’بیگمات کو چاہئیے کہ اِس ایک چیزکے بارے میں اپنے شوہروں کو سچ نہ بتایا کریں“ ماہرِ نفسیات نے ایسا مشورہ دے دیا کہ جان کر پاکستانی مرد اِس خبر کو اپنی بیگمات سے چھپاتے پھریں گے

’بیگمات کو چاہئیے کہ اِس ایک چیزکے بارے میں اپنے شوہروں کو سچ نہ بتایا کریں“ ...
’بیگمات کو چاہئیے کہ اِس ایک چیزکے بارے میں اپنے شوہروں کو سچ نہ بتایا کریں“ ماہرِ نفسیات نے ایسا مشورہ دے دیا کہ جان کر پاکستانی مرد اِس خبر کو اپنی بیگمات سے چھپاتے پھریں گے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

برمنگھم(نیوز ڈیسک)جھوٹ بول کر کسی بھی اچھے نتیجے کی امید نہیں کی جا سکتی لیکن اس ماہر نفسیات کی الگ ہی منطق ہے جو خواتین کو یہ کہہ کر جھوٹ بولنے کی ترغیب دے رہی ہے کہ کچھ ازدواجی معاملات میں جھوٹ بولناہی آپ کے حق میں بہتر ہے۔ 

میاں بیوی کے تعلق کی تو بنیاد ہی بھروسے اور سچائی پر ہونی چاہیے لیکن برطانوی ماہر نفسیات ہیلن فیر مان کا کہنا ہے اگر خواتین اپنی ازدواجی زندگی میں سکون چاہتی ہیں تو اپنے بینک بیلنس کی حقیقت ہمیشہ خاوند سے چھپا کر رکھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اول تو خواتین کو چاہیے کہ شوہر کو بتائیں ہی نا کہ ان کا کوئی بینک اکاﺅنٹ ہے لیکن اگر اسے چھپانا ممکن نہ ہو تو پھر اپنی اصل دولت کا اسے علم نہ ہونے دیں۔


ہیلن کے نظریے کے مطابق خواتین جب مکمل طور پر اپنے شوہر پر انحصار کرتی ہیں تو ان میں ہر وقت ایک انجانے خوف اور پریشانی کا احساس محسوس رہتا ہے جو ان کی ازدواجی زندگی کو منفی طور پر متاثر کرتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ معاشی طور پر آزاد نہیں ہوتی ہیں اور انہیں لاشعوری طور پر یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ خاوند جب چاہے ان کی زندگی میں مشکلات اور تکلیفیں پیدا کر سکتا ہے اور ان سے گھر جیسا سہارا چھین سکتا ہے۔


اس کے برعکس اگر ان کے پاس خود اتنی رقم موجود ہے کہ وہ بوقت ضرورت اسے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کیلئے استعمال کر سکیں تو ان میں ایک خود اعتمادی اور شخصی استحکام پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ مطمئن ہوتی ہیں کہ اگر کوئی ایمرجنسی صورتحال پیدا ہو بھی گئی تو انہیں سڑکوں پر دھکے نہیں کھانا پڑیں گے۔ یوں ان کی زندگی اور طرز عمل میں استحکام ، خوداعتمادی اور خوشگوار تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں ۔ ہیلن کے مطابق اگر میاں بیوی دونوں معاشی طور پر آزاد اور مستحکم ہوں تو یہ ان کی ازدواجی زندگی کو بہت متوازن اور خوشگوار بنا دیتا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -