دہشگردی کا نشانہ مسجد بنے یا چرچ قابل مذمت ہے ، مفتی محمدنعیم

دہشگردی کا نشانہ مسجد بنے یا چرچ قابل مذمت ہے ، مفتی محمدنعیم

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کراچی (اسٹاف رپورٹر ) معروف مذہبی اسکالر وجامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمدنعیم نے کہاکہ دہشتگردی کے واقعات مسجد میں ہو یا چرچ پر جتنی مذمت کی جائے کم ہے،اسلام انسانیت سے محبت ،اخوۃ اور بھائی چارگی کا درس دیتاہے ، اقلیتوں کی مال و جان کے تحفظ کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے ،بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات میں بھارت ملوث ہے۔ حکمرانوں کی بے پایاں پالیسیوں اور سیاسی رسہ کشی سے دہشتگرد منظم ہورہے ہیں ، سیاسی استحکام ملکی سلامتی کا ضامن ہے ، ۔ پیر کو جامعہ بنوریہ عالمیہ سے جاری بیان میں مفتی محمدنعیم نے کوئٹہ چرچ پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت اور جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ دہشتگردیا دہشتگردی کا اسلام یامذہب سے تعلق نہیں، واقعات کی آڑ میں بعض مغربی اور ملحدانہ سوچ رکھنے والے اسلام کو ہدف تنقید بنارہے ہیں جو کسی بھی صورت درست نہیں،اسلام میں دہشتگردی کا کوئی تصور نہیں بلکہ اسلام انسانیت سے محبت ، اخوۃ اور بھائی چارگی کا درس دیتاہے،حالت جنگ میں بھی دشمن کی فصلوں اور درختوں تک کو بھی نقصان پہچانے سے اسلام منع کرتا ہے،عبادگاہوں پر حملے اور بے گناہوں کا خون بہانے کی اجازت نہیں دیتا،انہوں نے کہاکہ دہشتگرد پوری قوم کے مشترکہ دشمن ہیں عیسائی کمیونٹی کے چرچ پر حملہ پاکستان پر حملہ ہے ،انہوں نے کہاکہ کلبوشن کی گرفتاری اور دیگر شواہد سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی کی کاروائی میں بھارت ملوث ہے، حکمران بھارتی اس دہشتگردی کو عالمی سطح پر اٹھائیں ۔انہوں نے کہاکہ سیاسی استحکام ملکی سلامتی کا ضامن ہے، حکمرانوں کی بے پایاں پالیسیوں اور سیاسی رسہ کشی سے دہشتگرد پھر منظم ہورہے ہیں،انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک کے تمام سیاستدانوں کو متحد ہوکر ملکی حالات کے بارے میں سوچنا ہوگافوج اور قانون نافذکرنے والے اداروں نے عظیم قربانیاں دیکر ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا اورایک بار پھر تسلسل سے دہشتگردی کے واقعات پوری قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔