حدیبیہ جیسے فیصلوں سے عدالتوں پر اعتماد کم ہو گا:اعتزاز احسن

حدیبیہ جیسے فیصلوں سے عدالتوں پر اعتماد کم ہو گا:اعتزاز احسن

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلزپارٹی کے رہنما اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ حدیبیہ کیس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی سمجھ سے بالا ہے اور حدیبیہ جیسا فیصلہ آئے گا توعدالتوں پر اعتماد کم ہوگا۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ نے شریف خاندان پر بہت ہلکا ہاتھ رکھا ہے، حدیبیہ پیپرملز پر لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی غلط ہے اور سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی سمجھ سے بالا ہے، حدیبیہ جیسا فیصلہ آئے گا توعدالتوں پر اعتماد کم ہوگا، عدالتیں اپنے فیصلوں سے اعتماد قائم کرتی ہیں وضاحتوں سے نہیں۔انہوں نے کہا کہ اقامہ پاناما سے زیادہ سنگین جرم ہے، اقاموں کی بنیاد پر غیرملکی خفیہ بینکوں میں پیسے رکھے جاتے ہیں، فراڈ اور منی لانڈرنگ کیس میں کوئی زائدالمیعاد نہیں ہوتی، دیوانی مقدمات میں اپیل دائر کرنے کیلئے معیاد ہوتی ہے، آئین کے مطابق تفتیش اور فوجداری مقدمے کو نہیں روکا جاسکتا۔پی پی رہنما نے کہا کہ قتل کے ملزم کو 20 سال بعد بھی سزا ملتی ہے، فوجداری مقدمے پر کوئی چھوٹ نہیں ملتی، حدیبیہ پیپرمل کیس پر شریف خاندان کو بہت بڑی چھوٹ ملی ہے۔اعتزاز احسن نے کہا کہ جہانگیر ترین نے منی ٹریل دی، نواز شریف نے تو ایک کاغذ بھی نہ دیا جب کہ کیلیبری فونٹ اور قطری خط جھوٹ پر مبنی تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف حکومت میں کرپشن ثابت ہوجائے تو اسمبلیاں تحلیل نہیں ہو سکتیں، بی بی کی اسمبلی تحلیل ہو تو کرپشن کا الزام ہی کافی ہے۔