عوام کو فیصلہ کرنا ہو گا، جمہوری پاکستان چاہئے یا کٹھ پتلی حکومت 

      عوام کو فیصلہ کرنا ہو گا، جمہوری پاکستان چاہئے یا کٹھ پتلی حکومت 

  



لاہور(آئی این پی)چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ جمہوری پاکستان چاہیے یا کٹھ پتلی حکومت، پاکستانی عوام احتجاج تو دور کی بات اپنی مرضی کی ٹویٹ بھی نہیں کر سکتے کیونکہ وہ غائب ہو جاتے ہیں، جمہوریت بچانے کیلئے ماضی میں تحفظات کے باوجود انتخابی نتائج تسلیم کیے، پیپلزپارٹی کا مطالبہ ہے کہ صاف وشفاف الیکشن کرائے جائیں ورنہ پیپلزپارٹی کا نعرہ ہے کہ انتخاب یا انقلاب، قوم کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ آئندہ کسی سلیکٹڈ کو نہیں مانیں گے،عوام آخری جنگ اور آخری جدوجہد کیلئے تیار ہو جائیں، ضیا اور مشرف کی باقیات کے خلاف ہماری جنگ جاری رہے گی۔رائیونڈ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ لاہور کے کارکنوں کیلئے سپیشل پیغام لے کر آیا ہوں کہ پیپلز پارٹی اس بار 27دسمبر کے بے نظیر بھٹو کی برسی لیاقت باغ راولپنڈی میں منائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان موجودہ وقت میں دہرے راستے میں ہے کہ ہم بے نظیر اور ذوالفقار کا پاکستان بنیں یا ہم سلیکٹڈ اور کٹھ پتلیوں کا پاکستان بنیں، پاکستان کے عوام کو فیصلہ کرنا ہے، ہمیں حقیقی جمہوری پاکستان چاہیے کہ ہم کٹھ پتلی کے غلام بننا چاہتے ہیں، پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ پاکستان اس لئے آزاد نہیں ہوا تھا کہ کسی سلیکٹڈ اور کٹھ پتلی عمران نیازی کے غلام بنیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر نے جمہوریت کیلئے، عوام کیلئے اور عوامی راج کیلئے قربانی دی ہیں، لیکن اب پاکستان میں میڈیا آزاد ہے نہ ہی سیاست آزاد ہے لیکن ہم اقتدار میں آ کر میڈیا کو آزاد کریں گے کیونکہ پاکستانی میڈیا میں دہشتگردوں، اے پی ایس کے قاتلوں، جاسوس کلبھوشن اور بھارتی پائلٹ کا انٹرویو چل سکتا ہے لیکن آصف زرداری کا انٹرویو نہیں چل سکتا۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستانی عوام احتجاج تو دور کی بات اپنی مرضی کی ٹویٹ بھی نہیں کر سکتی ہے، کیونکہ وہ غائب ہو جاتے ہیں، بتایا جائے کہ یہ کس قسم کی آزادی ہے، میں تو حیران ہوں، یہ جمہوریت نہیں ہو سکتی کہ 2018میں بھی صاف الیکشن نہیں ہو سکتے ہوں، پیپلزپارٹی کا احتجاج دھاندلی کے خلاف شروع دن سے جاری ہے، 1998میں بھی سلیکٹڈ کر کے حکومت دلایا گیا تھا، 2018میں بھی سب سے پہلے پیپلزپارٹی نے ہی قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر حکومت کو الیکٹڈ نہیں سلیکٹڈ کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس جمہوریت میں انسان کے حقوق کا تحفظ نہ ہو وہ آمریت ہے، آج کے پاکستان میں عوام آزاد ہیں نہ صحافت اور نہ ہی سیاست،کٹھ پتلی کیخلاف طلبہ احتجاج کرتے ہیں تو ان کیخلاف دہشت گردی اورغداری کے مقدمات بنتے ہیں۔بلاول  بھٹو نے کہا کہ کسان احتجاج کرتے ہیں تو ان کیخلاف دہشت گردی کے مقدمات دائر ہوتے ہیں، یہ کیسا انصاف ہے۔ ملکی معیشت کسی امپائر یا کٹھ پتلی کی مرضی سے نہیں عوام کی مرضی سے چلے گی، مزدوروں، کسانوں اور غریبوں کے معاشی قتل پر خاموش نہیں رہ سکتے۔حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری  نے کہا کہ آپ بھی مشرف کی طرح دوسرے کی ڈکٹیشن پر خارجہ پالیسی بنا رہے ہیں، بھٹو شہید نے پھانسی قبول کرلی لیکن ایٹمی پروگرام نہیں روکا۔ آصف زرداری کے حوالے سے بلاول کا کہنا تھا کہ انہوں نے اصولوں پر سودے بازی نہیں کی،آصف زرداری اور فریال تالپور رہا ہوگئے، اب پارٹی کا مورال بلند ہے، تاریخی فیصلے آ رہے ہیں، ان کا خیر مقدم کرتے ہیں دوسرے لوگ بھی رہا ہوں گے۔

بلاول بھٹو زرداری

مزید : صفحہ اول