نواز شریف کی مشکلات اور مسلم لیگ(ن) کی رابطہ مہم

نواز شریف کی مشکلات اور مسلم لیگ(ن) کی رابطہ مہم
نواز شریف کی مشکلات اور مسلم لیگ(ن) کی رابطہ مہم

  

پاکستان مسلم لیگ(ن) کے تاحیات قائد میاں محمد نواز شریف نے اپنے چھوٹے بھائی پارٹی کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف اور دیگر سینئر رہنماؤں سے اسمبلی چیمبرز اسلام آباد میں ملاقات کی اور مستقبل میں پارٹی کی سیاسی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر مسلم لیگ(ن) کی تنظیم سازی کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ اہم اعلان بھی کیا گیا کہ 30دسمبر سے پاکستان مسلم لیگ(ن) عوامی رابط مہم شروع کر رہی ہے اور اس سلسلے میں ضلعی و ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں ورکرز کنونشن منعقد کئے جائیں گے اور اس کا آغاز لاہور سے ہوگا۔

اس اعلان کا سیاسی تجزیہ نگاروں، پارٹی کے جمہوریت پسند اور مخلص کارکنوں سمیت بہت سے حلقوں کو انتظار تھا،کیونکہ عرصے سے یہ بات شدت سے محسوس کی جارہی تھی کہ جیسے مسلم لیگ(ن) سیاست میں غیر متحرک ہو کر رہ گئی ہے۔ نیب کیس سے ضمانت پر رہائی کے بعد سے میاں محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز مکمل طور پر خاموشی،بلکہ گوشہ نشیبی اختیار کئے ہوئے تھے۔

1985 ء میں میاں محمد نواز شریف ، جنرل ضیاء الحق اور ان کے مارشل لاء کی چھتر چھایا تلے منعقد ہونے والے غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں بننے والی پنجاب حکومت میں بطور وزیر خزانہ حکومت میں شامل ہوئے اس سے پہلے وہ تحریک استقلال میں تھے لیکن اقتدار کا حصہ 1985ء میں بنے ۔ 2017ء پانامہ کیس میں بطور وزیراعظم پاکستان نااہلی کی سزا تک ان کے عروج و زوال کی داستان حیرت انگیز ہے،جس میں کئی سبق آموز اور فکر انگیز پہلو بھی پوشیدہ ہیں۔بلندی اور پستی کی کہانی دراصل پاکستان کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ ہے۔

سول ملٹری تعلقات کو سمجھنے کے لئے یہ ایک سٹڈی کیس ہے جسے یونیورسٹیوں میں پڑھنا اور پڑھانا چاہئے۔ پاکستان مسلم لیگ(ن)کی سیاست آ ج ایک بار پھر نشیبی راستے پر رواں دواں ہے۔

اقتدار سے ٹیکنیکل ناک آؤٹ ہونے کے بعد پارٹی کی ٹاپ لیڈر شپ کو نیب میں مقدمات کا سامنا ہے۔ پارٹی کی صفوں میں بے یقینی اور خوف وہراس پایا جاتا ہے۔ اب نواز شریف کی لیڈرشپ کوالٹی کا امتحان ہے کہ وہ کس طرح سے ایک بار پھر کارکنوں کو منظم اور متحرک کرتے ہیں۔ یہ کام کر بھی نواز شریف ہی سکتے ہیں۔

نواز شریف اورمسلم لیگ(ن) لازم و ملزوم ہیں۔ ووٹ بینک بھی انہی کا ہے لہٰذا پارٹی کے فعال، مؤثر اور کسی بھی فیصلہ کن کردار کے لئے بطور قیادت نواز شریف کی موجودگی از حد ضروری ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پارٹی کی تازہ عوامی رابطہ مہم کے دوران جلسے جلوسوں اور ریلیوں میں نواز شریف کا رویہ، لہجہ، طرز تخاطب اور پالیسی کیا رخ اختیار کرتی ہے۔

انہیں عوام سے کیسا رسپانس ملتا ہے اور عمر کے اس حصے میں ان کی صحت انہیں تھکا دینے والی ان سیاسی سرگرمیوں کی کتنی اجازت دیتی ہے اور سب سے بڑھ کر نیب میں زیر سماعت آئندہ کیس کیا رخ اختیار کر تا ہے۔

اس بات کا خدشہ خود ن لیگ کی قیادت کو بھی ہے کہ نواز شریف کو دوبارہ گرفتار کرلیا جائے گا اسی لئے یہ اعلان بھی کیا گیا کہ ایسی صورت میں مریم نواز جلسوں سے خطاب کریں گی۔سیاسی جماعتیں کوشش کرنے یا ایسا چاہنے سے کبھی ختم نہیں ہوتیں البتہ جب وہ خود اپنے منشور اور پروگرام سے ہٹ جائیں، عوام سے کئے گئے وعدے بھلا دیں یا پورے نہ کر سکیں یا خود ہار مان کر ہتھیار ڈال دیں تو عوام بھی انھیں مسترد کر دیتے ہیں، مگر ہمارے ہاں اس میں بعض پس پردہ عوامل بھی کار فرما ہیں،لیکن مسلم لیگ(ن) نے تو ہار 2018ء کی انتخابی مہم سے بہت پہلے ہی مان لی تھی جب میاں نواز شریف کو نیب نے سزا سنائی اور وہ لندن میں اپنی شریک حیات کلثوم نواز کو بستر مرگ پر چھوڑ کر اپنی بیٹی مریم نواز کے ساتھ گرفتاری دینے لاہور ایئرپورٹ پر اُترے تو ان کو انتہائی غیر متوقع صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

جولائی 2018ء کے انتخابات کے بعد مرکز اور پنجاب میں معمولی اکثریت سے اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر تحریک انصاف نے حکومت بنا لی۔ نامعلوم وجوہات کی بنا پر مسلم لیگ(ن) نے پنجاب میں حکومت بنانے میں ذرا سی بھی سرگرمی نہیں دکھائی۔

دوسری بڑی جماعت ہونے کے ناطے مرکز اور پنجاب میں قائد حزب اختلاف کی نشستیں مسلم لیگ(ن) کے حصے میں آئیں تو مرکز اور پنجاب میں باپ بیٹا اپوزیشن لیڈر بن گئے۔مرکز کی حد تک ٹھیک تھا،مگر اس بار ہمت کر کے پنجاب میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف کے بجائے کسی اور کو بناتے اس سے ’’خاندانی‘‘ پارٹی ہونے کا تاثر زائل کرنے میں مدد ملتی،چونکہ خواجہ سعد رفیق پنجاب اسمبلی کے رکن بن گئے تھے ان سے کہا جاتا کہ وہ صوبے میں ہی رہیں اور بطور قائد حزب اختلاف کردار ادا کریں۔ اس سے پارلیمانی پارٹی مزید متحرک اور فعال ہو سکتی تھی، مگر اب 371 کے ایوان میں 167 نشستوں والی مسلم لیگ(ن) کی کارکردگی کا معیار وہ نہیں جو ہونا چاہئے یا ہو سکتا ہے۔ن لیگی اراکین کی اسمبلی معاملات میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے۔

کئی بار وزیر رہنے والے سینئر ایم پی اے اول تو اسمبلی آتے ہی نہیں آ ئیں بھی تو اسمبلی بزنس میں دلچسپی نہیں لیتے اور شکل دکھا کر غائب ہو جاتے ہیں۔ ارکان کی اکثریت نیب، مقدمات، گرفتاریوں اور پارٹی مخالف سیاسی فضا سے خوفزدہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں پارلیمانی پارٹی اس وقت ’’ڈنگ ٹپاؤ‘‘ پالیسی پر عمل پیرا ہے اور دو عملی کا بھی شکار نظر آتی ہے، یعنی پارٹی کے اندر دو طرح کے خیالات پائے جاتے ہیں ایک نواز اور دوسرا دھڑا شہباز شریف کی حکمت عملی کا حامی ہے۔

اس صورتِ حال کی وجہ سے حالیہ چند ماہ میں پارٹی کے اندر فیصلہ سازی کا عمل بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔نواز شریف کی پالیسی کارگر ثابت ہوئی اور نہ ہی شہباز شریف اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنا سکے۔یعنی نہ ’’ لڑائی‘‘ کھل کے ہو سکی اور نہ ہی ’’صلح‘‘ ڈھنگ سے ہو سکی۔ سرمایہ داروں،تاجروں اور امیر کاروباری طبقے کا پارٹی میں کلیدی کردار ہوگا تو یہی صورتِ حال ہوگی۔ درمیانے طبقے کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو بھی پارٹی میں مقام اور کردار دیجئے۔ اس سے توازن پیدا ہو گا۔

پاکستان کے عوام خصوصاً وسطی پنجابیوں نے نواز شریف پر بہت محبتیں نچھاور کیں، ہمیشہ اعتماد کیا وہ جنرل پرویز مشرف کے ساتھ معاہدہ کر کے سعودی عرب چلے گئے، واپس آئے تو ایک بار پھر سر آنکھوں پر بٹھایا۔2008ء میں انتخابی مہم کے بغیر پنجاب میں حکومت بن گئی۔ 2013ء میں نواز شریف کو وزیراعظم پاکستان اور بھائی شہباز شریف کو وزیراعلیٰ پنجاب بنایا۔

عوام کے اس بے مثل اعتماد اور وارفتگی کے صلے میں کیا نواز شریف نے کبھی روائتی سیاست کو چھوڑ کر خلوص نیت، دِل کی گہرائیوں سے، اپنی پوری توانائیوں، صلاحیتیوں، وسائل اور پارٹی کی ساری طاقت اور تجربہ کو جمع کرتے ہوئے عوام کو خوابوں کے سراب سے نکالنے کی سنجیدہ کوشش کی؟ میاں محمد نواز شریف صاحب اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک اور موقع دیا ہے اور آ پ بطور حزب اختلاف اپنا کام کیجئے۔

پارٹی کی تنظیم سازی کریں، کارکنوں کو منائیں اور منظم کریں، رابطے بڑھائیں، اپنے اچھے وقت کا انتظار کیجئے اور ساتھ ہی ان یادوں، وعدوں اور ارادوں کو تازہ کیجیے جب 1988ء، 1990ء، 1993ء اور 1997ء کے برسوں میں آپ اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی حکومتوں کو یکے بعد دیگرے برخاست کر کے گھر بھیجا جاتا رہا۔

اس دوران پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے اپنے تلخ ؤ شیریں تجربات کی روشنی میں ’’میثاق جمہوریت‘‘ پر لندن میں دستخط کئے۔ وہ ایک ایسی دستاویز تھی کہ اس پر عمل درآمد کا موقع ملتا تو بہت کچھ حاصل ہو سکتا تھا، مگر یہ نہ ہو سکا پھر محترمہ کی شہادت ہوگئی۔

میاں محمد نواز شریف صاحب اب وقت آگیا ہے کہ آ پ خود کو ایک سیاست دان کے بجائے ’’سٹیٹسمین‘‘ کے طور پر سامنے لائیں۔ چھوٹے موٹے سطحی مفادات اور ذاتی خواہشات سے اوپر اُٹھ کر ملک و قوم کے لئے حقیقی معنوں میں کام کا آغاز کیا جائے۔ ووٹ بینک یا کسی اور خوف کو خاطر میں لائے بغیر اپنے انمول تجربے کی بنا پر حق، سچ اور دل کی بات کہیں نیت صاف ہو تو کام میں آسانی ہوتی ہے۔

دراصل تمام تر مسائل کا حل نہایت سادہ اور آسان ہے سب ادارے اپنا اپنا کام کریں اور سیاست دان ہمیشہ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کو اپنا آئیڈئل ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں ان سے گزارش ہے کہ وہ ان کی کچھ صفات اپنی عملی زندگی میں بھی اپنا لیں تو کافی چیزیں بہتر ہو جائیں گی۔

مزید :

رائے -کالم -