روپے کی قدر میں کمی سے تباہ کن اثرات مرتب ہونگے، میاں زاہد حسین

روپے کی قدر میں کمی سے تباہ کن اثرات مرتب ہونگے، میاں زاہد حسین

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کراچی (اکنامک رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ روپے کی قدر کم ہونے سے معیشت اور عوام پر تباہ کن اثرات مرتب ہونگے۔آئی ایم ایف اور دیگر حلقے اب بھی مطمئن نہیں اور روپے کی قدر میں مزید کمی چاہتے ہیں جس سے ہماری کمزور کرنسی بستر مرگ تک پہنچ جائے گی۔ میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ حکومت کی جانب سے روپے کو کمزور کرنے کے باوجود اس پر دباؤ قائم رہے گا کیونکہ تجارتی خسارہ اور جاری حسابات کا خسارہ مسلسل بڑھتا چلا جا رہا ہے جس سے زر مبادلہ کے ذخائر کو لاحق خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق موجودہ مالی سال کے ابتدائی پانچ ماہ میں نو ارب ڈالر کی برآمدات ہوئیں جبکہ درآمدات چوبیس ارب ڈالر تک جا پہنچیں جس سے تجارتی خسارہ پندرہ ارب ڈالر رہا جو تشویشناک ہے۔مرکزی بینک کے مطابق ابتدائی چار ماہ میں مالی خسارہ پانچ ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ سال کے ابتدائی چار ماہ میں اس سے تقریباً نصف یعنی2.26 ارب ڈالر تھا۔اگربڑھتی ہوئی غیر ضروری درآمدات کو لگام نہ ڈالی گئی تو روپے کی قدر میں کمی کا اُلٹا نقصان ہو گا کیونکہ درآمدات پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے نفاذ سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی سے برآمدات میں کچھ اضافہ ہو گا مگر برآمدی شعبہ کو حکومت کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنے اخراجات کم کرنے، مصنوعات کا معیار بہتر بنانے، برانڈنگ اور بہتر مارکیٹنگ کی ضرورت ہے تاکہ بین الاقوامی منڈی میں حریف ممالک سے مسابقت ممکن ہو سکے۔انھوں نے کہا کہ روپے کی قدر میں حالیہ کمی کے بعد حکومت تیل اور بجلی کی قیمت بڑھانے پر مجبور ہو گی ورنہ خسارہ بے قابو ہو جائے گا۔