں، فقیر گھر کے سامنے کھڑا رہا، شیخ صاحب نے پوچھا اب کھڑے کیوں ہو اور کیاچاہئے؟ فقیر بولا ہاضمے دی گولیاں وی دے دیو، اتنے سخت لہجے اور بیانات سے بڑے بڑوں کے ہاضمے خراب ہوجاتے ہیں، ہم تو التجا ہی کرسکتے ہیں کہ بیٹا جی دوسروں اور خاص طور پر اپنے پاپا پر رحم ہی کریں۔


جہانگیر ترین کی نا اہلی تو خیر دیوار پر لکھی نظر آرہی تھی لیکن خان صاحب کا بھی محفوظ سفر اس لئے یقینی تھا کہ اگر میاں صاحب کے بعد وہ بھی انصاف کو پیارے ہوجاتے تو سیاسی سین کیا رہتا، بھلااچھے ہیرو اور اچھے ولن کے بغیر بھی کوئی فلم چلتی ہے، مزاحیہ فلمیں ایک دو دن تو دیکھی جاسکتی ہیں، بلاک بسٹر کبھی نہیں رہتیں، اب آصف زرداری کو دیکھیں آجکل گول مال ٹو تھری جیسی ایکٹنگ کررہے ہیں اور ان کی بے ساختہ اداکاری پر بے ساختہ ہنسی بھی آجاتی ہے لیکن ابھی گلیاں اتنی سنجی نہیں ہوئیں کہ مرزا یار سٹیپ مارتا پھرے، اپنے جلسے کامیاب کرنے کیلئے انہیں مستقل طور پر ملک ریاض کے کارکنوں کو اپنے ساتھ رکھنا ہوگا، اس لئے مستقبل کی فلم میں انکا اتنا ہی کردار ہوگا کہ جہاں ہیرو اور ولن کا سین کٹ ہو، ناظرین کی مسکراہٹ کیلئے ان کی اینٹری کروا دی جائے، رہے عمران خان تو انکا بینک ضرور بند ہوا ووٹ بینک محفوظ ہے، لوگ جو مرضی کہیں کہ ان کی جیب کٹ گئی یا جہاز کریش ہوگیا اصل بات یہ ہے کہ ان کی سیاسی جان بچ گئی ان کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔۔۔ بحری جہاز ڈوب رہا تھا کیپٹن نے سردار جی سے پوچھا زمین کتنی دور ہے، وہ بولے ایک کلو میٹر، کیپٹن نے اوکے کہا اور جہاز سے چھلانگ مار دی، پانی میں گرنے کے بعد اس نے پوچھا زمین کس طرف ہے سردار جی بولے تھلے نوں تھلے نوں، خیر ابھی ایسی نوبت نہیں آئی کہ ہمارا کپتان اپنے بحری جہاز سے چھلانگ مارے، اور خیر سے نہ ہی تحریک انصاف اتنی ماڑی ہے کہ بس جہانگیر ترین ہی امیر ترین ہیں وہاں تو جنہوں بھنو اوہی لال نکلے گا، وہ ایک بار جہاز اور اے ٹی ایم کی خواہش تو کریں ہر ضلع سے آواز آئے گی تنا تنا تن تن تارا، چلتی ہے کیا نو سے بارہ۔


ہم کب سے چیختے بلکہ چنگھاڑتے آرہے ہیں کہ بھائی میرے یہ نظام اس حد تک کرپٹ ہوچکا ہے کہ اس سے ایک عام آدمی، ایک مزدور، ایک غریب آدمی کیلئے کبھی خیر کی آواز بلند نہیں ہوسکتی ۔تاش کے باون پتوں کو پھینٹتے رہیں پھینٹتے رہیں۔۔۔ کیا فرق پڑے گا کبھی کوئین اوپر آجائے گی کبھی کنگ اور کبھی جوکر، لیکن رہیں گے وہی باون پتے، چہرے بدلنے کا کیا فائدہ، نظام بدلنے کی ضرورت ہے لیکن نظام بدلے تو بدلے کون؟ کون ہے مسیحا کون ہے اس ماڑی اور مری مخلوق کا ہمدرد؟ کسان گنا اگاتا ہے اور پھر حکمرانوں سے کہتا ہے کہ انہیں شوگر مافیا سے بچائے، اور شوگر مافیا اسمبلیوں میں بیٹھا ہے، وہ گندم اگاتا ہے اور آٹا مافیا اسمبلیوں میں بیٹھا ہے، مرنے والے مرتے پھرتے ہیں اور مارنے والے اسمبلیوں اور اقتدار کے ایوانوں میں اس مخلوق کے ٹیکسوں سے موجیں کرتے ہیں، اور پھر اپنے جلسوں میں گالیاں نکالتے ہیں ٹھمکے لگاتے ہیں، اب آسمان سے تو کسی نے اترنا نہیں، ہمیں اپنے ہاتھوں سے اپنا مقدر لکھنا ہے، آخر کب تک ہم ہر چار پانچ سال بعد اپنے خوابوں کے کھلواڑ کیلئے ارکان چنتے رہیں گے؟ جب تک کھیتوں کھلیانوں، دکانوں کارخانوں، میلوں ٹھیلوں، گلی بازاروں، ورکشاپوں، دفاتر، کچہریوں، تعلیمی ادارو ں میں کام کرنے والے عام تعلیم یافتہ پاکستانی اٹھ کھڑے نہیں ہونگے ہم اسی طرح روتے رہیں گے، کہتے ہیں امید پر دنیا قائم ہے، اور میرا کالم تو قائم ہی امید پر ہے۔ اس میں گھس جائیں تو آپ کو اچھا خاصا گائنی وارڈ کا لیبر روم لگے گا، کوشش کرنے میں حرج کیا ہے ۔۔۔ایک بار ہمت تو کریں ۔۔۔ بچے نے اپنے باپ سے پوچھا اگر میں پاس ہوگیا تو آپ کیا کریں گے، وہ بولا میں خوشی سے پاگل ہوجاؤنگا بچہ بولا بس اسی ڈر سے میں پاس نہیں ہوتا۔ ہمیں اس ڈر سے نکلنا ہوگا، اس بار عام آدمی عام آدمی کو سامنے نہ لایا تو پھر وہی ہوگا جو آج ہورہا ہے۔


چیف جسٹس صاحب درست کہتے ہیں کہ کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ عدلیہ کو دباؤ میں لائے، لیکن نہایت ادب و احترام سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ واقعات ایسے پے در پے سامنے آتے ہیں کہ بندہ الٹ سے الٹ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے، وہ جو کہتے ہیں کہ انصاف ہونا نہیں ہوتے نظر بھی آنا چاہئے ۔۔۔ہم کیا بولیں شاید ہماری نظر کمزور ہے، میں صرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں ہمیں آپ پر پورا یقین ہے، اعتماد ہے، آپ مشکل حالات میں بہترین انصاف کررہے ہیں۔ لیکن سر بات صرف عدلیہ کی نہیں معاشرے میں انصاف کی بھی ہے، جواب ختم ہوچکا ہے، یہاں ماؤں کے بچے دن دیہاڑے مارے جاتے ہیں، بیٹیاں اٹھائی جاتی ہیں اور پھر قاتل درندے وکٹری کے نشان بناتے ہیں، ملک سے باہر چلے جاتے ہیں، اربوں کھربوں لوٹنے والے علاج کے بہانے ہسپتالوں میں موج کرتے ہیں اور ای سی ایل کو ٹھڈے مارتے دوڑتے پھرتے ہیں، وقت کے قاضی کیوں خاموش ہیں۔


پپو اپنی گرل فرینڈ سے بولا اب تم پہلے جیسی نہیں رہیں پہلے میں ہاتھ پکڑتا تھا تو تم آنکھیں بند کرلیتی تھیں، وہ بولی چورا پچھلی وار وی توں میری اکھاں بند کردے ای پرس وچوں پیسے کڈ لئے سی ۔۔۔ میں کیا کروں اب میں چاہ کر بھی آنکھیں بند نہیں کرسکتا، سیاستدان، حکمران رحم کریں، ہمارے یقین سے ایسا کھلواڑ نہ کریں۔

مزید :

کالم -