ساختیاتی تنقید کے حوالے سے لیکچر اور کلاس ایکٹیویٹی سیمینار

ساختیاتی تنقید کے حوالے سے لیکچر اور کلاس ایکٹیویٹی سیمینار

  



اعلیٰ تعلیمی سطح پر سوال وجواب، تدریسی مکالمہ، نامعلوم سے معلوم کی طرف جانا نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ کسی بھی سطح پر تدریسی عمل بغیر طلبہ وطالبات کے سرگرم شمولیت کے زیادہ فروٹ فل یا فائدہ مند ثابت نہیں ہوسکتی۔

اب نیا دور ہے جہاں کلاس روم ایکٹویٹی صرف پروفیسر کے بولنے تک محدود نہین رہی، بلکہ ہر اسکالر یا طالب علم کو بساط بھر اپنے حصے کی فعالیت دکھانا ضروری امر ہے۔

ایم اے کی سطح پر تدریس کے دوران مثبت نتائج کے لئے اسکالرز کی توجہ اور لیکچر سے دلچسپی نہایت ضروری ہے اس میں کوئی بھی دورائے نہیں رکھتا۔

گزشتہ دنوں پوسٹ گریجویٹ کالج بھکر میں ایم اے اردو کے طلبہ وطالبات نے خدائے بزرگ وبرتر کے نام سے تدریسی ایکٹیویٹی کا آغاز کیا۔

سب نے ساختیات کی تدریس کے دوران مقدور بھر سرگرمی سے حصہ لیا۔

چھوٹے چھوٹے سوالات کے ذریعے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا۔

لیکچر کے آغاز میں ابتدائی معلومات کو ممکن بنانے کے لئے فرڈی نینڈ ڈی ساسر کے بارے میں اور اس کی جدید لسانی خدمات کے بارے میں بات سے معلومات کو آگے بڑھایا گیا۔

فرڈی نینڈ ڈیس اسر 26نومبر 1857ء کو جنیوا،سوئٹزر لینڈمیں پیدا ہوا۔اس کے والد کا نام ہنری فریدرخ سوسیئرتھا۔ سوسئر نے 22فروری 1913ء کو وفات پائی۔

ڈی ساسر کی پیدائش کو یاد رکھنے کے لئے برصغیر کی جنگ آزادی کا سن 1857ء اہمیت کا حامل ہے جسے سب یاد رکھ سکتے ہیں۔کیونکہ ہمارے لئے 1857ء کا سن یاد رکھنا کوئی بڑی بات نہیں۔

طلبہ وطالبات نے مختلف سوالاے کے نتیجے میں ڈی ساسر کی کتابوں کے نام گنوائے جو کہ ان کی ڈی ساسر سے دلچسپی کو ظاہر کرتے ہیں۔

کورس اِن جنرل لینگوسٹکس۔

(course in general linguistics)،

رائٹنگز اِن جنرل لنگوسٹکس

(writings in general linguistics)،

میموری سر لے سسٹم

(memoire sur le systom)،

پریمئر کورس ڈی لنگوسٹکس

ڈیکسیم کورس ڈی لنگوسٹکس، جیسی کتابیں شامل ہیں۔

21 سال کی عمر میں ڈی ساسر کی کتاب memoire sur le systom کے نام سے منظر عام پر آئی۔اس کتاب میں انہوں نے انڈیو یورپین زبانوں میں واول سسٹم کے حوالے سے کام پیش کیا۔اس کے بعد اس نے سنسکرت زبان کے حوالے سے کام کیا۔فروری1880ء میں اس نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرلی۔ اس کے بعد وہ پیرس چلا گیا جہاں اس نے سنسکرت،گوتھک اور اولڈ ہائی جرمن اور دوسرے موضوعات پر لیکچر دیے۔جب 1891ء میں اسے جنیوا میں پروفیسر شپ ملی تو وہ واپس آگیا۔یونیورسٹی آف جنیوا میں ساسر نے سنسکرت اور انڈویورپین زبانوں پر لیکچر دیئے۔ 1911ء تک اس نے تین مرتبہ عام لسانیات کے کورس پڑھائے۔1880ء اور 1890ء میں ساسر نے کئی بار کوشش کی کہ عام لسانیات کے مواد پر کتاب لکھی جائے۔اس نے انگریز، جرمن اور فراسنیسی کے علاوہ یونانی اور اطالوی زبانیں سیکھیں۔

ڈی ساسر کو اچھی طرح زیر بحث لانے کے بعد کلاس کی جی آر نے ڈی ساسر کے نظریہ زبان کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ڈی ساسر کے مطابق زبان افتراق سے وجود میں آئی۔چیزوں کو مختلف نام دے کر انہیں شناخت کے عمل میں آسانی پیدا کی جاتی ہے۔ ایک ہی گھر میں موجود تمام افراد کے نام الگ الگ ہوتے ہیں تاکہ شناخت آسانی سے ممکن ہو۔

ڈی ساسر کی پہچان کے بعد ساختیات پر بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھایا گیا۔

اسکالرجاوید گوندل نے نے ایک سوال کے جواب مین بتایا کہ ساختیہ کسی چیز،اس کے عناصراور ٹھوس اجزا کے بجائے رشتوں (Relations) پر مشتمل ہوتا ہے

جاوید گوندل کی بات درست تھی کیونکہ ساختیات کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ساختیات رشتوں کا ایک نظام ہے جس میں کسی ایک چیز یا اس کے عناصر کے بجائے پورے نظام کو اہمیت دی جاتی ہے۔

اسکالر محمد فیصل نے ساختیات کا تعلق لسانیات، زبان،ا صوات اور حروف والفاظ سے جوڑتے ہوئے اسے زبان کے مطالعہ کا نام دیا۔

ساختیات کا تصورماہر لسانیات ساسر کے نظریہئ زبان کی بنیاد پرقائم ہے۔ ساسر کے خیال میں زبان کی ساخت زبان کے مختلف عناصر کے درمیان رشتوں کا نظام ہے وہ نظام جس کی بنا پر وہ زبان بولی یا سمجھی جاتی ہے، ساسر کے خیال میں ہم پوری کائنات کو نشانات کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہر شے کا ادراک نشانات کی مدد سے حاصل کرتے ہیں۔زبان میں معنی کا نظام بھی نشانات کا محتاج ہے۔انہیں نشانات کی وجہ سے ہر شے کسی نہ کسی رشتے میں منسلک ہے۔انہیں نشانات سے ہم اشیاء کو نام دیتے ہیں اور ان کی الگ الگ پہچان کرتے ہیں۔

محمد آصف نے ڈی ساسر کی بات دہراتے ہوئے کہا کہ ساسر نے زبان کو نشانات کا ایک ایسا علم قرار دیا،جس سے اپنی مرضی کے مفاہیم اور مطالب برآمد کیے جاسکتے ہیں۔اس کے نزدیک ہر حرف ایک نشان ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں یہ حرف کس آواز کے لئے مختص کیا گیا ہے یہ ایک اجتماعی لسانیات کا کام ہے، جس میں معاشرہ اور اس کے افراد ہر دور میں شریک رہے ہیں۔کوئی بھی فن پارہ وجود میں آنے کے بعد اپنے قاری کے رحم وکرم پر ہوتا ہے کہ وہ اس کے متن کو کس طرح پڑھتا ہے اور اس سے کیا معانی مراد لیتا ہے۔ تفہیم کے اس سارے عمل میں بنیادی کردار مصنف کے بجائے قاری کا بن جاتا ہے،کیونکہ مصنف تو ادب پارے کی تخلیق کے بعد اس سے الگ ہوجاتا ہے۔

لینگ اور پیرول

یہاں اس موقع پر لینگ اور پیرول کی تعریف کی گئی۔

ادب کے ساختیاتی تجزیہ کی بنیاد ساسر کے لسانی نظریے پر رکھی گئی ہے۔ ساسور نے زبان کو نشانات سے تعبیر کیا تھا۔ادب کے مطالعے میں ساختیات کے اصول اس تعلق پر قائم ہے جو تعلق ساسر نے زبان langueاور تقریر paroleکے درمیان بیان کیا تھا۔

مختلف اسکالرز نے مختلف زبانوں کے نظام کے بارے میں بتایا جن کی بنا پر پیرول یا تکلم ممکن ہوا۔

ساختیات کے پس منظر کے لئے روسی ہئیت پسندی کے بارے میں طالب علموں کو بتایا گیا۔

روسی ہیئت پسندوں (1913ء۔1930ء) نے ادب پارے کو ہیئت کے حوالے سے تجزیہ کرنے کی بات کی۔ وہ ادب پارے کے تشکیلی عناصر اور ادب پارے کی بناوٹ میں دلچسپی رکھتے تھے۔ شکلو وسکی اور رومن جیکب سن روسی ہئیت پسندوں میں زیادہ متحرک تھے، انھوں نے آگے چل کر ساخت کے حوالے سے مطالعے کو زیادہ اہمیت دی۔

یہاں شکلووسکی اور رومن جیکب سن کا تذکرہ بھی ضروری تھا۔شکلووسکی نے شاعری کو زبان کی تعمیر قرار دیا، جس کی وجہ سے ادب کا مطالعہ زبان اور اس کے مختلف پہلوؤں کے پیش نظر کیا جانے لگا۔رومن جیکب سن نے اس قسم کے زبان کے مطالعات میں خاص دلچسپی کا اظہار کیا۔

(جاری ہے)

ایک اسکالر محمد خلیل نے لیوی اسٹراس اور رومن جیکب سن کے تعلق کے بارے مین بتایا: رومن جیکب سن 1921ء میں روس سے چیکو سلواکیہ آگیا اور وہاں سے امریکہ آکر نیویارک میں تدریسی خدمات سرانجام دینے لگا۔ فرانس سے لیوی سٹراس 1941ء میں امریکہ آکر اِسی ادارے میں ملازم ہو گیا۔ وہاں رومن جیکب سن کے نظریات سے وہ متاثر ہوااور فرانس جا کر اس نے ساختیات کی تھیوری دی۔

عمودی اور افقی جہت:

ساسر نے جملے کی افقی اور عمودی جہت کا ذکر کر کے زبان کا ایک بنیادی تصور پیش کیا جسے رومن جیکب سن نے مزید آگے بڑھایا۔اس نے شعریات کے حوالے سے اسے تخلیقی سرگرمی کا حصہ قرارد یا۔یہ دونوں جہتیں ایک دوسرے کی مخالف سمت میں کام کرتی ہیں۔ استعارہ (metaphor) کو وہ عمودی جہت کے حوالے سے بیان کرتا ہے اور(metonymy) کوزبان کی افقی جہت کے حوالے سے پیش کرتا ہے۔ اس کے خیال میں زبان بولتے وقت یا تو افقی جہت کی طرف سفر کرے گی یا عمودی جہت کی طرف۔عمودی جہت میں تشبیہہ کا تعلق ہوتا ہے، جبکہ افقی جہت میں تلازمے کااور ارتباط وانسلاک کا۔عمودی جہت میں استعاراتی لفظ تو بولے جاسکتے ہیں، مگر اس میں افقی جہت موجود نہیں رہتی،یعنی ربط اور انسلاک۔اسی سے وہ ساختیاتی شعریات کو وضع کرتا ہے۔

اس حوالے سے اسکالرز نے عمودی اور افقی کے تصور کو جملوں میں الفاط کے ربط، تشبیہہ ا ور استعارے کے ذریعے واضح کرکے اپنی سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا۔

عمودی جہت میں مشابہت کا تعلق ہے اور جبکہ افقی جہت میں تبدیلی کا ربط ہے۔شاعر جب کوئی شعر کہتا ہے تو بعض اوقات ایک لفظ کی جگہ دوسرے کئی لفظ لگا کر دیکھتا ہے کہ وزن بحر اور خوبصورتی کس سے پیدا ہورہی ہے، ابلاغ اور مدعا کی ترسیل کس لفظ سے ممکن ہے،یہ جہت عمودی یاانتخاب کی جہت ہے، جس میں لفظ کی جگہ لفظ لایا جاتا ہے۔ہر شاعر اپنے کلام میں کم وبیش اس رویے کو اختیار کرتا ہے۔

شعرا ور نثر سے توضیح:

شعری اظہار وبیان استعاراتی ہوتا ہے، جبکہ نثری اظہار وضاحت طلب ہوتا ہے،مگر بعض اوقات نثر کے ساتھ ساتھ شاعری میں بھی وضاحتی پیرایہئ اظہار دیکھنے میں آتا ہے جیسے سکول کے علاوہ طالب علم، کمرہ جماعت،بلیک بورڈ، استاد یہاں ارتباط پایا جاتا ہے، مگر تشبیہہ اور مماثلت نہیں۔

رومن جیکب سن کا ترسیلی نظام:

رومن جیکب سن زبان کے ترسیلی نظام کو یوں بیان کرتا ہے:

ہم اسے اُردو میں یوں پیش کرسکتے ہیں

یہاں ٹیبل آئے گا

یعنی اس کے خیال میں صرف متن ہی اس کی بات کی ترسیل میں کافی نہیں ہے بلکہ اس میں سیاق وسباق، جملوں اور لفظوں کا ربط، مخاطب اور لسانی نظام یعنی تحریر کا ضابطہ بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

لیوی سٹراس اور دوسرے کئی فرانسیسیوں نے ساختیات کے حوالے سے کام کیا،مگر ان میں نمایاں نام اور کام لیوی سٹراس کا ہے، جس نے علم الانسان کے حوالے سے ساختیات میں کام کیا۔

ایک عام مغالطہ:

جہاں تک ساختیات کا تعلق ہے یہ ساخت اور بناوٹ سے جدا ہے۔ عموماًنیا قاری ساخت ہی کوساختیات سمجھ بیٹھتا ہے اور ہئیت اور بناوٹ کے حوالے سے معلومات کو ساختیاتی مواد تصور کرنے لگتا ہے جہاں سے مسائل پیدا ہونا شروع ہوجاتے ہیں ہمارے ہاں لسانیات اور تنقید کے طالب علم کے لئے ساختیات کو سمجھنا شروع سے ذرا سا مشکل رہا ہے۔دراصل ساختیات میں نظام کو اہمیت دی جاتی ہے۔ وہ نظام جس کی وجہ سے مختلف عناصر اس کا حصہ بنے ہوئے ہوتے ہیں۔

زبان بولتی ہے:

یہاں ضروری تھا کہ زبان کے حوالے سے کچھ ماہرین کی رائے دی جائے:

فرائڈ،سوسیو اور درکھیم تینوں نے فرد کی مرکزی حیثیت پر کاری ضرب لگاتے ہوئے اسے محض ایک ذریعہ قرار دیا ہے لہٰذا بقول ان کے جب فرد کوئی حرکت کرتا ہے تو خواہش اسے آلہ کار بنارہی ہوتی ہے۔جب وہ بولتا ہے تو زبان (Langue)اسے ذریعہ بناکر بولتی ہے اس طرح سوسائٹی جو اس کی ذات کے اندر موجود ہے اسے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے،چنانچہ جب ساختیاتی تنقید والوں نے کہا کہ:

زبان بولتی ہے لکھاری نہیں

(Writings Writes not Writers)

وہ دراصل اس بات ہی کا اعادہ کررہے تھے جو مندرجہ بالا تینوں مفکروں نے کہی تھی۔جس طرح عام گفتگو کے پیچھے زبان یعنی (Langue) موجود ہے بالکل اسی طرح ادبی تخلیقات کے بطون میں شعریات، یعنی POETICS موجود ہے جس کے اپنے خدوخال،ایک اپنا اسٹرکچر ہے۔

ادیب جب لکھتا ہے تو شعریت کے اسٹرکچر کے تحت ہی لکھتا ہے۔

پیاز کے چھلکے:

جب ساختیاتی تنقید کسی تخلیق کا تجزیہ کرتی ہے تو نہ تو محض تخلیق کار کے حوالے سے ایسا کرتی ہے اور نہ محض قاری کے حوالے سے،بلکہ تخلیق کو پرت در پرت کھولتی چلی جاتی ہے۔رولاں بارتھ نے اسے پیاز کی مانند قرار دیا ہے جو پرتوں (نظام)کے علاوہ اور کچھ نہیں۔جس طرح پیاز کو پرت در پرت کھولتے چلے جاتے ہیں اُس میں سے کوئی راز یا کوئی معنی برآمد نہیں ہوتے بلکہ ایک کے بعد ایک پرتیں ہی پرتیں کھلتی چلی جاتی ہیں۔

یہاں ایک پیاز کو تجرباتی حوالے سے سامنے رکھ کر اس کے پرتوں کو کھول کر دکھایا گیا۔ اور اس کے پرتوں کے درمیان رشتوں کو دیکھا گیا۔

اس حوالے سے ایک اسکالر محمد وارث نے ڈاکٹر وزیر آغا کی کوٹیشن بیان کی جس میں رولاں بارتھ کے الفاظ کا حوالہ دیا گیا تھا:

”ساختیاتی تجزیہ کوئی مخفی معنی دریافت نہیں کرتا،کیونکہ تخلیق تو پیاز کی طرح ہوتی ہے جو پرتوں (نظاموں) کے ایک عالم کے سوا اور کچھ نہیں ہے، جس کا جسم کسی راز،کسی اصل الاصول سے عبارت نہیں۔وہ کچھ نہیں سوائے پرتوں کے ایک لامتناہی سلسلے کے جو اپنی سطحوں کے علاوہ اپنے اندر کوئی اور شے نہیں رکھتا“۔

رشتوں کا سلسلہ:

ساختیات نے تخلیق کو رشتوں کا ایک ایسا سلسلہ قرار دیا،جس میں معانی کا کوئی خزانہ چھپا نہیں ہوتا کہ جسے پڑھنے والا دریافت کرلے بلکہ معانی کا عمل قاری کی قرأت کے عمل سے پیدا ہوتا ہے۔قاری خود بھی تخلیقی عمل میں شریک ہوجاتا ہے اوروہ فن پارے کی قرأت کے دوران اُن معانی تک پہنچتا ہے جس کی تخلیق وہ قرأت کے عمل سے کرتا ہے۔ایک قاری مختلف اوقات میں جتنی بار تخلیق کی قرأت کرے گا اتنے ہی معانی کے انشراح کا امکان بڑھتا جائے گا۔مختلف قارئین ایک ہی تخلیق سے اپنی اپنی قرأت کے دوران مختلف معانی کی تخلیق کا سبب بن سکتے ہیں۔

مثالیں:

ایک اسکالر محمد عارف نے ایک عام سی مثال کو دہرایا کہ عمر کے ساتھ ساتھ انسانی چہرہ تبدیل ہو جاتا ہے، لیکن زیر سطح چہرے کے خدوخال موجود رہتے ہیں۔

اسکالر محمد واجد نے کہا کہ،اس سے بہتر مثال یہ ہے کہ ندی کا پانی کناروں میں محبوس ہوکر اچھلتا کودتا ہردم تبدیل ہوتا رواں دواں رہتا ہے مگر اس کے بنتے بگڑتے پیٹرن کے اندر ندی کی وہ ساخت سدا موجود رہتی ہے، جس کے مطابق ندی کی اچھل کود کا یہ پیٹرن وجود میں آیا تھا۔

یہان انہیں یہ بتانا ضروری تھا کہ کناروں کا بہرحال ایک وجود ہوتا ہے جب کہ ساختیہ کے کنارے یا کھائیاں غیر مرئی وجود کی حامل ہیں۔

نیوکلیس، مرکزہ:

ساختیات کو سمجھانے کے لئے مزید طبیعات، یعنی فزکس کی بات کی گئی کہ اگرہم جدید طبیعات کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ جدید طبیعات نے مرکزہ کی جگہ پیٹرن کو دے دی ہے جو اصلاً رشتوں یا CONECTIONSسے بننے والی ایک گرہ ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ اب BUILDING BLOCKS ٹھوس مادی وجود کا تصور باقی نہیں رہا، لہٰذا تصویر یہ نہیں ابھرتی کہ اجزاء ایک مرکزہ کل کے گرد طواف کررہے ہیں بلکہ یہ کہ ایک پیٹرن موجود ہے، جس کے تمام حصے آپس میں جڑے ہوئے ہیں اوریہ پیٹرن ہمہ وقت بننے اور جڑنے ٹوٹنے میں مبتلا ہے یعنی حرکی ہے۔

ساختیات کسی ایک پہلو پر غور کرنے کے بجائے کُل کو اہمیت دیتی ہے۔یعنی کلیت کے فارمولے پر عمل پیرا ہے۔ جس طرح جدید طبیعات میں اب نیوکلس، یعنی مرکزہ کی اہمیت کے بجائے پیٹرن پر زور دیا جاتا ہے اسی طرح ساختیات بھی رشتوں کی بات کرتی ہے، جن سے وہ عناصریا اجزاء آپس میں باہم جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔اسی طرح ساختیات تخلیق کی کلیت کے ساتھ مطالعے میں قاری کو بھی تخلیق کا شریک کار قراردیتی ہے۔

اسکالر محمد ممتاز نے کہا کہ ساختیات تخلیق کے تجزیے میں قرأت کو اہمیت دیتی ہے۔

اسکالر عبدالواجد نے کہا کہ ”سوسائٹی کسی مرکزہ کے گرد افراد کے طواف کانام نہیں ہے بلکہ وہ ایک ایسا پیٹرن ہے۔

اسکالر محمد ریاض نے کہا ساختیاتی عمل میں نقاد یا قاری کو خود بھی ایک تخلیقی عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔

ساختیات نے ان سے ہٹ کر ایک نیا تصور دیا کہ نقاد کو نظم یا کسی بھی فن پارے کی ساخت کے اندر سفر کرکے یہ دیکھنا چاہئے کہ نظم یا فن پارے کی معنوی تعبیر کس طرح سے اور کن مراحل سے ممکن ہوسکتی ہے۔ ایک سوال تو نظم کے معنی کا ہے کہ یہ کیا ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ نظم کیسی لکھی گئی ہے ساختیات دوسرے سوال سے بحث کرتی ہے۔نظم کی ساخت کو دریافت کرتے کرتے نظم کے دروبست ہمارے سامنے ابھر آتے ہیں۔(7)

ساختیاتی تجزیہ کسی ادب پارے میں نئے معانی کی دریافت نہیں کرتا معنی کی کوئی نئی تعبیر پیش نہیں کرتا، بلکہ یہ بتاتا ہے کہ کن حالات میں یہ معانی پیدا ہوتے ہیں ہم کسی متن میں مخصوص معانی کن حالات میں پیدا کردیتے ہیں۔وہ عمل کیا ہے؟ جس سے ادب کی مختلف تعبیریں پیدا ہوتی ہیں اور جس کی وجہ سے ادب ایک ادارے کی حیثیت سے قائم ہے،جس طرح زبان کے بولنے والے کے ذہن میں اس زبان کے قواعد محفوظ ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر وہ آوازوں کو مخصوص معانی عطا کرتا ہے اسی طرح ادب کا پڑھنے والا، ادب پڑھ پڑھ کر مختلف نشانیوں کی روایتوں کے مفاہیم کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔(8)

قاری پڑھے جانے والے متن کو ادب کی مختلف اصناف کی صورت میں پہچانتا ہے اور انھیں مخصوص معانی اور شکلیں عطا کرتا ہے۔انفرادی تخلیق سے آگے بڑھ کر وہ تخلیقی روایت سے آشنا ہوتا ہے اسی روایت سے آشنائی اور اسی روایت کی سمجھ بوجھ سے ادب کے امکانات روشن ہوتے ہیں۔

”ساختیات زبان کو ثقافت کے ایک ”طور“ کی طرح دیکھتی ہے۔یعنی زبان ثقافت کی رو سے ہے اور زبان ثقافت کے اندر ہے۔ہر زبان کی ساخت اس کی اپنی ثقافت کی رو سے قائم ہوتی ہے اور اسی ثقافت کے اندر ہی کارگر ہوتی ہے۔مخصوص ثقافت کے بار وہی ساخت نہ صرف بے معنی بلکہ کالعدم ہوجاتی ہے“۔(9)

کوئی بھی مصنف پہلے اپنی بات، مشاہدے اور تجربے کو اپنے فن کے ذریعے پیش کرکے قارئین تک اپنے من کی بات پہنچانا چاہتا تھا، مگر جدید نظریات اور لسانیات نے زبان کو اہمیت دے کر مصنف کے اس منشا اور مقصد کو ختم کرکے رکھ دیا ہے۔

ساختیات ہو یا پس ساختیات یا رد تشکیل، سب میں مصنف کی بنیادی حیثیت پر کاری ضرب لگائی۔اور ان میں مصنف کے بغیر تصنیف کے حوالے سے زبان کے تجزیے پر زو دیا جاتا ہے، یعنی ساختیات تصنیف کے وجود میں آجانے کے بعد مصنف کے کردار اور تصنیف پر اس کے اقتدار کو منہا کرنے پر زور زور

انسانی ڈھانچہ:

یہاں ساختیات کو مزید گہزرائی سئے سمجھانے کے لئے انسانی ڈھانچے کا ماطلعہ اہمیت کا حامل رہا۔اگر ہم انسانی جسم پر غور کریں تو پورے جسم میں بافتوں کا پٹھوں کا ایک جال پھیلا ہوا ہے، اور پورے جسم میں زندگی کی رو، کرنٹ انھیں پٹھوں کے ذریعے رواں دواں ہے، ان پٹھوں کا جو آپس میں تعلق ہے وہ انسانی زندگی اور صحت کے حوالے سے بنیادی اہمیت کی حامل ہے اور یہی ساختیات ہے جو کہ ایک مرکز کے بجائے مختلف عناصر کے جال کے مابین رشتوں پر مشتمل ہوتا ہے۔اسی طرح دماغ بھی پورے جسم، ذہن، سوچ کو خارجی عوامل سے ہم آہنگ کرتازبان کے قائم کردہ نشانات کے ذریعے مختلف چیزوں کو قبول اور رد کرنے کے عمل میں لگا رہتا ہے۔

مقصود حسنی کی کوٹیشن دہراتے ہوئے اسکالر محمد فیاض نے روشنی:

”دماغ رشتوں سے منسلک ہونے کے سبب باہر کی کائنات کو بھی رشتوں کے جال کے طور پر دیکھتا اور پرکھتا ہے۔تاہم یہ مدلول حرف آخر نہیں کہلا سکتا،کیونکہ اسے زیر حوالہ دال کا حقیقی مدلول کہلائے جانے کے لئے دہرائے جانے کے عمل سے گزرنا پڑے گا۔خاموشی سے وابستہ اختراعی تصور اپنی ذات میں محض اختراع کے سوا کچھ نہیں۔

محمد سعید نے ساختیات کی تفہیم کے لئے ڈاکٹر محمد علی صدیقی کی درج ذیل کوٹیشن کو دہرایا۔

”ساختیات جدیدیت کے معروف تقاضوں کے خلاف مطالعہ ئ ادب کا ایک ایسا طریقہ بن چکا ہے، جس میں صرف اقدار اور نظریات ہی نہیں بلکہ الفاظ کے معانی بھی اضافی بن چکے ہیں۔ ساختیات میں سے برآمد ہونے والا نسائی مکتب تنقید ایک لحاظ سے مقصدی ہے کہ وہ ”مرد“ کے گرد گھومنے والی کائنات کے زاویے کے بر خلاف ”عورت“ کے زاویے سے دیکھنا چاہتا ہے“۔

ساختیات ایک ایسا طریق کار ہے، جس میں کسی قسم کے تاریخی فلسفے،اقدار، اخلاق، خیال، کہانی کے بجائے زبان،لسانی اشاروں،صرف ونحو اور لسانی منطق سے جڑے ہوئے نظام کو اہمیت دی جاتی ہے۔اس میں کسی مفہوم کی دریافت یا انکشافِ حقیقت کے بجائے مخصوص انداز اور لگے بندھے سائنسی طریق کار کو اہمیت دی جاتی ہے۔

بعض ادیبوں کی تحریروں کا لطف ان کی رمزیت ہی میں ہو تا ہے اور اگر رمزیت کو چھوڑ کر اس کے کوئی اور معانی لئے جائیں تو تنقید ادب کی تفہیم کے بجائے صرف ایک مخصوص ڈسپلن بن جائے گا جس سے کوئی بھی شخص اپنی مرضی سے اپنے مقصد کے لئے استعمال کرسکتا ہے۔

ساختیاتی مفکرین نے متن کی بنیادی اہمیت، اساسی حیثیت پر زیادہ زور دیا۔متن میں سربستہ رازوں کو جاننے کے لئے متن کا مطالعہ ضروری ٹھہرا۔کہ متن پر قدرت حاصل کرکے متن کے چھپے ہوئے پہلوؤں کو سامنے لایا جائے۔

آخر میں لیکچر کے پوائنٹس کا اعادہ کیا گیا۔اور ساختیات کی تفہیم کے حوالے سے تسلی بخژ نتائج برآمد ہوئے۔

مزید : ایڈیشن 1