آئین مخالف فیصلے آئیں تو اداروں کو وضاحتیں دینا پڑتی ہیں: مریم اورنگزیب

آئین مخالف فیصلے آئیں تو اداروں کو وضاحتیں دینا پڑتی ہیں: مریم اورنگزیب

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

راولپنڈی (صباح نیوز) وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ اپنے صوبوں میں کچھ نہ کرنے والے صرف سازشیں ہی کرتے ہیں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے پہلے سے زیادہ تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں آج ملک میں دہشتگردی کے خاتمے اور اقتصادی ترقی کی بات ہو رہی ہے مسلم لیگ ن 2018میں کارکردگی کی بنیاد پر کامیابی حاصل کرے گی راولپنڈی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2013میں جب سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے حلف اٹھایا تھا تو اس وقت پاکستان میں بم دھماکوں کی بات ہوتی تھی اور معیشت کے دیوالیہ ہونے کی بات ہوتی تھی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے ملک اندھیروں میں ڈوبا تھا آج دہشتگردی کے خاتمے ، اقتصادی ترقی ، سی پیک جیسی سرمایہ کاری کی بات کرتے ہیں بجلی ڈیمانڈ سے زیادہ ہونے کی بات کرتے ہیں لواری ٹنل مکمل ہو گیا ہے تمام صوبوں افواج پاکستان اور دیگر تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سابق وزیر اعظم کے وژن کے مطابق کام کیا آج ہم پاکستان کی ثقافت اور قومی ورثے کے بارے میں بات کر رہے ہیں فلم بحالی کی بات کر رہے ہیں یہ سب کچھ تب ہوتا ہے جب مسلم لیگ ن کی حکومت آتی ہے کیونکہ مسلم لیگ ن کی حکومت جو وعدہ کرتی ہے تو تکمیل تک پہنچاتی ہے پاکستان کے طول وعرض میں جہاں کہیں بھی جائیں میاں محمد نواز شریف اور مسلم لیگ ن کا کام نظر آئے گا دیکھنا یہ ہے کہ صوبائی حکومتوں نے توانائی کے کتنے منصوبے لگائے اور وفاقی حکومت نے کتنے ۔ اس کے باوجود جب 28جولائی جیسے فیصلے آتے ہیں جو تمام کاوشوں کو متاثر کر دیتے ہیں 28جولائی کے فیصلے کے بعد ملک میں سیاسی عدم استحکام آیا اس وقت پاکستان مسلم لیگ ن نہ صرف پاکستان میں پائی جانیوالی افراتفری کا مقابلہ کر رہی ہے بلکہ تمام منصوبوں کو بڑی تیزی سے مکمل کیا جار ہا ہے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی دن رات ایک کر کے تمام منصوبے مکمل کرنے میں کوشاں ہیں کیونکہ 2013میں جو ہم نے عوام کے ساتھ وعدہ کیا تھا اسے 2018میں پورا کر کے عوام کے پاس جائیں گے وزیر مملکت اطلاعات نے کہا ہے کہ میں چیف جسٹس کی بات پر تو زیادہ بات نہیں کروں گی لیکن جب آئین کے مخالف فیصلے آئیں تو اس وقت اداروں کو وضاحتینں دینا پڑتی ہیں جو پیمانہ سپریم کورٹ میں اقامہ پر رکھا گیا وہ پیمانہ نیازی سروسز پر کیوں نہیں رکھا گیا میاں نواز شریف تو 40سال پرانا حساب دے رہے ہیں مگر دوسری طرف کہا جا رہا ہے کہ پانچ سال پرانا سوال نہیں پوچھنا میاں محمد نواز شریف تو کسی آف شور کمپنی کے ڈائریکٹر نہیں تھے شیئر ہولڈر اور بینیفیشل اونر نہیں تھے اگر قانون کے دو پیمانے ہوں گے تو وضاحتیں تو دیناپڑیں گی وضاحت بھی عوام کی آواز اٹھنے سے آئے جو آوازیں آئیں وہ ن لیگ کی نہیں تھیں وہ سول سوسائٹی کی آواز تھی کیونکہ عوام وزیر اعظم کو منتخب کر کے پارلیمینٹ میں بھیجتے ہے اور وزیر اعظم کو ووٹ کے ذریعے ہی نکالنا چاہیے پاکستان کی تاریخ میں جب بھی اسطرح کے فیصلے آئے ان سے پاکستان کو بہت نقصان پہنچا 28جولائی کے فیصلہ کے اثرات ہم سب بحیثیت قوم دیکھ رہے ہیں عمران خان کے فیصلے نے 28جولائی کے فیصلے کی نفی کی ہے اگر دو ترازو ہوں گے تو عوام کا اسی طرح رد عمل آئے گا اگر آئینی اداروں سے منتخب وزیر اعظم اور منتخب حکومت کو مافیا اور گاڈ فادر کہا جائے تو عوام کی طرف سے اسی قسم کا رد عمل آئے گا ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کو میاں محمد نواز شریف کے نام پر پورے پاکستان میں ووٹ ملتا ہے اس میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں ہونا چاہیے۔ سپریم کورٹ کے باہر دیے گئے بیان کی میں نے خود معذرت کی میرا الفاظ کا چناؤ غلط تھا میرا مقصد تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ تھا میاں محمد نواز شریف نے عوام کے ووٹ کو جو بیڑااٹھایا ہے وہ ضرور پورا ہو گا آنے والے وقت میں مجھے ووٹ کے تقدس کی بحالی یقینی نظر آرہی ہے اپوزیشن کی طرف سے تنقید ایسی ہونی چاہیے جس سے حکومت کے کاموں میں بہتری آئے مگر منفی سیاست پاکستان اور عوام کے لیے خطرناک ہوتی ہے صرف مسلم لیگ ن کے لیے ہی نہیں ہوتی جو چیزیں تاریخ کا حصہ ہوتی ہیں انہیں مٹایا نہیں جا سکتا ہم سب جانتے ہیں جب بھی اداروں میں نظریہ ضرورت کو استعمال کیا گیا۔ آمر آیا تو وہ دباؤ کی وجہ سے ہی آتے ہیں اپنے دفاع میں کچھ کہنا ملکی اداروں کے ساتھ تصادم نہیں ہوتا ایک فیصلہ 28جولائی کا ہے اور دوسرا عمران خان کا ہے اگر میاں نواز شریف کہتے ہیں کہ ان کے لیے ایک معیار اور عمران خان کے لیے دوسرا معیار تو یہ ان کا آئینی حق ہے اس میں کسی قسم کا تصادم ہے نہ تصادم کی سوچ ن لیگ اس وقت سب سے بڑی اور مقبول جماعت ہے جسطرح کا جمہوری طرز عمل ن لیگ میں ہے وہ پاکستان کی کسی بھی سیاسی جماعت میں نہیں ، آراء مختلف ہو سکتی ہیں لیکن مسلم لیگ ن کی ایک ہی پالیسی ہے ہم کارکردگی پر ووٹ لیتے ہیں نواز شریف جو وعدے کرتے ہیں وہ پورے کرتے ہیں اسی لیے عوام ن لیگ کو ووٹ دیتے ہیں عمران خان کو جواب دینا میں اپنے لیے باعث شرمندگی سمجھتی ہوں کیونکہ وہ جسطرح اداروں کی تضحیک اور گالم گلوچ کرتے ہیں مسلم لیگ ن ان کو اسطرح جواب نہیں دے سکتی عوام جانتی ہے کہ ایک شخص 2013کے بعد کیا کر رہا ہے اور دوسری طرف موجودہ حکومت اپنے وعدے پورے کر رہی ہے مسلم لیگ ن 2018میں کارکردگی پر ووٹ لے گی اپوزیشن خواہ جتنی بھی اکٹھی ہو جائے چاہے زرداری صاحب قادری صاحب کے ساتھ مل جائیں یا قادری صاحب عمران کے ساتھ مل جائیں کچھ بھی ہو جائے عوام جا نتے ہیں 2013سے کیا ہو رہا ہے عمران خان نے اپنے صوبے میں کیا کیا ، ہمیں نواز شریف نے صرف کارکردگی کی سیاست سکھائی ہے تصویری نمائش کے انعقاد پر آرٹس کونسل کو مبارکباد پیش کرتی ہوں ۔

مزید :

صفحہ آخر -