باچاخان میڈیکل کالج کے ڈینٹل کالج کے نام کی تبدیلی مضحکہ خیز ہے: اے این پی

باچاخان میڈیکل کالج کے ڈینٹل کالج کے نام کی تبدیلی مضحکہ خیز ہے: اے این پی

  



مردان(بیورورپورٹ) اے این پی ضلع مردان نے باچاخان میڈیکل کالج کے ڈینٹل کالج کے نام کی تبدیلی کو مضحکہ خیز اور غیرضروری قراردیتے ہوئے اس فیصلے کی شدیدمذمت کی ہے اورخبردار کیاہے کہ اگر ایم ایم سی کے بورڈ آف گورننگ نے فیصلہ واپس نہ لیا تو اس کیخلاف احتجاجی اور قانونی تحریک شروع کی جائے گی بدھ کے روز اے این پی کے ضلعی صدر حاجی لطیف الرحمان،ملگری وکیلان کے صوبائی صدر ڈاکٹر حیدرعلی خان نے دیگر رہنماؤں احمدبہادر خان،ہارون خان،جاوید یوسفزئی،سیدعالم خان بابا،زربادشاہ ایڈووکیٹ اور درجنوں کارکنوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایاباچاخان میڈیکل کالج کے ڈینٹل کالج کا نام ''مردان ڈینٹل کالج رکھ دیا گیاہے جو پہلے باچاخان کے نام سے منسوب تھے۔نام کی تبدیلی بورڈ آف گورنرزکے تعصب پسندانہ و جانبدارانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے جس کی پرزور مذمت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میڈیکل کالج باچاخان کے نام سے منسوب ہے تو اس کے ڈینٹل سیکشن کو کس قانون کے تحت دوسرے نام سے لکھا و پکارا جاسکتا ہے۔ صوبوں کے دیگر میڈیکل کالجوں میں بھی متعلقہ شعبوں کالجوں کے ناموں پر ہے انہوں نے بورڈ آف گورنرز کے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس جانبدارانہ و تعصبانہ فیصلے کے خلاف قانونی ماہرین کی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے اور جلد ہی عدالت جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ فیصلے کے خلاف مردان میں بھرپور احتجاج کیا جائیگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تعصب کی عینک اتار کر باچاخان کے نام سے منسوب کالج کے ڈینٹل سیکشن کے نام کی تبدیلی کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ اے این پی کے رہنماؤں نے کہاکہ ہم تعصب سے بالاتر سیاست کے قائل ہیں،یہی وجہ تھی کہ اے این پی دور حکومت میں اس وقت کے وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی نے عمران خان کے کینسر ہسپتال کو اراضی اور فنڈ فراہم کئے حالانکہ یہ ہسپتال وزیراعظم کے والدہ کے نام پر ہے انہوں نے کہاکہ باچاخان نے اس ملک و قوم کی خدمت کی ہے ان کے نام کسی بھی ادارے،چوک یا کالونیز سے نہیں ہٹائے جائیں گے۔ پی ٹی آئی ہوش کے ناخن لیں اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کی ذمہ داری بورڈ آف گورنرز اور مسند اقتدار پر بیٹھے لوگوں پر عائد ہوگی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر