خورشید شاہ کی ضمانت پر رہائی، احتساب عدالت کافیصلہ سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج

      خورشید شاہ کی ضمانت پر رہائی، احتساب عدالت کافیصلہ سندھ ہائیکورٹ میں ...

  



سکھر(مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن) پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ پچاس لاکھ روپے کی ضمانت پر رہا، خورشید شاہ کا نیب جے آئی ٹی و دیگر اداروں سے تعاون کرنے اور ملک وقوم کیلئے کام کرتے رہنے کے عزم کا اظہار۔تفصیلات کے مطابق آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں گرفتار سید خورشید احمد شاہ کو پچاس لاکھ روپے کے پی آر بانڈز پر رہائی مل گئی۔ سیشن کورٹ سکھر نے ان کے وکیل کی جانب سے پی آر بانڈ جمع کرانے کے بعد رہا کرنے کا آرڈر جاری کیا،خورشید شاہ کو احتساب عدالت کے جج امیر علی مھیسر کے چھٹی پر ہونے کے باعث سکھر کی سیشن کورٹ میں سیشن جج سید شرف الدین شاہ کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید خورشید شاہ نے کہا کہ رہائی پر اللہ کا شکر گزار ہوں، اگر ملک میں اسی طرح انصاف ہوتا رہا تو ملک کو ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ جو ہوا ہے اس پر دکھ ضرور ہے کیونکہ گرفتاری سے میری 32 سالہ سیاسی زندگی متاثر ہوئی ہے اب خود چاہتا ہوں کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے میں جے آئی ٹی، نیب و دیگر اداروں سے تعاون کروں گا جو وہ سوالات کریں گے ان کا جواب دوں گا۔انہوں نے کہا کہ نیب نے اگر میری رہائی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے تو مجھے امید ہے ہائی کورٹ بھی یہی فیصلہ کرے گی۔اس موقع پرپیپلز پارٹی کے جیالوں نے جشن منایا اور شہریوں میں مٹھائی تقسیم کی گئی۔دوسری جانبقومی احتساب بیورو نے خورشید شاہ کو رہا کرنے کا فیصلہ سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ خورشید شاہ کو رہا کرنے کا فیصلہ خلاف قانون ہے، خورشید شاہ کی رہائی سے متعلق نیب سکھر عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

خورشید شاہ/چیلنج

مزید : صفحہ اول


loading...