انڈین کپاس کی درآمد معیشت غیر مستحکم کردے گی‘ ملک محمد اکرم

انڈین کپاس کی درآمد معیشت غیر مستحکم کردے گی‘ ملک محمد اکرم

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ملتان (سٹی رپورٹر) پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک محمد اکرم نے کہا انڈیاسے ٹیکس فری کاٹن امپورٹ معیشت کو غیر مستحکم کرنے کا باعث بنے گی اور اس کے منفی اثرات اگلے سال کی کاٹن کراپ پر ہو سکتے ہیں جس پر کاٹن جنرزو کاشتکار کو شدید تحفظات ہیں ۔انڈیا سے کاٹن کی تجارت (بقیہ نمبر46صفحہ12پر )

کو فروغ دینا ملکی معیشت اور ملک و قوم کے لیے سود مند نہ ہے ۔انہوں نے سابق چیئرمین شہزادعلی خان ،وائس چیئر مین میاں جاوید طارق اور جنرز گروپ کے رہنما ملک طلعت سہیل کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ناقص حکومتی پالیسیاں ،غیر موذوں موسمی حالات ،جعلی ادویات ،غیر تصدیق شدہ بیج اورامدادی قیمت کا تعین نہ ہونا کاٹن کراپ میں کمی کی بڑ ی وجوہات ہیں جن کے باعث کاٹن کاشتکار و کاٹن جنرز شدید مشکلات کا شکار ہیں ۔حکومت نقد آور فصل کاٹن پر توجہ دینے کی بجائے گنا کی فصل کے فروغ کے لیے پالیسیاں بنا رہی ہے اور کاٹن کے معاملے میں انڈیا نواز پالیسی سے کاٹن کراپ سائز کو شدید خطرات لاحق ہیں۔سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی تسلیم کیا تھا کہ کاٹن میں کمی کے اثرات سے جی ڈی پی گروتھ میں کمی واقع ہوئی ہے اور ترقی کے مطلوبہ اہداف حاصل نہ ہوسکے لیکن پھر بھی کاٹن کراپ میں بہتری کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جارہے۔انڈیا سے کاٹن امپورٹ پربذریعہ واہگہ بارڈرفی الفور پابندی عائد کی جائے اور سیلز ٹیکس و امپورٹ ڈیوٹی کی شرح ختم کرنے کے لیے جو تجاویز زیر غور ہیں ان کو فوراً واپس لیا جائے تاکہ لوکل کاشتکار مستحکم ہوسکے اور ایکسپورٹ میں بہتری لائی جاسکے ۔
کاٹن جنرز