پاکستان کے متنازعہ اور اہم عدالتی فیصلے

پاکستان کے متنازعہ اور اہم عدالتی فیصلے
پاکستان کے متنازعہ اور اہم عدالتی فیصلے

  



مقدمات کا فیصلہ جو بھی آئے اگر وہ انصاف کے مبنی اصولوں کے مطابق ہو تو تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جاتا ہے کیونکہ وقت گزر نے کے بعد ماضی کے کیے گئے فیصلوں پر بعد میں صرف پچھتاؤں اور افسوس کے سوا کچھ نہیں رہتا ۔ ملک کے کئی سال برباد ہونے کے ساتھ ترقی کی منازل رک جاتی ہیں۔ ماضی میں ہماری معزز عدلیہ کے کئی فیصلوں نے پاکستان پر دْور رس اثرات چھوڑے ہیں جس کا خمیازہ قوم کو لمبے عرصے تک بھگتنا پڑا ہے ۔ ماضی کے ایسے فیصلے پاکستان کی جمہوری اور سیاسی تاریخ کا سیاہ باب ہیں جس کو بعد میں معزز عدلیہ کو "اَن ڈْو" کرکے غلط تسلیم کرنا پڑا۔۔ آج ہم تاریخ کے ان سیاہ ورق میں کچھ حقیقیں آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔ 

ہم آغاز 1954 ء سے کرتے ہیں جب سپریم کورٹ آف پاکستان کا وجود نہیں تھا ، اْس وقت ملک میں فیڈرل کورٹ کا نظام رائج تھا۔ مولوی تمیز الدین (ایم ٹی) خان جو پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی کے صدر (اسپیکر) تھے، انہوں نے 1954 میں گورنر جنرل غلام محمد کی جانب سے آئین ساز اسمبلی کو توڑنے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔گورنر جنرل کی جانب سے اسی درخواست کے خلاف فیڈرل کورٹ میں درخواست دائر کی گئی، جس نے وفاقی حکومت اور گورنر جنرل کے حق میں فیصلہ دیا۔

1955 میں عدالتِ عظمیٰ کے چیف جسٹس محمد منیر نے نظریہ ضرورت کے تحت اسمبلی توڑنے کے غیر جمہوری فیصلے کو درست قرار دیا اور پھر یہی نظریہ ضرورت کا فیصلہ بعد میں آنے والے آمروں کے لئے سیاست میں انٹری کی واحد وجہ بنا۔ جسٹس محمد منیر کے اسی فیصلے کو جواز بنا کر 1958 میں جنرل ایوب کو فوجی مداخلت کا قانونی جواز ملا۔اس کے بعد آنے والے دیگر آمروں نے بھی آئین کا خوب کھلواڑ کرتے ہوئے جب چاہا عوامی حکومت کو ختم کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ اسی نظریہ ضرورت کو استعمال کرتے ہوئے یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ فیصلہ ملکی سلامتی کے لئے ناگزیر اور بہت ہی بہترین ہے مگر آج یہ فیصلہ پاکستان کی سیاسی تاریخ پر بدنما داغ ہے جس کو کوئی عقل اور شعور رکھنے والا ماننے کو تیار نہیں۔ معزز عدالت نے بعد میں نظریہ ضرورت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خود دفن کرتے ہوئے ماضی کے اس مقبول فیصلے کو ملک کی تاریخ کا سیاہ باب قرار دیا۔

سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم کرنے کے کئی دن بعد عدالتی حکم پر پھانسی اْس وقت کے صدارتی امیدوار نواب قصوری کے قتل کے الزام میں دے دی گئی۔ابتدائی طور پر یہ مقدمہ لاہور ہائی کورٹ میں چلا، لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے پھانسی کی سزا کے خلاف ذوالفقار علی بھٹو کی قانونی ٹیم نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، تاہم عدالت عظمٰی نے پھانسی کی سزا برقرار رکھی جس کو تاریخ میں "جوڈیشل مرڈر" کے نام یاد کیا جاتا ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اْس وقت کے آرمی چیف اور صدر جنرل ضیاء الحق کو درخواست کرنے سے پھانسی پر لٹکنا بہتر سمجھا، اس لیے انہوں نے صدر سے رحم کی اپیل نہیں کی۔یوں پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت کی جانب سے مداخلت نہ کرنے اور دوسری اعلیٰ ترین عدالت کی جانب سے منتخب وزیراعظم کو پھانسی کی سزا سنائے جانے پر آج تک عدالت کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

5 جولائی 1977ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب جمہوری حکومت ختم کرکے مارشل لاء نافذ کرنے اور انہیں گرفتار کیے جانے کے خلاف ان کی اہلیہ بیگم نصرت بھٹو نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں اْس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیاء الحق کے خلاف آئین کے آرٹیکل 148 (3) کے تحت درخواست داخل کی تھی۔انہوں نے درخواست میں اپنے شوہر اور منتخب وزیراعظم کی حکومت کا تختہ الٹنے اور انہیں گرفتار کرنے سے متعلق عدالت سے ریلیف مانگا تھا، تاہم نومبر1977 کو عدالت نے مارشل لاء کی توثیق کی۔

پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک اور سیاہ باب90 کی دہائی میں تین بار منتخب جمہوری حکومتوں کو آئین کے آرٹیکل 58 ٹو بی کے صدارتی آرڈیننس کو کک آوٹ کیا گیا جس میں سیاسی جمہوری پارٹیوں کے ساتھ کئی دوسرے عناصر بھی شامل حال رہے۔ مسلم لیگ اور پی پی پی دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کی حکومت گرانے میں دو دفعہ عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت نے صدراتی فیصلے کی توثیق اور اور ایک بار عدالت نے صدارتی فیصلہ رد کردیا۔ عدالت عظمیٰ کے تینوں فیصلو ں پر بھی کوئی صدائے احتجاج بلند نہیں ہوئی۔ سیاسی قیادت خوشی خوشی مٹھائیاں بانٹتیں ہوئی نظر آئیں۔

جنرل مشرف نے منتخب حکومت کو برطرف کیا تو اس وقت بھی اعلیٰ عدالت کے ججز کو برطرف کیا تو پھر بہت بڑی تعداد میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے معزز ججز نے فوجی ڈکٹیٹر کے اس اقدام کو ویل کم کیا اور ملکی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیتے ہوئے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا۔ 31 جولائی 2009کو اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں چودہ رکنی بینچ نے جنرل پرویز مشرف کی ایمرجنسی اور دوسرے پی سی اور کو "ان۔ڈو" کرتے ہوئے ان تمام اقدامات کو غیر آئینی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے پی سی او کے تحت حلف لینے والتے تمام ججز ز کی تقرری کو بھی غیر آئینی قرار دیا۔ پروژنل کانسٹیٹیوشنل آرڈر (پی سی او) ججز کیس کا فیصلہ بھی سپریم کورٹ کی جانب سے سنایا گیا۔اس فیصلے کو سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گئے آئینی فیصلوں میں نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ جنرل (ر) پرویز مشرف نے 3 نومبر کو ملک میں پی سی او کے تحت ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے، ملکی آئین کو بھی منسوخ کردیا تھا اور ججز کی نظربندی کا حکم دیا گیا تھا۔پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو اْس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت 7 معزز ججز کو ہٹاکر 24 نومبر2007 کو چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر سمیت 7 دیگر ججز کو پی سی او کے تحت تعینات کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی مرحوم اہلیہ بے نظیر بھٹو کے خلاف 1998 سے دائر سوئس کرپشن کیس میں پیپلزپارٹی کے سابقہ دورِحکومت میں اْس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو اپنے صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئٹزرلینڈ کو خط لکھ کر کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔ عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر توہین عدالت کا مقدمہ چلاگیا۔ معزز عدالت نے یوسف رضا گیلانی کو 2012 میں توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں نااہل قرار دیا، جس کے بعد وہ فوری طور پر وزیراعظم کے عہدے سے الگ ہوگئے اور پانچ سال تک کوئی بھی الیکشن لڑنے کے لیے بھی نااہل قرار پائے۔عدالت کے اس فیصلے سے اْس وقت کی حکومت مشکلات کا شکار ہوگئی اور پاکستانی سیاست لڑا کھڑا گئی، کئی لوگوں نے اس فیصلے کو جمہوریت مخالف فیصلہ بھی قرار دیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی گزشتہ حکومت کے دوران 2010 میں سامنے آنے والے حج کرپشن اسکینڈل کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں 6 سال تک جاری رہی۔ حج اسکینڈل کیس کے مرکزی ملزمان میں اْس وقت کے وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی سمیت ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) حج راؤ شکیل اور سابق جوائنٹ سیکریٹری مذہبی امور آفتاب الاسلام سمیت دیگر عہدیداروں کے نام سامنے آئے جس کو بھی بعد میں " اَن۔ڈْو" کیا گیا۔

2002ء میں جسٹس ارشاد حسن کے ایک آمر کے غیرآئینی اقدام کو درست قرار دینے پربھی کوئی نہ بولا مگر آج وہ فیصلہ بھی عدالتی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ پاناما عملدرآمد بنچ کے اہم رکن جسٹس عظمت سعید شیخ نے بیس اپریل کو اپنے فیصلے میں لکھا کہ بدقسمتی سے ظفرعلی شاہ کیس میں ماورائے آئین جمہوری حکومت کو ختم کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا گیا، ماضی کے اس فیصلے کو اب عدالت غلط سمجھ رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے پاناما اسکینڈل کیس سے 28 جولائی کو فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دینے کا حکم دیا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاناما اسکینڈل کیس سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ نہ صرف حالیہ دور بلکہ ملکی عدالتی و سیاسی تاریخ کا بھی اہم فیصلہ ہے۔

حالیہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے قانون دانوں اور ماہرین کی رائے میں یہ توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو اہل جب کہ جہانگیر ترین کو نا اہل اور سرکاری احتساب ادارے نیب کی حدییبہ ملز ری اوپن کیس درخواست کو مسترد کر دیا۔ معزز عدالت کے بینچ نے اپنے متفقہ فیصلے میں جمہوریت کو آئین کا بنیادی جز قرار دیا ۔آئین کی حفا ظت کی ذمہ داری عدلیہ پر بھی لازم ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عدالتوں کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اراکین پارلیمان عوام کے منتخب نمائندے ہوتے ہیں اور ایک جمہوری پروسیس کے ذریعے پارلیمان کا حصہ بنتے ہیں۔ اس فیصلے کے باوجود پاکستان میں سیاست کا پہیہ عدالتوں کو روندنے نکل کھڑا ہوا ہے۔دیکھئے یہ کب رکتا ہے۔

۔

نوٹ: بلاگ لکھاری کا ذاتی موقف ہے ، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ