شیر گڑھ ،این ٹی ایس کے پیچیدہ فارم امیدواروں کیلئے درد سر

شیر گڑھ ،این ٹی ایس کے پیچیدہ فارم امیدواروں کیلئے درد سر

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


شیرگڑھ(نامہ نگار) اساتذہ کی بھر تی کیلئے این ٹی ایس کے پیچیدہ فارم نے میل اور فی میل امیدواروں کو خون کے آنسوؤں رلا دیا، پانچ صفحات پر مشتمل فارم ایک صفحہ پر مشتمل فارم سے با آسانی لیا جا سکتا تھا مگر ایک پیچیدہ اورلمبی کوائف پر مشتمل فارم متعارف کرا یا گیادوسری جانب فارم کااین ٹی ایس کا 700 روپے خرچہ کو ساتھ ملا کے فارم پر کل خرچہ تقریباََ ایک ہزار روپے تک پہنچتا ہے ایک ہزارروپے نہ رکھنے والے ہزاروں کی تعداد میں میل اور فی میل کوالیفائیڈ لوگ فارمز جمع نہ کر سکے جس میں کثریت فی میل کی ہے جس میں سے اکثریت کو دو تین ماہ بعد اوریج ہونا ہے ایک غریب مزدور کی یومیہ دیہاڑی بمشکل ساڑھے تین سو روپے سے لے کر 400 روپے بنتی ہے ایک فارم پر ہزار روپے جمع کر نا غریب اور محنت کش والدین کی بس کی بات نہیں تفصیلات کے مطا بق صوبائی حکومت کی طر ف سے اساتذہ کی بھر تی کیلئے جاری کردہ این ٹی ایس ٹسٹ کا فارم انتہا ئی درجے پیچیدہ بنا دیا گیا ہے اس میں غیر ضروری کوا ئف درج کر انے کے خانے بنا دیئے گئے ہیں یہ فارم پانچ صفحات پر مشتمل ہے حالانکہ یہ مقاصد ایک صفحہ پر مشتمل فارم سے با آسانی لیا جا سکتا ہے فارم کی پیچیدگی کے با عث خاص کر خواتین کے سادہ لوح اور کم پڑھے لکھے والدین فارم پر کرانے دردر کی ٹھوکریں کھا تے رہیں دوسری طرف سے ایک فارم پر این ٹی ایس ٹسٹ 700 روپے فیس کے ساتھ کل ملا کے تقریبا 1000 روپے خرچہ بنتا ہے جس کے با عث بہت سارے کو الیفا ئڈ میل اور فی میل فارم جمع نہ کر سکے اور درخواست دینے سے رہ گئے جن کی تعداد ہزاروں بنتی ہے جس میں اکثریت فی میل کی بتائی جا تی ہے کیوں کہ اس مہنگا ئی کے دور میں مشکل سے غریب محنت کش طبقہ اپنے لئے ایک وقت کا کھا نا کما تا ہے اور اپنی دوسری ضرویات پو ری کرتے ہیں کیوں کہ اس وقت ایک طرف سے انتہائی درجے بے روز گاری ہے تو دوسری طرف سے ایک دیہاڑی دار مزدور کا یو میہ بمشکل ساڑھے تین سو روپے سے لے کر 400 روپے بنتی ہے اور این ٹی ایس کے ایک فارم کا خرچہ ایک غریب مزدور کا تین روز کی کما ئی ہے اس لئے ہزاروں کی تعداد میں میل اور فی میل کوا لیفا ئڈ افرادبا امر مجبوری اساتذہ کی بھر تی کیلئے این ٹی ایس ٹسٹ کیلئے فارم جمع نہ کر سکے جس میں اکثریت نادار فی میل کی بتا ئی جاتی ہے اور ان میں ایسی خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے جو دو تین ماہ بعد اوورایج ہو جا ئے گی