فرانس میں 30 کروڑ ڈالرکامحل ، اصل خریدار سعودی ولی عہدہیں، نیو یارک ٹائمز

فرانس میں 30 کروڑ ڈالرکامحل ، اصل خریدار سعودی ولی عہدہیں، نیو یارک ٹائمز

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


واشنگٹن (آئی این پی)امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان فرانس میں 30 کروڑ ڈالر مالیت کے محل کے اصل خریدارہیں۔نیویارک ٹائمزنے پیرس کے مغرب میں واقع محل کو دنیا کا مہنگا ترین گھر قرار دیتے ہوئے رپورٹ دی کہ اپنے ملک میں بدعنوانی کے خلاف مہم چلانے والے طاقتور ولی عہد کی غیر معمولی قیمتی خریداریوں کی ایک کڑی ہے۔نیویارک ٹائمز کے مطابق نئے تعمیر ہونے والے محل کو 2015 ء میں ایک نامعلوم گاہک نے خریدا تھا اور اس کے مالک کی شناخت کو شیل کمپنیوں کے ذریعے خفیہ رکھا گیا تھا تاہم شاہی خاندان کے مشیروں نے تصدیق کی ہے کہ محل کے خریدار محمد بن سلمان ہیں۔سعودی حکام نے جولائی میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ پر ردعمل دینے سے انکار کیا تھا جس میں فرانس کی تحقیقاتی صحافت کی ویب سائٹ میڈیا پارٹ میں نشاندہی کی گئی تھی کہ شہزادہ محمد بن سلمان محل کے اصل خریدار ہیں۔فارچون میگزین نے 2015 میں اس محل کی فروخت کے وقت بتایا تھا کہ محل کے فواروں کو آئی فون کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور اپنے طرز تعمیر کے لحاظ سے یہ 17ویں صدی کی عمارت دکھائی دیتی ہے۔اس وقت محل کی خریداری کو دنیا کا سب سے مہنگا گھر قرار دیا گیا تھا۔اصل میں عمارت کو 19 ویں صدی میں تعمیر کیا گیا تھا تاہم سعودی عرب کی ایک کمپنی نے اسے خرید کر منہدم کر دیا تھا اور اس کی جگہ نئی عمارت کھڑی کی ۔57 ایکٹر پر مشتمل اس محل میں سینیما گھر، ڈیلکس سوئمنگ پول، فوارے، سرنگ اور زیر آب کمرہ ہے جس کی شیشے کی چھت سے پانی میں تیرتی رنگ برنگی مچھلیوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔نیویارک ٹائمز کے مطابق محل کو ایٹ انویسٹمنٹ کمپنی کے ذریعے خریدا کیا گیا تھا اور اسی کمپنی کے ذریعے 2015 میں 50 کروڑ ڈالر کی ایک لگژری کشتی خریدی گئی تھی۔اس سے پہلے رواں ماہ ہی وال سٹریٹ جرنل کے مطابق اطالوی آرٹسٹ لیونارڈو ڈاونچی کی بنائی ہوئی دنیا کی مہنگی ترین پینٹنگ 'سلاوتور مندی' کے خریدار سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہیں۔یاد رہے کہ گذشہ ماہ نیویارک میں ہونے والی نیلامی میں 500 سال پرانی پینٹنگ 45 کروڑ ڈالر میں فروخت ہوئی تھی لیکن نیلام میں خریدنے والے کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔
سعودی ولی عہد

مزید :

صفحہ آخر -