لاہور ہائیکورٹ نے وکلاء اور ڈاکٹروں میں تنازع کے حل کیلئے 8رکنی کمیٹی تشکیل دیدی 

      لاہور ہائیکورٹ نے وکلاء اور ڈاکٹروں میں تنازع کے حل کیلئے 8رکنی کمیٹی ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس سید مظاہرعلی اکبر نقوی اور مسٹر جسٹس سرداراحمد نعیم پر مشتمل ڈویژن بنچ نے وکلاء وڈاکٹرز کے تنازع کے حل کے لئے 8رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے،جس میں وکلاء اور ڈاکٹروں کے 4،4نمائندے شامل ہوں گے۔فاضل بنچ نے وکلاء کی گرفتاریوں اور ان کے خلاف مبینہ انتقامی کارروائیوں کے خلاف دائر درخواستیں نمٹاتے ہوئے حکم دیا کہ کالے کوٹ کی تذلیل نہ کی جائے اور گرفتاروکلاء کو عدالتوں میں منہ پر غلاف چڑھا کر پیش نہ کیا جائے۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، آئی جی پولیس اور ہوم سیکرٹری کی طرف سے عدالت کو یقین دہانی کرائی گئی کہ گرفتار وکلا ء کے ساتھ قانون کے مطابق برتا ؤہوگااوروکلاء برادری کے خلاف کوئی غیرقانونی اقدام نہیں کیاجائے گا،فاضل بنچ نے وکلاء نمائندوں،پی آئی سی کے سربراہ اورایم ایس کوچیمبر میں طلب کرکے سمجھایا کہ معاملے کو افہام وتفہیم سے حل کیا جائے اور اسے طول نہ دیا جائے،جس سے فریقین نے اتفاق کیا، عدالت نے قرار دیا کہ وکلاء اور مقامی انتظامیہ اس بات پر متفق ہیں کہ جن افراد نے حملہ کیا ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔وکلاء کی طرف سے مفاہمتی کمیٹی کے لئے لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر حفیظ الرحمن چودھری، سابق صدور پیر مسعود چشتی،اصغر گل اور پنجاب بارکونسل کے وائس چیئرمین شاہ نواز اسماعیل گجر کے نام دے دیئے گئے ہیں،لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور دو وکلاء کی طرف سے دائر ان درخواستوں کی سماعت شروع ہوئی تو عدالتی حکم پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب،آئی جی پولیس اور ہوم سیکرٹری کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے،فاضل جج نے آئی جی پنجاب کو مخاطب کرکے کہا کہ ہسپتال پرحملہ بدقسمتی ہے،وکلاء ڈیڑھ گھنٹے تک سڑکوں پر رہے،انہیں کیوں نہیں روکا گیا؟ پولیس اپنی ناکامی تسلیم کرے،فاضل جج نے حکم دیا کہ جو واقع میں ملوث نہیں ان کو تنگ نہ کیا جائے اور جو شامل ہے ان کو خمیازہ بھگتناچاہیے،آئی جی نے کہا کہ پولیس نے جگہ جگہ وکلاء کوروکنے کی کوشش کی اور اس دوران وکلاء بھی پرامن رہے،ہم نے چائنہ چوک میں روکنے کی کوشش کی، وکلاء نے کہا کہ ہم پْر امن طریقے سے جا رہے ہیں،جو افراد موقع سے پکڑے گئے صرف ان کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی گئی، فاضل جج نے آئی جی سے کہا کہ کالا کوٹ کوئی گالی نہیں ہے،،اس شخص کے بارے میں بات کریں جس نے اس کی توہین کی ہے، سب کو ایک رسی سے نہ باندھیں، جو لوگ ملوث ہیں ان کے ساتھ ہم نہیں ہیں، ملوث افراد کے خلاف کارروائی کریں لیکن جو وکلاء ہیں اس میں ملوث نہیں ان کو تنگ نہ کریں،وکلاء کی طرف سے محمد احسن بھون نے کہا کہ ریس کورس میں بیٹھے ہوئے وکلاء کو بھی گرفتارکرلیاگیا،آئی جی نے عدالت کو بتایا کہ میرے والد خود قانون دان تھے اور میں خود پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہوں، جس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا پھر تو آپ پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے،فاضل جج نے کہا کہ ویانا کنوکنشن کے مطابق جنگ میں بھی ہسپتال پر حملے سے روکا گیا ہے،ہسپتال کے سامنے کوئی ہارن نہیں بجا سکتا،ہسپتال تو ایسی جگہ ہے جہاں مریضوں پر عبادت بھی ساقط ہو جاتی ہے،احتجاج کرنے کی اجازت کیسے ہو سکتی ہے،ایڈووکیٹ جنرل نے کہا پولیس نے وکلاء کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کا استعمال کیا،جس پر عدالت نے کہا کہ کیا وہاں آنسو گیس چلانی چاہیے تھی؟جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے طنزاًکہا کہ پولیس نے وہاں آنسوگیس چلا کر قوم پر بڑا احسان کیا،وکلاء نے احسان کیا کہ ہسپتال پرحملہ کردیا،انتظامیہ اور پولیس نے احسان کیا کہ وہاں آنسو گیس چھوڑ دی،ایک موقع پر فاضل بنچ نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل صاحب آپ انہی لوگوں کو برطانیہ بھیج دیں،یہ وہاں قانون کی مکمل پاسداری کریں گے،عدالتی استفسار پر ہوم سیکرٹری مومن آغا نے بتایا کہ تین مریض اس واقعہ کے دوران جاں بحق ہوے عدالتی استفسار پر ہوم سیکرٹری نے بتایا کہ ماسک اتارنے والی بات کی تصدیق نہیں کی جا سکتی،البتہ جب حملہ ہوا تو ایک عورت کی جان بچانے کی کوشش کی جا رہی تھی لیکن اس حملے کے بعدڈاکٹر بھاگ گئے،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایک طرف وکلا نے حملہ کیا دوسری طرف پولیس نے آنسوں گیس پھینکی،یہ انتظامیہ کی ناکامی ہی تو ہے۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے آئی جی سے استفسار کیا کہ وکلاء کو چہروں پر نقاب چڑھا کر کیوں پیش کیا گیا؟ کیا کوئی شناخت پریڈ کروانی ہے؟ جو لوگ یہاں کھڑے ہیں وہ اس ریلی میں موجود ہی نہیں تھے،فاضل جج نے مزید کہا کہ عدالت میں ہمارے سامنے کھڑے وکلاء پی آئی سی جا کر معافی مانگ کر آئے، معافی مانگنے والے وکلاء کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا گیا،چہروں پر نقاب چڑھا کر پیش کرنا نہیں بنتا، سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے تو پھر شناخت پریڈ کی کیا ضرورت ہے؟آئی جی نے کہا ہم قانونی تقا ضے اور تفتیش کے پیرا میٹرز کو پورا کر رہے ہیں،جن لوگوں کے چہروں پر نقاب چڑھائے وہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں نہیں ہیں، جس پر جسٹس مظاہر نے ریمارکس دیئے کہ پھانسی دیتے ہوئے یہ کام کرتے ہیں، جو آدمی موقع سے پکڑا گیا اس کی شناخت پریڈ کی کیا ضرورت ہے؟جسٹس مظاہر علی اکبر نے آئی جی سے پوچھاکہ کیا آپ کو اس واقعہ کا پس منظر پتہ ہے؟ جس پر آئی جی پولیس نے کہا ہمیں تو ایک حادثے کا پتہ ہے جس میں پیرا میڈیکس کا تنازع ہوا، عدالتی استفسار پرہوم سیکریٹری نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو 10، 10 لاکھ روپے دیئے گئے،عدالت نے کہا آج کے دور میں اتنے پیسوں کا کیا بنتاہے،10لاکھ بہت کم ہیں،فاضل جج نے ہوم سیکریٹری سے کہا کہ یہاں پولیس والوں کے ساتھ کیا کچھ ہوتا ہے،اس پر آپ نے کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا،ایک موقع پر مسٹر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ میڈیا یکطرفہ رپورٹنگ نہ کرے،کالے کوٹ کی تضحیک نہ کی جائے،ان کی بات کریں جنہوں نے کالے کوٹ کی توہین کی ہے،وکلاء کی طرف سے محمد احسن بھون نے کہا کہ اس معاملے کو حل ہونا چاہیے،ڈاکٹروں اور وکلاء پر مشتمل کمیٹی بنا دی جائے جس پر فاضل بنچ نے کہا کہ ڈاکٹروں کوبھی سننا چاہیں گے،عدالت نے کہا کہ 20منٹ بعد وکلاء کے 3نمائندے بھی چیمبر میں آجائیں،فاضل جج نے ایڈووکیٹ جنرل کے ذریعے پی آئی سی کے سربراہ اور ایم ایس کو طلب کرلیا،جنہوں نے فاضل جج کے چیمبر میں اپنا موقف بیان کیا،اس موقع پر ہوم سیکرٹری اورآئی جی پولیس بھی چیمبر میں موجود تھے،جس کے بعد 8رکنی مصالحتی کمیٹی بناتے ہوئے فاضل بنچ نے درخواست نمٹا دی۔ دریں اثناء معلوم ہواہے کہ وکلاء نے مقدمات سے دہشت گردی کی دفعات خارج کرانے کے لئے سی سی پی او لاہورکودرخوست بھی دے دی ہے۔

کمیٹی تشکیل

لاہور(نامہ نگار،مانیٹرنگ ڈیسک)انسداد دہشت گردی کی عدالت کے ارشد حسین بھٹہ نے سانحہ پی آئی سی واقعہ میں گرفتار 17 وکلا کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت آج 19دسمبر تک ملتوی کردی،گزشتہ روز شناخت پریڈ مکمل نہ ہونے کی صورت میں مقدمہ کا ریکارڈ عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکا جس کے بعد عدالت نے ملزمان کی شناخت پریڈ کے حوالے سے آئندہ سماعت پرتفصیلات طلب کر لی ہیں،کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ملزمان وکلاء کی جانب سے سپریم کورٹ بار کے نائب سدر چودھری غلام مرتضیٰ اور سینئر وکیل مقصود بٹرنے پیش ہوکر موقف اختیار کیا کہ شناخت پریڈ کیلئے تعینات جوڈیشل مجسٹریٹ مطیع الرحمن کا تبادلہ ہو چکا ہے،عدالت ریکارڈ دیکھ کر ضمانت پر فیصلہ سنائے،عدالتی وقت ختم ہونے پر اگر شناخت پریڈ کرنے والے جج نے ڈیوٹی دینے سے انکار کر دیا تو سماعت میں مزید تاخیر ہو گی، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل حافظ اصغر علی، عبدالرؤف وٹو اور وقار عابد بھٹی نے عدالت میں دلائل دیئے،عدالت میں جوڈیشل ہونے والے 17 وکلا نے ضمانت کی درخواستیں دائر کررکھی ہیں،پولیس نے وکلاء کے خلاف مقدمہ نمبر 670/19, 671/19 درج کررکھے ہیں،ملزمان وکلاء جن کی جانب سے ضمانت کی درخواستیں دائر کی گئی ہیں ان میں طیب رسول، علی رضا،عمر غفور،وقاص علی،فہد سلطان،محمد شہباز،شہروز،رانا محمد اسلم،اسد سلمان، قمر شاہد،شاہد جاوید،رجب شریف،محمد شہزاد الحق،ملک طاہر محمود، محمد عثمان،بدر جمال اوربشیر حیدر شامل ہیں۔یادرہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے وکلا ء کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ ایک روز قبل محفوظ کیا تھا جو گزشتہ روز بھی نہیں سنایا جاسکا۔دوسری جانبپی آئی سی واقعہ پر گرفتاریوں اور ہراساں کرنے پر وکلاء نے چھٹے روز بھی ہڑتال کی،وکلا کی ہڑتال کے باعث عدالتی کام مکمل طور رکا ہوا ہے،سائلین بھی عدالتوں سے کیسوں میں تاریخیں لے لے کر پریشان ہو گئے ہیں،مسلسل وکلاء کی جانب سے ہڑتال کی وجہ سے اب تک ہزاروں مقدمات التوا ء کا شکار ہوئے ہیں،بخشی خانے اور عدالتوں کے برآمدے بھی ویران پڑے ہوئے ہیں،عدالتوں میں آنے والے سائلین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وکلاء اور ڈاکٹروں کا معاملہ جلد از جلد حل کروایا جائے۔علاوہ ازیں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر حملے کے دوران پولیس کی گاڑی کو آگ لگانے والے وکیل کی شناخت ہوگئی،سرکاری گاڑی جلانے والے وکیل کی شناخت عاطف بھٹی کے نام سے ہوئی ہے۔

درخواست ضمانت

مزید : صفحہ اول


loading...