کوہاٹ میں تحریک انصاف کی تعلیمی ایمرجنسی کا پول کھل گیا

کوہاٹ میں تحریک انصاف کی تعلیمی ایمرجنسی کا پول کھل گیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کوہاٹ(بیورو رپورٹ) تحریک انصاف کی تعلیمی ایمرجنسی کا پول کھل گیا ضلع بھر کے سکولوں میں 900 سے زائد اساتذہ کی پوسٹوں پر تعیناتیاں نہ ہو سکیں ساڑھے چار سال گزرنے کے باوجود کوھاٹ میں خالی پوسٹوں پر تعیناتیاں نہ ہو سکیں تفصیلات کے مطابق ضلع کوھاٹ میں طلباء اور طالبات کے لیے کل 660 سکولز ہیں جن میں 380 مردانہ پرائمری‘ 39 مڈل‘ 49 ہائی اور 16 ہائیر سیکنڈری سکولز ہیں جبکہ طالبات کے لیے 294 پرائمری‘ 44 مڈل‘ 29 ہائی جبکہ 9 ہائیر سیکنڈری سکولز ہیں مگر بدقسمتی سے ان سکولوں مجموعی طور پر 933 اساتذہ کی پوسٹیں خالی پڑی ہیں جن میں 549 مردانہ اور 384 زنانہ سکولوں میں اساتذہ کی کمی ہے جو کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور خصوصاً ممبران اسمبلی کے لیے لمحہ فکریہ ہے کیوں کہ پاکستان تحریک انصاف نے حکومت میں آتے ہی تعلیمی شعبے میں ایمرجنسی کے نفاذ اور اصلاحات کا اعلان کیا تھا سکولوں کے علاوہ ضلع کوھاٹ کے چار مردانہ اور چار زنانہ گرلز ڈگری کالجز میں بھی درجنوں پوسٹیں عرصہ دراز سے خالی پڑی تعلیمی ایمرجنسی کا مہ چڑا رہی ہیں تو دوسری جانب گزشتہ ساڑھے چار سالوں میں حلقہ 38 میں زیر تعمیر متعدد سکولز اور کالجز کی تعمیر پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکی جس میں گرلز ڈگری کالج استرزئی‘ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول نمبر1 گرلز ہائی سکول میر احمد خیل سمیت متعدد پرائمری سکولز ہیں شہریوں کے مطابق ایک جانب تو صوبائی حکومت تعلیمی ایمرجنسی کے دعوے کرتے نہیں تھکتی تو دوسری جانب ضلع کوھاٹ میں ساڑھے چار سالوں میں اساتذہ کی خالی پوسٹوں پر تعیناتی نہ کرنا یقیناًطلبہ کے ساتھ کسی زیادتی سے کم نہیں۔