خیبر پختونخوا واحد صوبہ ہے جہاں منشیات بارے قانون سازی کی گئی: سید ظفر علی شاہ

  خیبر پختونخوا واحد صوبہ ہے جہاں منشیات بارے قانون سازی کی گئی: سید ظفر علی ...

  



پشاور(کرائمزرپورٹر)خیبر پختونخوا ایکسائز نے انسداد منشیات ایکٹ 2019 کے تحت پانچ ایکسائز پولیس سٹیشنز کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے۔ سیکرٹری ایکسائز سید ظفر علی شاہ کا کہنا ہے کہ پختونخوا واحد صوبہ ہے جس نے انسداد منشیات کے حوالے صوبے کی سطح پر قانون سازی کی ہے اور پولیس کے متوازی ایکسائز پولیس تھانے قائم کئے ہیں جہاں انسداد منشیات کارروائیوں پر سپیشلائزڈ تفتیش ہوگی۔ ڈائریکٹر جنرل ایکسائز فیاض علی شاہ کا کہنا ہے کہ منشیات سے متعلق کارروائیوں کی ایف آئی آر اور تفتیش اب ایکسائز پولیس خود کرے گی اور اس مد میں نوٹیفیکیشن کے مطابق، پشاور، ڈی آئی خان، ایبٹ آباد، سوات اور مردان ریجنل دفاتر کو ایکسائز پولیس سٹیشنز قرار دیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر نارکوٹکس عسکر خان کا کہنا ہے کہ اس مقصد کیلئے پہلے ہی پچاس سے زائد افسران کو پولیس سکول آف انوسٹی گیشن میں تفتیشی تربیت دی گئی ہے جو کہ متعلقہ تھانوں میں طعینات کئے گئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اس سے قبل ایکسائز اہلکار کارروائی کے بعد متعلقہ پولیس تھانوں میں ایف آئی آر درج کرواتے تھے جہاں عدالتی کاروائی و دیگر قانونی چارہ جوئی میں طرح طرح مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔واضح رہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے انسداد منشیات ایکٹ 2019رواں سال اسمبلی سے پاس کروایا جس کے بعد انسداد منشیات کارروائیوں میں محکمہ ایکسائز کو تفتیش اور تھانے قائم کرنے کے اختیارات سونپ دئے گئے ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...