قانون سب کے لئے 

قانون سب کے لئے 
قانون سب کے لئے 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاکستان میں سیاست کا درجہ حرارت کافی حد تک بلند ہو گیا ہے۔ ۲۴ دسمبر کی تاریخ اہمیت کی حامل ہے۔ پاکستان کے سابقہ صدر اور تین مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم رہنے والے زرداری اور محترم نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے والا ہے۔ سیاست پر نظر رکھنے والے حضرات کو اندیشہ ہے کہ کُچھ ایسا ہونے والا ہے جس سے مُلک کی سیاست میں مزید گرما گرمی آئے گی۔ شہبازشریف صاحب کے خلاف بھی ریفرنس تیار ہو چُکا ہے۔ اطلاعات کے مُطابق لاہور میں واقع نیب کے آفس نے ریفرنس تیار کرکے نیب کے چئیر مین سے منظوری کے لئے نیب ھیڈ کوارٹر کو بھیج دیا ہے۔ توقع ہے کہ وُہ بھی ر یفرنس جلد ہی دائر ہو جائے گا۔
نواز شریف صاحب کے خلاف کرپشن کے الزامات ہیں جبکہ زرداری صاحب کے خلاف بے نامی اکاؤنٹس چلانے کے چار جز ہیں۔ اسی نوعیت کے الزامات شہباز شریف صاحب کے بھی خلاف پائے جاتے ہیں۔ مقدمات کے دباؤ نے دونوں پارٹیوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وُہ مشترکہ حکمت عملی کے تحت عمراں خان کی حکومت کو گرانے کے لئے متحد ہو جائیں۔ اس لئے نواز شریف اور زرداری صاحب کی متوقع مُلاقات کی خبریں بھی اخبارات کی زینت بن رہی ہیں۔زرداری صاحب کے بیانات سے پتا چلتا ہے کہ اُنکی گرفتاری کا وقت بھی قریب ہے۔ بظاہر وُہ بہادری دکھاتے نظر آتے ہیں۔ اُن کو ایسا کرنا بھی چاہئے کیونکہ اپنی پارٹی کے ورکرز اور سیاست دانوں کا مورال بلند کرنے کے لئے ایسا عموماً کیا جاتا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ تاہم کوئی بھی شخص خُوشی سے جیل نہیں جاتا۔ لیکن سیاست دان اپنا جُرم کبھی قبول نہیں کرتے بلکہ اُن کا یہی موقف ہوتا ہے کہ اُن سے سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے۔ الزامات جھوٹے ہیں۔ مقدمات بد نیتی پر مبنی ہیں۔ جن کا مقصد سیاستدانوں کو ہراساں کرکے اُنکو حکومت کے ہر جائز اور نا جائز منصوبوں پر را ضی کرنا ہے۔ جبکہ حکومتی نقطہء نظر ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ حکومت انصاف اور قانون کی بالا دستی کے لئے اپنی آ ئینی ذمہ داریاں پُوری کر نے پر مجبور ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے ایسے بیانات رسمی ہوتے ہیں۔ جو عوام کو خوش کرنے کے لئے ہوتے ہیں۔
نواز شریف کے دور میں احتساب جیسے ادارے کی بُنیاد رکھی گئی۔ سیف الرحمان کی سر پرستی میں نیب ادارے نے اپنا کام شروع کیا۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کا کہنا ہے کہ نوازشریف نے پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کے لئے پارٹی کے تمام سر کردہ رہنماؤں کے خلاف جھوٹے مقدمات بنوائے جبکہ نواز شریف اس بات سے انکاری ہیں۔ اُن کا موقف یہ ہے کہ نیب ایک خود مُختار ادارہ ہے۔ جس میں وزیر اعظم بھی مداخلت نہیں کر سکتے۔ لیکن واقفان حال جانتے ہیں کہ سیف الرحمان نواز شریف کے ہر دلعزیز دوست تھے۔ نواز شریف کو خوش کرنے کے لئے اُ نہوں نے جھوٹے مقدمات بنائے۔ جناب زرداری نے اس بات کو بڑے فخریہ انداز میں کئی بار پریس میں توبتایا ہے کہ سیف الرحماں صاحب نے اُن کے پاؤں میں گر کر اُن سے معافی مانگی تھی۔ حقیقت یہ ہے کے دونوں پارٹیوں کی اعلیٰ قیادتوں نے اپنے اپنے ادوار میں ایک دوسرے کے خلاف مقد مات بنائے۔ جو کہ اُن کے مُطابق جھوٹے تھے۔ لیکن یہ بات سو فیصدر دُرست نہیں۔ اُن کے مقدمات میں ضرور دم تھا لیکن بوجوہ اُن مقدمات کی اچھے طریقے سے پیروی نہیں کی گئی۔ یہ مقدمات ایک دوسرے پر د باؤ بڑ ھانے کے لئے استعمال ہوتے رہے ہیں۔
نواز شریف جب اپوزیشن میں تھے اور زرداری کی حکومت پر تنقید کرتے تھے تو اُنہیں چُپ کروانے کے لئے نیب کے افسروں کو سبز جھنڈی د کھا دی جاتی تھی۔ اور کسی بہانے سے ایک دوسرے کے لیڈروں کے خلاف نوٹس بجھوا دیتے تھے
جس کا مقصد صرف ایک دوسرے کو کنٹرول کرنا ہوتا تھا۔ سرے محل اور لند ن میں مہنگے فلیٹس اور دوسرے ممالک میں مہنگی جائدادیں حلال کمائی سے کھڑی کرنا ان افراد کے لئے نا ممکن نہیں تو دشوار ضرور ہے۔عوام نے یہ بھی دیکھا کہ شریف خاندان اور زرداری خاندان کو خاص طور پر تجارت میں سُو گُنا نہیں بلکہ ہزار گُنا منافع ملتا رہا ہے۔ یہ صرف خوش بختی نہ تھی بلکہ مُلک کی دولت کوبیدردی سے لُوٹا گیا ہے۔زرداری اور نواز شریف پار سائی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن کوئی بھی اپنی حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں نا کام رہا ہے۔ نیب کے پچھلے چئیر مین کی نیک نامی تو زمانے میں مشہور تھی۔ عدالتِ عالیہ نے اُنکے کردار کو مشکوک قرار دیا ہے۔ عدالت عالیہ اُنکو اس قابل نہیں سمجھتی تھی کہ اُن پر کسی طرح کا اعتبار کیا جائے۔ اِس کی صاف اور سیدھی وجہ یہ تھی کہ وُہ خُود کرپشن میں ملوث تھے اور اپنے دوستوں کے کرتوں پر پردہ ڈالنے کے لئے ہر گُر آ زماتے تھے۔ نئے چئیر مین صاحب اُن سے کافی مختلف ہیں۔ وُہ جلدی خوف زدہ نہیں ہوتے۔ انہوں نے بطور جج بڑے بڑے الُجھے ہوئے کیسوں کو سُلجھایا ہے۔ اوسامہ بن لادن انکو ائیری کی سر پر ستی بھی مُوصوف کو ہی حاصل تھی۔ علاوہ گُمشدہ افراد کے معاملات پر بھی ر پورٹ انہوں نے ہی مرتب کی تھی۔ پاکستان میں کوئی ایسا سیاست دان نہیں ہو گا جس کے خلاف نیب میں مقدمہ درج نہ ہُوا ہو۔ اور ہر شخص نیب کی کارر وائی پر معترض ہے۔ اِس کی ایک وجہ تو یہ دکھائی دیتی ہے کہ نیب کے افسران پہلے سے زیادہ فعال ہو چُکے ہیں کیونکہ اُن کو اپنے نئے چئیر مین سے داد ملتی ہے۔ نئے چئیر مین مُلک کی لُوٹی ہوئی دولت کو واپس لانے پر کمر بستہ ہیں۔ جبکہ عمران خان کو عوام میں اس لئے پذیرائی ملی ہے کہ وُہ تمام رہنماؤں کا بے رحمی سے احتساب چاہتے ہیں۔ اگر وُہ پانامہ کیس کی پیروی نہ کرتے تو نواز شریف کبھی بھی نا اہل قرار نہ دئے جاتے۔ عمران خان کو ا پنا سیاسی امیج بر قرار رکھنے کے لئے احتساب کے عمل پر اصرار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ جبکہ پُرانے حُکمران کو مقدمات سے جان چھُڑانے کے لئے کسی عُذر کی ضرورت ہے۔ دونوں رہنماؤں نے فوج کے خلاف اپنی بھڑاس نکالنے کے لئے اکثر تلخ بیانات دیئے ہیں۔آج کل بھی زرداری صاحب چیف جسٹس جناب ثاقب نثار اور آرمی چیف جنرل باجوہ کے خلاف بیانات دے کر اُن کو ہراساں کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔نواز شریف صاحب نے اپنے دور میں با قاعدہ فوج کو مُلک کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیا بلکہ یہاں تک کہا کہ دہشت گردوں کو پناہ دینے اور اُن کی پُشت پناہی کرنے میں افواج پاکستان کا براہ رست ہاتھ ہے۔ با الفاظِ دیگر انہوں نے بھارت کے دیرینہ موقف کی تائید کر دی ہے۔ یہ امر بھارت کے لئے باعثِ صد مسرت ہے۔ان بیانات کو بین الاقوامی سطح پر نشر کرکے یہ جتانا مقصود تھا کہ بطور وزیر اعظم وُہ بہت سارے اچھے کام کرنا چاہتے ہیں لیکن فوج نے اُن کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں تاکہ پاکستان کی پُوری دُنیا میں رسوائی ہو۔ اگر فوج طیش میں آ کر اُن کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیتی ہے تو وُہ کرپشن کے مقدمات سے بچ جائیں گے۔ اُن کو عوام میں اپنی مظلومیت دکھانے کا بہانا مل جا ئے گا۔ لیکن افسوس کہ اُنکی چال ناکام ہو گئی۔ اب زرداری صاحب عمران خاں صاحب کی حکومت کو گرانے کے لئے نکلے ہیں۔ مقدمات اُن کی حکومت نے قایم نہیں کئے۔ وُہ نواز شریف کے زمانے میں قایم ہوئے ہیں۔ لیکن وُہ سارا الزام عمران خاں صاحب کی حکومت سر تھوپنے پر تُلے ہُوئے ہیں۔ وُہ مختلف حیلوں اور بہانوں سے حکومت کو ہراساں کرکے مراعات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر انُہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا تو وُہ کیوں گھبراتے ہیں؟ اپنی جان بچانے کے لئے حکومت کو مُفت میں بدنام کرنا سراسر زیادتی ہے۔ نئی حکومت پار سا نہیں۔ اُس میں بھی خامیاں موجود ہیں۔ لیکن بے بُنیاد الزامات کی بنیاد پر حکومت کو بدنام کرنا منجھے اور زیرک سیاستدانوں کی روش قرار نہیں دی جا سکتی۔قانون سے کوئی بھی بالا تر نہیں۔

۔

یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

مزید :

بلاگ -