سی پیک میں کوئی چیز چھپانے کیلئے نہیں، قرضہ صرف 4.9ارب ڈالر ہے: اسد عمر 

سی پیک میں کوئی چیز چھپانے کیلئے نہیں، قرضہ صرف 4.9ارب ڈالر ہے: اسد عمر 

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے کہا ہے کہ سی پیک میں کوئی چیز چھپانے کیلئے نہیں ہے، سی پیک کے پاکستان اور چین دونوں کو اب تک مثبت نتائج ملے ہیں،تمام حقائق دنیا کے سامنے کئی دفعہ رکھ چکے ہیں،ہمارے پاس وہم اور گمان کا کوئی علاج نہیں، پاکستان سنجیدہ ڈیٹ ٹریپ کا شکار ہے لیکن یہ ڈیٹ ٹریپ سی پیک کی وجہ سے نہیں ہے، سی پیک کا قرضہ صرف 4.9ارب ڈالر ہے، پاکستان کی ترقی پاکستانیوں کی ذمہ داری ہے نہ کہ چین اور امریکہ کی، سی پیک کے فو ائد کو آگے بڑھانا ہے، گزشتہ روز قو می اسمبلی کی جانب سے سی پیک کے تحت’پارلیمنٹ کے علاقائی ادغام  کو مضبوط  بنانے کے لئے علاقائی مذاکرہ کے عنوان سے تقریب کا انعقاد کیا گیا، تقریب میں سپیکر قو می اسمبلی اسد قیصر، وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، پارلیمانی کمیٹی سی پیک  کے چیئرمین شیر علی ارباب،ارکان پارلیمنٹ، چین،کرغستان، تاجکستان، ازبکستان، قزاقستان کے سفیروں سمیت دانشورں، طلباء، سول سوسائٹی کے افراد نے شرکت کی، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے کہا کہ پاکستان کی سرحدیں دنیا کے دو بڑے ممالک چین اور بھارت سے ملتی ہیں، مغرب میں توانائی کا ذخیرہ رکھنے والے ممالک ہیں، امید ہے کہ بھارت میں جو انتہاء پسند حکومت ہے اس کے بعد کوئی اچھی حکومت آئے گی اور خطے میں امن کیلئے قائم کرے گی، ہمارے خطے میں عالمی طاقتوں کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے جن کا پاکستان شکار ہوا،چین سے سبق سیکھ کر آئندہ طویل المعیاد ترقی کیلئے منصوبہ بندی کرنی چاہیے، پاکستان میں بے شمار معاشی مواقع ہیں، سی پیک کے  فیز ون میں دونوں ممالک کو فائدہ ہوا، اب اس کو آگے بڑھانا ہے۔سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ ہمیں سی پیک کو مزید موثر بنانا ہے اور اس کو وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ لنک کرنا ہے تا کہ ہماری معیشت ترقی کرے اور تجارت کو فروغ ملے، سی پیک  ترقی اور امن کی علامت ہے،قومی اسمبلی سی پیک کیلئے ہر حد تک جائے گی،افریقہ کے ممالک کے ساتھ تعاون کے فروغ کیلئے بھی  ایک کمیٹی بنارہے ہیں،سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ سی پیک کے تحت اب چین کی چھوٹی صنعتیں پاکستان میں منتقل ہونی ہیں، رشکئی اقتصادی ٹیسٹ کیس ہے اگر ہم نے صنعتی زونز میں سہولتیں فراہم نہ کیں تو یہ صنعتیں دیگر ممالک میں بھی منتقل ہو جائیں گی جبکہ چین کے پاکستان میں سفیر یاؤ جنگ نے کہاکہ چین سی پیک کے تحت علاقائی ادغام اور تعاون کے فروغ اور سی پیک کی وسطی ایشیائی ریاستوں تک توسیع کی حمایت کرتا ہے،سی پیک کے تحت سب سے زیادہ سرمایہ کاری بلوچستان میں اور گوادر میں ہو رہی ہے،چین کیلئے پاکستان میں کوئی  علاقہ امتیازی حیثیت کا حامل نہیں، سب پاکستان برابر ہے، متوازن ترقی کو سپورٹ کرتے ہیں۔ کرغستان کے سفیر نے کہا کہ سی پیک کے تحت یہ کہا جاتا ہے کہ یہ کاشغر سے گوادر تک کوریڈور ہے،جب ہم پوچھتے ہیں کہ اس کے بعد یہ کوریڈور کہاں جائے گا تو اس کا کسی کے پاس جواب نہیں ہوتا،اس کے بعد یہ کرغستان میں جا سکتا ہے، کرغستان کا فاصلہ پاکستان سے قریب ہے اور یہ پاکستان اور وسطی ایشیاء کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے، اس وقت پاکستان کو برآمدات کرنے کیلئے مصنوعات نہیں ہیں، پاکستان کو جوائنٹ وینچر کر کے اپنی مصنوعات بنا کر وسطی ایشیائی ریاستوں سے یورپ تک فروخت کرنا ہوں گی، تجارت کے فروغ اور معیشت کے بے شمار مواقع موجود ہیں لیکن یہاں لوگ اس سے آگاہ نہیں ہیں، سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، پاکستان کی نجی کمپنی نے پاکستان سے کاشغر تک بس سروس شروع کی ہے اب وہ اس کو کرغستان تک بڑھانے پر غور کررہی ہے۔

اسد عمر

مزید : صفحہ اول


loading...