حمزہ شہباز کی ضمانت کیلئے درخواستوں پر نیب سے جواب طلب، وکلاء کا ہائیکورٹ بینچ پر اظہار اعتماد

        حمزہ شہباز کی ضمانت کیلئے درخواستوں پر نیب سے جواب طلب، وکلاء کا ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائی کورٹ کے مسٹرجسٹس علی باقر نجفی اور مسٹر جسٹس انوارالحق پنوں پر مشتمل ڈویژن بنچ نے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کی نیب مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر 13جنوری کیلئے نوٹس جاری کرتے ہوئے نیب سے جواب طلب کرلیا۔دوران سماعت حمزہ شہباز کی طرف سے ان کے وکلاء نے فاضل بنچ پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔تفصیلات کے مطابق رمضان شوگرملز اورمنی لانڈرنگ کے نیب مقدمات میں حمزہ شہباز کی طرف سے دائر ضمانت کی درخواستوں کی سماعت شروع ہوئی تو بنچ کے سربراہ مسٹر جسٹس علی باقر نجفی نے درخواست گزارکے وکلاء سے کہاکہ ان کے دو سوال ہیں،ایک یہ کہ حمزہ شہباز کی ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواست کی ایک دوسرے بنچ نے سماعت کی تھی اوردوسرا یہ کہ ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواست کی سماعت کے دوران حمزہ شہباز نے میرے بنچ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا،کیاآپ نے اس معاملے پر اپنے موکل سے ہدایات لے رکھی ہیں؟اس پر حمزہ شہباز کے وکلاء سلمان اسلم بٹ اورامجد پرویز نے کہا کہ ہمیں اس عدالت پر مکمل اعتماد ہے،انہوں نے فاضل بنچ کو بتایا کہ دوسرے بنچ سے درخواست ضمانت پر فیصلہ نہیں ہوا تھا بلکہ حمزہ شہباز نے وہ درخواست واپس لے لی تھی،منی لانڈرنگ کیس کے حوالے سے سلمان اسلم بٹ ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ حمزہ شہباز کو سیاسی خاندان سے تعلق ہونے کی بناپر سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، غیر سیاسی قوتیں نیب سمیت دیگر تحقیقاتی ایجنسیوں کوان کے خلاف استعمال کر رہی ہیں، حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کیس انہیں گرفتارکرنے کے لئے بنایا گیا،نیب نے منی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز کے ملازمین کو ہی بے نامی دار بنا دیا،حمزہ شہباز کو 189 دنوں سے گرفتار ہے، مگر ابھی تک کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا گیا، ملزم کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے نیب آرڈیننس کی دفعہ 18 کو پس پشت ڈالا گیا، حمزہ شہباز کے خلاف کیس میں اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کی بھی خلاف ورزی کی گئی، نیب کو سرے سے ہی منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کا اختیار نہیں، اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ خصوصی قانون ہے جس میں چیئرمین نیب کو مداخلت کا اختیار نہیں، نیب کی تحقیقات 2005 ء سے 2008 ء کے دوران بیرون ملک سے موصول ہونے والی رقم کے گرد گھومتی ہیں، اس دوران حمزہ شہباز کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا،بیرون ملک سے وصول رقم 14 سال پرانی ہے جس کا صرف محدود ریکارڈ موجود ہے، درخواست میں حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کو غیر قانونی و غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی ہے،درخواست میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ درخواست کے حتمی فیصلے تک حمزہ شہباز کو ضمانت پر رہا کیاجائے۔رمضان شوگرملزکیس میں حمزہ شہباز کے وکیل امجد پرویز ملک کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ نیب نے بد نیتی کی بنیاد پر رمضان شوگر ملز میں تحقیقات کا آغاز کیا، نیب نے رمضان شوگر ملز کے معاملے پر متعدد بار انکوائری کی مگر کچھ بھی نہیں ملا، تحصیل بھوانہ میں نالہ عوامی مفاد میں بنایا گیا تھا، صوبائی کابینہ اور صوبائی اسمبلی نے سیورج نالے کی تعمیر کی منظوری دی تھی، حمزہ شہباز کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں، رمضان شوگر ملز میں شریک ملزم شہباز شریف کو پہلے ہی ضمانت پر رہا کیا جا چکا ہے، رمضان شوگر ملز ریفرنس میں فرد جرم عائد ہونے کے بعد حمزہ شہباز کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے، حمزہ شہباز صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہے اور گرفتاری سے ذمہ داریوں کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا ہے، حمزہ شہباز کو بلاجواز جیل میں قید رکھنا آئین کے آرٹیکل 4، 9، 13، 14 اور 25 کی خلاف ورزی ہے، حمزہ شہباز کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔

حمزہ شہباز/درخواست

مزید : صفحہ آخر