ٹانک، گیس بندش اور کم پر یشر کیخلاف شہریوں کا احتجاجی تحریک کا اعلان

ٹانک، گیس بندش اور کم پر یشر کیخلاف شہریوں کا احتجاجی تحریک کا اعلان

  



ٹانک(نمائندہ خصوصی)ٹانک سٹی میں گیس مصنوعی بحران نے شدت اختیار کر لی گیس کی روزانہ بندش اور صفر پریشر کے خلاف شہریوں نے احتجاجی تحریک سمیت سوئی گیس دفتر کے گھیراؤ کا اعلان کر دیا ٹانک کے مختلف کے اکثر محلہ جات میں صبح اور شام کے وقت گیس کی بندش اور کم پریشر کی نے گھریلو خواتین کی زندگیاں اجیرن بنا کر رکھ دی ہیں گیس حکام مسئلہ کو حل کرنے کی بجائے ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں ٹانک سٹی کے مختلف محلہ جات میں صبح،عصر اور شام کے وقت گیس کو بند کر نا اور پریشر کم کر دینا محکمہ سوئی گیس ٹانک کا وطیرہ بن چکا ہے محلہ قاضیانوالہ،گلی قبر والی،بلال جامع مسجد،گلی ڈاکٹر یوسف سلطانی،قلعہ نواب،گلی مس رضیہ والی سمیت دیگر محلہ جات کے شہریوں نے میڈیا کو بتاتے ہوئے کہا کہ محکمہ سوئی گیس نے آئے روز گیس کو بند کرنا اور پریشر گھٹا دینا اپنا معمول بنا لیا ہے جس کی وجہ سے شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں گیس حکام کی جانب سے شہریوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے ٹانک میں نہ فیکٹریاں ہیں اور نہ بڑے کارخانے پھر بھی گیس کو بند کرنا ٹانک سٹی کے باسیوں کے ساتھ ذیادتی کے مترادف ہے عوامی حلقوں کا کہنا تھا کہ محکمہ سوئی گیس کی جانب سے گیس صارفین کے ساتھ عجیب منطق جاری ہے سٹی کے بعض محلہ جات کا گیس کا پریشر ٹھیک جبکہ بعض کا صفر کے برابر ہوتا ہے جو گیس حکام کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے گیس کی ہر روز بندش سے خواتین خانہ کو گھریلو ں کاموں کی انجام دہی میں سخت اذیت کا سامنا ہے ٹانک کے حقوق کے لئے کام کرنے والی سماجی تنظیموں نے کہا ہے کہ اگرگیس کی بندش کا یہ سلسلہ جاری رہا تو شدید احتجاجی تحریک چلائے جائے گی جس کی تمام تر ذمہ داری گیس حکام پر عائد ہوگ گی ادھر ڈپٹی کمشنر ٹانک فہد وزیر نے عوامی شکایات پر سختی سے ایکشن لیتے ہوئے گیس حکام کو تحریری لیٹر جاری کر دیا ہے جس میں انہوں نے گیس حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ صبح اور شام کے وقت گیس کی بندش اور پریشر کی کمی سے اجتناب کریں تاکہ شہریوں کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے انہوں نے گیس حکام کو ہدایت کی کہ وہ گیس کے مسئلہ کو فوری طور پرحل کرنے کے لئے عملی بنیادوں پر کام کریں تاکہ مستقبل میں عوامی احتجاج سے بچا سکے لیکن پھر بھی گیس حکام کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔۔۔

مزید : پشاورصفحہ آخر