جسے میں پسند نہیں وہ تحریک عدم اعتماد لے آئے ، کسی قیمت پر اسمبلی نہیں توڑوں گا : وزیر اعظم

جسے میں پسند نہیں وہ تحریک عدم اعتماد لے آئے ، کسی قیمت پر اسمبلی نہیں توڑوں ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


  1. لاہور(سیاسی رپورٹر)وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک کے بہترین مفاد میں حکومت چلتی رہنی چاہیے بطور وزیراعظم انہیں کسی اندر یا باہر کے پریشر کی پرواہ نہیں اور وہ کسی قیمت پر اسمبلی تحلیل نہیں کریں گے۔اے پی این ایس کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں ملک میں کہیں سیاسی عدم استحکام نظر نہیں آتا اگر کسی کو وہ پسند نہیں ہیں تو بے شک ان کے خلاف عدم اعتماد لے آئے ۔ انہوں نے کہا کہ سول اور ملٹری تعلقات اچھی ڈگر پر چل رہے ہیں اور ہر بڑے مسئلے پر سول اور ملٹری قیادت سر جوڑ کر بیٹھتی ہے اور فیصلے کرتی ہے انہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ نظام درست انداز میں چل رہا ہے خزانے کی چابیاں ان کے پاس ہیں اور معاملات ٹھیک ہیں۔وزیراعظم نے کہا نیب کا قانون ایک بُرا قانون ہے اور اس قانون کو ایک آمر نے سیاسی جماعتوں کو توڑنے کیلئے بنایا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ قوم نے میاں نوازشریف کو ووٹ دیا نوازشریف نے ملک کو ایک صحیح ڈگر پر ڈالا اور اب ان کی حکومت عوام سے کئے گئے وعدے پورے کررہی ہے انہوں نے کہا کہ جس ریفرنس کاوجود نہیں اس پر ایک ہفتے میں دو دو پیشیاں ہوتی ہیں ایسا تو تب بھی نہیں ہوا تھا جب نوازشریف کے خلاف طیارہ کیس بنا تب بھی ہفتے میں ایک سے زیادہ پیشی نہیں ہوتی تھی۔ دوسری جانب عالم یہ ہے 22ماہ گزرنے کے باوجود کہ ڈاکٹر عاصم کے خلاف 450ارب کی کرپشن کے مقدمہ کا چارج فریم نہیں ہو سکا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کسی کو حکومت میں مداخلت کا حق نہیں سیاسی جماعتیں ایک دن میں بنتی ہیں نہ ہی لیڈر۔ اس کے لئے ایک وقت لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو ایک سال سے عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ عوام خود فیصلہ کرے کہ 28جولائی کے فیصلے سے ملک کو فائدہ ہوا یا نقصان۔ عدالتوں کو بھی اپنے فیصلے کے اثرات دیکھنے چاہئیں اور ایسے فیصلے نہیں کرنے چاہئیں جس سے ملک عدم استحکام کا شکار ہو۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملکوں کے لئے سب سے اہم چیز معیشت ہوتی ہے اور تمام سٹیک ہولڈرز کو ملک کی معیشت کے مفاد میں پالیسیز بنانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر کو مصنوعی طریقے سے کنٹرول کرنا نہیں چاہتے اور ان کا ذاتی خیال ہے کہ ڈالر کی قدر 110روپے کے قریب رہنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ روپے کی قدر میں مزید کمی نہیں ہوگی اور مہنگائی قابو میں رہے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ سٹیل مل کا فیصلہ حکومت کو 200ارب روپے میں پڑا جبکہ کار کے کے فیصلے کی وجہ سے عالمی عدالت میں حکومت کو 765ملین ڈالر دینے پڑے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کے فیصلے ڈرائنگ روم کے بجائے پولنگ اسٹیشنوں پر ہوتے ہیں۔وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ بیرونی خسارے کے حوالے سے قیامت کا منظر پیش کرنے والے معاشی حقائق سے واقف نہیں۔پچھلے سال یہ خسارہ مشینری اور انڈسٹری کی بھاری درآمد سے بڑھا تھا ہم نے معیشت کی ترقی کی شرح میں اضافہ کیا اور اسی طرح ٹیکس ریونیو کی مد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میں چیلنج کرتا ہوں ان چار سالوں میں جتنے ترقیاتی منصوبے مکمل ہوئے اس کی نظیر پاکستان میں کبھی نہیں ملتی۔آج بجلی کے بحران کا خاتمہ ہوگیا ہے تاہم اب بھی بجلی کی سیل اور لاگت میں 130ارب کاخسارہ ہے۔ اس کی ایک وجہ بجلی کے بلوں کی وصولی ہے ہمیں ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو ٹھیک کرنا ہوگا۔اس حوالے سے صوبوں کو بھی اپنے ذمہ داری ادا کرنا چاہیے اور بجلی کے بلوں کی ریکوری میں وفاقی حکومت سے تعاون کرنا چاہیے۔آج بجلی کے بل میں 3روپے تو ہائیڈر پراجیکٹس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 18ویں ترمیم کی تکلیف آج سامنے آ رہی ہے سوچے سمجھے بغیر کئے گئے اقدامات کے اثرات آج سب کے سامنے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ایک جماعت کے طور پر میچور ہو چکی ہے اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ نوازشریف کے بطور وزیراعظم ہٹتے ہی تین دن میں نیاوزیراعظم منتخب کر لیا گیا۔ خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت وہ اور ان کی کابینہ چلا رہے ہیں تمام فیصلے مشاورت سے کئے جاتے ہیں نوازشریف نے آج تک ان کے کام میں مداخلت کی نہ ہی کسی حوالے سے ہدایات دیں۔ انہوں نے کہا کہ حلقہ بندیوں کے قانون کی سینٹ سے منظوری کے لئے انہوں نے تمام پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہوں سے ملاقات کی ہے اور ان کے خدشات دور کر دیئے ہیں۔جس کے بعد اب اس بل کا سینٹ سے پاس ہونے میں کسی رکاوٹ کا جواز باقی نہیں رہتا۔انہوں نے کہا کہ پچھلی نگران حکومت کے دور میں 45ہزار اسلحہ لائسنس بیچے گئے اس سے بڑی کرپشن اور کیا ہو سکتی ہے تاہم اس حوالے سے ایک مربوط پالیسی سامنے لا رہے ہیں۔
    گفتگو

    اسلام آباد (آئی این پی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی ایک بڑا خطرہ ہے، پاکستان ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے ماحولیاتی تبدیلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے‘ پاکستان میں گرین ہاؤسز گیسز کا اخراج ایک فیصد سے بھی کم ہے‘ پاکستان اپنی 50فیصد توانائی کی ضروریات گیس سے پوری کررہا ہے‘ آئندہ سال ملک میں فرنس آئل کی درآمد ختم کردی جائے گی ،موسم میں حدت آگئی ہے جس سے فصلوں پر اثرات مرتب ہورہے ہیں‘ سموگ کے ہماری روزمرہ زندگی پر اثرات آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں‘ پاکستان نے ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق پیرس معاہدے کی توثیق کی ہے‘ ماحول کو نقصان پہنچانے والی گیسز کے اخراج کو روکنے کے لئے کام کررہے ہیں۔ پیر کو ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق سائنس پالیسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انسانیت کو ماحولیاتی تبدیلی کے سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی ایک بڑا خطرہ ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی ملکوں کو ایک جگہ اکٹھا کررہی ہے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب ملک متاثر ہورہے ہیں آج ہمیں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات محسوس ہورہے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی ایک سنجیدہ چیلنج ہے انہوں نے کہا کہ موسم میں حدت آگئی ہے جس کے فصلوں پر اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ سموگ کے ہماری روز مرہ زندگی پر اثرات آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔ پاکستان نے ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق پیرس معاہدے کی توثیق کی گئی ہے۔ پیرس معاہدے کے تحت بیس فیصد مضر گیسز کے اخراج کی کمی کیلئے پرعزم ہیں۔ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے عمل پیرا ہے۔ ہمارا مقصد عوام کو ماحولیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے سے بچانا ہے۔ عوام کو خوشحالی اور پائیدار ترقی کے لئے مل کر کام کرنا ہے۔ ماحول کو نقصان پہنچانے والی گیسز کے اخراج کو روکنے پر کام کررہے ہیں۔ پارلیمنٹ نے ماحولیاتی تبدیلی کا ایکٹ منظور کیا ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے ماحولیاتی تبدیلی کی پالیسی کو اپنایا ہے۔ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج پر قابو پانے کے لئے پرعزم ہے۔ پاکستان اپنی پچاس فیصد توانائی کی ضروریات گیس سے پوری کررہا ہے‘ بیس فیصد پانی جبکہ صرف تیس فیصد کوئلے اور فرنس آئل سے پوری کی جارہی ہے۔ قابل تجدید توانائی کے شعبے پر توجہ دے رہے ہیں۔ ہم فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں کو گیس میں تبدیل کررہے ہیں۔ آئندہ سال ملک میں فرنس آئل کی درآمد ختم کردی جائے گی۔ پاکستان میں گرین ہاؤسز گیسز کا اخراج ایک فیصد سے بھی کم ہے۔
    کانفرنس

مزید :

صفحہ اول -