مقبوضہ کشمیر، پولیس کاصحافیوں پر مبینہ تشدد، معیشت کو 4ماہ میں 178ارب کا نقصان

مقبوضہ کشمیر، پولیس کاصحافیوں پر مبینہ تشدد، معیشت کو 4ماہ میں 178ارب کا نقصان

  



سرینگر،واشنگٹن(نیوزایجنسیاں)سرینگر میں واقع اسلامیہ کالج میں شہریت ترمیم بل کے خلاف کالج طلبا کی جانب سے کیے گئے احتجاج کے دوران میڈیا سے منسلک دو مقامی صحافیوں انیس زرگر اور اذان جاوید کو پولیس کے بلاجواز تشدد کا سامنا کرنا پڑا،صحافیوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ خدمات انجام دینے گئے تھے لیکن سٹیشن ہاؤس آفیسر راشد خان نے ان کے ساتھ مار پیٹ کی۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں موجودہ صورتحال کے پیش نظر صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ خدمات انجام دینے میں کافی مشکلات ہو رہی ہیں اور آئے روز بلاجواز تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔دوسری جانبمقبوضہ کشمیر میں کشمیر ایوان صنعت وتجارت نے کہاہے کہ 5اگست کو بھارتی حکومت کی طر ف سے فوجی محاصرہ کئے جانے کے بعد کشمیر کی معیشت کو178ارب 78کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق کے کشمیر ایوان صنعت وتجارت نے لاک ڈاؤن کی وجہ سے شعبوں کے لحاظ سے نقصان کی ایک جامع رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہاکہ یہ تخمینہ 2017-18میں جموں وکشمیر کی مجموعی پیداوار کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔علاوہ ازیں امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ نے انٹرنیٹ کی معطلی پرنظررکھنے والے گروپ Access Now کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ کی معطلی جوآج 136ویں دن میں داخل ہوگئی ہے، کسی بھی جمہوریت میں طویل ترین معطلی ہے۔ اخبار نے گروپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ تمام مواصلاتی ذرائع کو معطل اور سیاسی رہنماؤں کو نظربند کیاگیا۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ کشمیر ی عوام آن لائن تجارت نہیں کرسکتے یہاں تک کہ وہ یہ مضمون بھی نہیں پڑھ سکتے۔ رپورٹ کے مطابق دسمبر کے اوائل میں کشمیری واٹس ایپ سے غائب ہونا شروع ہوگئے کیونکہ 120دن تک غیر فعال رہنے کے بعد اکاؤنٹس خود بخودڈیلیٹ ہوجاتے ہیں۔ اظہار رائے کی آزادی کے بارے میں اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی ڈیوڈ کایا نے اس معطلی کو ظالمانہ اور اجتماعی سزا سے بھی بد تر قراردیا ہے۔ ایشیا پیسیفک کے ڈائریکٹر رمن جیت سنگھ چیمہ نے کہا کہ ایک بڑی آبادی کو اتنے طویل عرصے تک انٹرنیٹ تک رسائی سے محروم کرنا ایک جمہوریت کیلئے غیر معمولی واقعہ ہے۔انہوں نے کہاکہ انٹرنیٹ کی موجودہ معطلی نے آن لائن تجارت کو مفلوج کررکھا ہے۔ ”کشمیر بکس“مقامی مصنوعات اور دستکاری کو 50سے زائد ملکوں میں پہنچانے والی ای کامرس کی ایک معروف مقامی کمپنی ہے اور 5اگست کے بعد یہ نہ تو نئے آرڈرز لے سکی اور نہ پرانے وعدے پورے کرسکی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی معطلی سے مریضوں کا علاج بھی مزید مشکل ہوگیا ہے۔ سرینگر میں ایک معروف یورالوجسٹ عمر سلیم نے کہاکہ انہیں افسوس ہے کہ وہ مشکل معاملہ درپیش ہونے کی صورت میں اپنے ساتھی ڈاکٹروں سے مشورہ نہیں لے سکتے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر

مزید : صفحہ اول


loading...