صاف ستھرا اور معطر ماحول تدریسی عمل کو چارچاند لگا دیتا ہے

صاف ستھرا اور معطر ماحول تدریسی عمل کو چارچاند لگا دیتا ہے

  



اداروں میں افراد کی حیثیت بدن میں اعضا کی طرح ہوتی ہے اور ان میں ادارے کا سربراہ دل اور دماغ کا مقام رکھتا ہے۔ پورے ادارے کو ساتھ لے کر چلنا اور ترقی کی منازل کے لیے راہیں متعین کرنا ادارے کے سربراہ ہی کا کام ہوتا ہے۔ پچھلے دنوں ہماری ملاقات لاہور کے تاریخی تعلیمی ادارے گورنمنٹ دیا سنگھ کالج کے پرنسپل پروفیسر نعیم اکبر یاسین سے ہوئی۔ گزشتہ تین برسوں سے وہ لاہور کے اس تعلیمی مرکز کی روحِ رواں کے طور پر دیکھے گئے۔ ہم نے دوستانہ ماحول میں ان سے چند سوالات کیے جن کے جوابات اپنے قارئین کے لیے شائع کیے جا رہے ہیں۔

س1: اپنے خاندانی پس منظر اور ابتدائی تعلیم کے بارے میں کچھ تفصیل بتائیں گے؟

ج: میرا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جو صدیوں سے لاہور میں مقیم ہے۔ والد ِ محترم لاہور کے معروف کاروباری مرکز برانڈرتھ روڈ سے منسلک تھے اور کاروباری حلقوں میں اپنی ایک مخصوص اور ممتاز شناخت رکھتے تھے، سو ہمارا خاندان مالی طور پر بفضل خدا خوشحال اور آسودہ رہا۔ ابتدائی تعلیم سرکلر روڈ کے ایک پرائمری سکول سے حاصل کی۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے سکول کو چیئرمین کا سکول کہا جاتا تھا۔ اس کے بعد وطن اسلامیہ ہائی سکول برانڈرتھ روڈ سے 1975 میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ رام گلی میں جو کہ اندرون شہر کی ایک مشہور گلی تھی سابق وزیراعظم میاں نواز شریف ہماری ہمسائیگی میں رہتے تھے۔ یہ خوش نصیبی ہے کہ مجھے اسلامیہ کالج ریلوے روڈ اور اسلامیہ کالج سول لائنز جیسے تاریخی اداروں سے ایف اے اور بی اے کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ 1980 میں ایف۔سی کالج لاہور سے سیاسیات میں ایم۔اے کیا اور دوسری پوزیشن حاصل کی۔زمانہ طالبعلمی میں بہت سنجیدہ طالبعلم تو نہ تھا مگر مطالعہ کی عادت اور مضامین میں دلچسپی کے سبب مجھے کافی فائدہ ہوا۔ تاریخ میں خصوصی دلچسپی کے باعث میں نے بعد میں اس مضمون میں بھی ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ میری بنیادی دلچسپی معاشیات کے میدان میں رہی۔ زمانہ طالبعلمی کے بہت سے دوست اور میں نمایاں عہدوں پر فائز ہوئے اور اللہ کے کرم سے مجھے شعبہ تدریس میں خدمات انجام دینے کا موقع ملا اور میں نے یہ خدمت عبادت سمجھ کر انجام دی۔

س2: شعبہ تدریس میں آپ نے کس کس شہر میں خدمات انجام دیں؟

ج: میرا پہلا تقرر 1984 میں گجرات میں ہوا، کچھ عرصہ گوجرانوالہ میں بھی خدمات انجام دیں۔ اکتوبر 1988میں مجھے اپنی مادر علمی ایف۔سی کالج لاہور میں پڑھانے کا موقع ملا۔ یہ ایک بڑا اعزاز تھا کہ جہاں میں طالبعلم تھا وہیں استاد کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔ بعد ازاں اپنے پہلے کالج اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں 21برس تک تعینات رہا اور تدریس کے ساتھ ساتھ مختلف انتظامی عہدوں پر کام کیا۔یکم دسمبر 2016سے پرنسپل دیال سنگھ کالج لاہور کے طور پر خدمات کا آغاز کیا اور اس عظیم ادارے کی بہتری اور اس کے طلبا کی نشو و نما کے لیے اپنی بساط اور وسائل سے بڑھ کر کام کرانے کی کوشش کی۔

س3: دیال سنگھ کالج میں آپ کی توجہ کن امور پر مرتکز تھی؟

ج: میری کوشش رہی کہ تمام پہلوؤں پر کام کیا جائے۔ بنیادی کام طلبا اور والدین کی اس کالج پر اعتماد کی بحالی تھا۔ تعلیم دشمن عناصر کو کالج سے دور رکھنا، طلبا میں نظم و ضبط کا خصوصی فروغ، ادارے میں صحت مندانہ سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی یہ سب ایسے امور تھے جن پر روز اول سے توجہ رہی۔طلبا اور اساتذہ کے تعاون اور محنت کی بدولت میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہوں۔

س4: آپ نے تعلیمی سرگرمیوں میں بہتری کے لیے کیا لائحہ عمل ترتیب دیا؟

ج: اس سلسلے میں پہلا قدم تدریسی عمل کے بلاتعطل جاری رہنے کو یقینی بنانا تھا۔ میرے رفقا کار نے اس حوالے سے میری ہدایات پر عمل کیا۔ سٹاف نے کلاس سے باہر اور کلاس روم کے اندر ہمارے طلبا کی رہنمائی کی اور تعلیمی ماحول کو بہتر کیا۔ میں نے نظم و ضبط کی پابندی کے لیے عملی اقدامات کیے۔ اس سلسلے میں ان طلبا کی حوصلہ شکنی کی جو وقت کے پابند نہ تھے اور وہ جن کو کلاسز کے باہر پایا جاتا تھا۔ اس سے کالج کی فضا میں بہت بہتری آئی۔دیال سنگھ کالج کی کھوئی ہوئی ساخت کو بحال کرنا میرا خواب تھاجس کی تکمیل اور تعبیر کی طرف میں نے اپنا سفر دن رات جاری رکھا اور اس کے ثمرات آنا شروع ہو گئے ہیں۔

س5: آپ ان ثمرات کے حوالے سے ہمیں آگاہ کرنا چاہیں گے؟

ج: جی ہاں! کیوں نہیں؟ کسی بھی کالج یا کسی بھی ادارے پر والدین اور طلبا کے اعتماد کی ایک اہم دلیل اس کالج میں کالج میں داخلوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ میرے ادارے کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلے گا کہ دیال سنگھ کالج میں داخلوں کی تعداد تین سال میں دوگنا ہو چکی ہے۔ دوسرا اہم پیمانہ ادارے کے نتائج ہوتے ہیں، گزشتہ برس ہمارے کالج کے طالب علم عبدالرحمان نے لاہور بورڈ میں پانچویں پوزیشن حاصل کر کے ہمارا سر فخر سے بلند کیا۔ اس کے علاوہ گزشتہ کئی برس میں پہلی بار ہمارا گریجوایشن کا رزلٹ یونیورسٹی کے رزلٹ سے بہتر تھا۔ یہ نتائج بہت خوش آئند ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ میرے لگائے ہوئے اس پیڑ پر پھل پھول ضرور لگیں گے۔

س6: اس بہتری پہ اپنے طلبا اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی تو ضرور کی ہو گی؟

ج: میں سمجھتا ہوں ادارے کا سربراہ اگر اپنے طلبا اور اساتذہ کو اپنی اولاد کی طرح محبت دے گا تو یقیناََ کارکردگی میں بہتری آئے گی۔ اسی سال کے آغاز پر ہم نے ایک تقریبِ تقسیم انعامات منعقد کی۔ اس تقریب میں کالج کے ہونہار طلبا میں تعریفی اسناد اور نقد انعامات تقسیم کیے۔ان میں ایف۔ ایس۔ ای میں پانچویں پوزیشن حاصل کرنے والے طالبعلم کو پچاس ہزار کا خصوصی انعام بھی شامل تھا۔ دیگر طلبا میں بہترین کارکردگی دکھانے والوں کو مجموعی طور پر اڑھائی لاکھ روپے کے نقد انعامات، شیلڈز اور اسناد دی گئی ہیں۔ میں نے ان تمام اساتذہ کو بھی تعریفی اسناد اور اعزازی شیلڈز دیں جنھوں نے ان طلبا کی بہترین کارکردی میں اپنا کردار ادا کیا۔وہ تمام ملازمین جنھوں نے کالج میں کسی بھی طرح بہتری لانے میں محنت کی، میں نے ان کی حوصلہ افزائی اور پذیرائی کی۔

س7: لگتا ہے آپ کالج کی تز ئین و آرائش میں بہت توجہ دیتے ہیں؟

ج: جی! یہ بات بالکل درست ہے۔ میرے کالج میں آنے والے بچے اس دھرتی کے نونہال ہیں اور میرے لیے پھولوں کی طرح ہیں۔میں یہی چاہتا تھا کہ ان کے لیے صاف ستھرانکھرا ہوا اور معطر ماحول ہو۔کالج میں داخل ہونے والاہر فرد پہلی نگاہ ان پھولوں اور سرسبز و شاداب سبزہ زاروں پر ڈالے۔ میری طبیعت یوں بھی خوشبوؤں اور رنگوں سے لگاؤ رکھتی ہے۔جمالیاتی ذوق کی تسکین اور تربیت کی خاطر باغبانی اور کالج کی صفائی ستھرائی اور تزئین و آرائش پر میری خصوصی نظر رہی۔میں نے ہمہ قسم پودے اور پھولوں کی مختلف انواع اپنی نگرانی میں کاشت کروائی ہیں جن میں سے کافی سارے نشوونما پا کر میرے کالج کی خوبصورتی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

س8: خوب پروفیسر صاحب! بچوں کی ذہنی اور فکری نشوونمااور ادبی ذوق ان دنوں نظر انداز کی جارہی ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں؟

ج: میں آپ سے جزوی طور پہ متفق ہوں۔ ایسے ادارے جن کا مقصد صرف بچوں کو نمبرز کی ریس میں گھوڑا بنا کر دوڑانا ہے ہو اس پہ خاص توجہ نہیں دیتے جس سے معاشرہ فہم و فراست سے خالی میکانکی سوچ کے حامل افراد سے بھرتا جا رہا ہے۔ میں اس کے برعکس منصوبہ بندی کے ساتھ آیا تھا۔ میرے کالج میں طلبا کے لیے بیشمار مشاعرے، محافل نعت و قرأت، میلاد کانفرنس، محرم الحرام کے حوالے سے سیمینار، سالانہ شاہ حسین کانفرنس، کوئز پروگرامز، اولیا کانفرنس، سماجی، معاشی اور معاشرتی موضوعات پہ تقریبات منعقد ہوتی رہی ہیں جن میں ملک کے نامور شعرا، مذہبی سکالرز، ماہرین، تعلیمی دانشوروں اور اساتذہ نے شرکت کی اور طلبا کی فکری نشوونما کے اقدام کو کامیاب کرنے میں میری مدد کی۔

س9: کیا آپ اپنے کالج سے منسوب امیج بدلنے میں خود کو کامیاب سمجھتے ہیں؟

ج: ویسے تو اس کا حتمی فیصلہ میرے طلبا اور ان کے والدین کریں گے مگر اللہ کی خاص مہربانی سے میرے کالج آنے والا ہر فردجب یہاں سے واپسی کیلئے نکلتا ہے تو اپنے ساتھ ایک خوشگوار حیرت بھی لیکر جاتا ہے۔طلبا میں عدم تحفظ کے احساس کو کم کرنے کیلئے ان کے اساتذہ سمیت کالج کا حفاظتی عملہ داخلی دروازوں اور کالج کے ہر بلاک میں ہوشیار رہا ہے۔ غیر متعلق افراد کو کسی بھی صورت کالج میں داخلے کی اجازت نہیں۔ اسی لیے پچھلے تین برسوں میں نہ صرف یہ کہ طلبا بلکہ طالبات کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو رہا ہے۔ میں اس کامیابی پر اللہ کا شکر گزارہوں۔

س10: آپ کا سٹاف روم پنجاب بھر میں اپنی گہما گہمی، علمی گفتگو کے سبب شہرہ رکھتا ہے، آپ کا آنا جانا بھی رہا؟

ج: اگرچہ میری دفتری مصروفیات اس امر میں مانع رہیں، میں پھر بھی گاہے بگاہے وہاں ضرور جاتا ہوں۔ پرنسپل شپ سنبھالنے کے بعدمیں نے اس تاریخی سٹاف روم کی تزئین نو اور آرائش کا کام ترجیحی بنیادوں پر کیا جس سے اس کی رونقیں دوبالا ہو گئیں۔ یہی نہیں بلکہ دفتری عملے کیلئے مختص دفاتر میں بھی اسی طرز سے تبدیلی کی اور عملے کو نئے کمپیوٹرز بھی فراہم کیے تا کہ فدتری امور کی انجام دہی خوشگوار ماحول میں ہو۔ لائبریری کی سہولیات کو بہتر کیا اور لیبارٹریز کے ساز و سامان میں اضافہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔

س11: آپ کے کالج کے کھیل کے میدان بھی اتنے ہی آباد رہے؟

ج: اس حوالے سے میں آپ کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے اپنے دور میں سپورٹس کی تمام سرگرمیوں کی مکمل حوصلہ افزائی کی۔ ریگولر کلاسز کے بعد طلبا کو ہر طرح کی سہولیات فراہم کیں کہ وہ مختلف کھیلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ اس سلسے میں کالج گراؤنڈ اور کھیلوں کا سامان ان کے لیے ہمہ وقت دستیاب رہا۔ پچھلے دو برس مسلسل کالج کی سالانہ سپورٹس کا انعقاد کیا گیا جس میں ہمارے کالج کے طلبا اور اساتذہ نے بہت شوق سے بڑھ چڑھ کے حصہ لیا اور ان کو یادگار بنایا۔

س12: کیا آپ کے کالج کا سالانہ رسالہ بھی چھپتا ہے؟

ج:گزشتہ برسوں میں کسی قدر تعطل کے ساتھ کالج کا رسالہ شائع ہوتا تھامگر میں نے اس کی اشاعت میں خاص دلچسپی لی اور بروقت معیاری رسالہ دیالین کے نام سے شائع کیا جس سے کالج کے موجودہ و سابقہ طلبا اور اساتذہ نے پذیرائی دے کر میری اس کاوش کی تحسین کی۔

س13: آپ اس کالج کے مستقبل کے بارے میں کچھ کہیں گے؟

ج: جی! آپ کویہ جان کر خوشی ہو گی کہ میرے کالج میں پانچ سے آٹھ مضامین میں بی۔ایس پروگرام کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ اس سے پہلے ایف۔ایس۔سی، آئی۔سی۔ایس، آئی۔ کام، ایف۔ اے، بی۔اے، بی۔ایس۔سی، بی۔کام، ایم۔اے انگلش، اردو، سیاسیات اور ایم۔ایس۔سی میتھ کے طلبا یہاں زیر تعلیم ہیں۔ مجھے کامل یقین ہے کہ میرے کالج کے طلبا اور اساتذہ کی محنت سے ادارہ اپنے کھوئے ہوئے وقار اور معیار کو ضرور حاصل کرے گا۔

س14: ہمارے قارئین کے لیے کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟

ج: بس اتنا کہوں گا کہ سیکھنے کا عمل کبھی مت روکیں۔ والدین اور اساتذہ کی دعائیں حاصل کریں، خلق خدا سے محبت کریں اللہ ہر طرح سے آپ کا مدد گار رہے گا۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 1


loading...