اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 63

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 63
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 63

  

حضرت سہل بن عبداللہ تستریؒ نہ تو کبھی دیوار سے ٹیک لگاتے تھے اور نہ پاؤں پھیلاتے تھے۔ اچانک آپ نے ایک مرتبہ دیوار سے پشت لگا کر پاؤں پھیلاتے ہوئے لوگوں سے فرمایا ’’آج جو کچھ مجھ سے پوچھنا ہے پوچھ لو۔‘‘

اس پر لوگوں نے تعجب کا اظہا رکرتے ہوئے کہا’’آج یہ کیا عجیب ماجرا ہے؟‘‘

(یعنی ٹیک لگانے اور پاؤں پھیلانے کا)

آپ نے فرمایا ’’جب تک استاد حیات تھے، ان کا ادب لازمی تھا۔‘‘

یہ سن کر لوگوں نے تاریخ اور وقت کو ذہن میں رکھا۔ اس کے بعد پتہ چلا کہ ٹھیک اسی وقت اور اسی دن حضرت ذوالنون مصریؒ کا انتقال ہوا تھا۔

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 62 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

***

ایک دن حضرت سری سقطیؒ نے حضرت جنید بغدادیؒ سے فرمایا ’’مَیں بغداد میں مرنے کو اس لئے ناپسندیدہ سمجھتا ہوں کہ یہاں کی زمین مجھے قبول نہ کرے گی اور مجھ سے حسن ظن رکھنے والے بدظنی میں مبتلا ہوجائیں گے۔‘‘

پھر جب ایک دن حضرت جنید ؒ آپ کی عیادت کے لئے گئے تو سخت گرمی کی وجہ سے انہوں نے حضرت سری سقطیؒ کو پنکھا جھلنا شروع کردیا مگر آپ نے روکتے ہوئے فرمایا ’’آگ اور بھڑکنے لگتی ہے۔‘‘

اس کے بعد حضرت جنیدؒ کی مزاج پرسی پر فرمایا ’’بندہ تو مملوک ہے اور اس کو کسی شے پر قدرت حاصل نہیں۔‘‘

پھر جنید ؒ نے نصیحت کرنے کی درخواست کی۔ اس پر آپ نے فرمایا’’مخلوق میں رہتے ہوئے خالق سے غافل نہ ہونا۔‘‘

یہ کہہ کر آپ دنیا سے رخصت ہوگئے۔

***

ایک دفعہ جب حضرت بایزید بسطامیؒ حضرت امام جعفر صادقؑ کی خدمت میں بیٹھے تھے۔ امام نے فرمایا ’’اے بایزید! فلاں طاق میں جو کتاب رکھی ہے وہ اٹھا لاؤ۔‘‘ آپ نے دریافت کیا ’’وہ طاق کس جگہ ہے؟‘‘

امام جعفرؑ نے فرمایا ’’اتنے عرصہ رہنے کے بعد بھی تم نے طاق نہیں دیکھا۔‘‘

آپ نے عرض کیا ’’طاق تو کجا، میں نے تو آپ کے روبرو کبھی سر نہیں اٹھایا۔‘‘

اس پر امام جعفرؑ نے فرمایا ’’اب تم مکمل ہوچکے ہو۔ اس لیے بسطام واپس چلے جاؤ۔‘‘(جاری ہے )

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 64 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے